مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ کا شانِ ورود اور صحیح مفہوم
اس حدیث کا شانِ ورود خود حدیث میں ہی بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ یمن کے غزوہ میں مولا علی رضی اللہ عنہ کے کچھ ساتھیوں کو آپ رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس شکایت کا اظہار کیا۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ (مسند احمد: ۲۲۹۴۲)
ترمذی میں حدیث ہے کہ شکایت کرنے والوں کی تعداد چار تھی (ترمذی: ۳۷۱۲)۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ یہاں مولا سے مراد دوست اور محبوب ہے اور اس حدیث کا ولایتِ باطنی (یا خلافتِ بلافصل) سے کوئی تعلق نہیں۔
اس حدیث کا یہی شانِ ورود حضرت امام شافعی، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، حضرت ملا علی قاری، قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور حضرت خواجہ غلام فرید وغیرہم علیہم الرحمہ نے بھی بیان فرمایا ہے (الاعتقاد صفحہ ۲۰۳، اشعۃ اللمعات جلد ۴ صفحہ ۴۸۱، مرقاۃ جلد ۱۱ صفحہ ۴۷، تفسیر مظہری جلد ۲ صفحہ ۳۶۹، مقابیس المجالس صفحہ ۹۱۸)۔
اکابرینِ امت اور ائمہ کی وضاحتیں
1۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا مؤقف:
آپ فرماتے ہیں کہ:
"حدیثِ موالات کی اگر سند صحیح بھی ہو تو اس میں ولایتِ علی پر نص موجود نہیں۔ ہم نے اپنی کتاب الفضائل میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا مقصود کیا تھا؟ بات یہ تھی کہ آپ ﷺ نے یمن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو ساتھیوں نے ان کے خلاف کثرت سے شکایت کی، اور بغض کا اظہار کیا، نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھ ان کے خصوصی تعلق اور ان سے محبت کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا اور اس کے ذریعے آپ سے محبت اور دوستی رکھنے کی رغبت دلائی اور عداوت ترک کرانا چاہی، لہٰذا فرمایا مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ اور بعض روایات میں ہے مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، اور اس سے مراد اسلامی دوستی اور آپ رضی اللہ عنہ کی محبت ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایک دوسرے سے عداوت نہ رکھیں..." (الاعتقاد للبیہقی صفحہ ۲۰۲، ۲۰۳)۔
پوری حدیث دیکھیے، امام شافعی کی شخصیت دیکھیے اور پھر ان کی وضاحت دیکھیے ۔ امام شافعی کی سو فیصد تائید اس آیت میں موجود ہے: اَلْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (التوبہ: ۷۱) یعنی تمام مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مولا ہیں۔
نیز امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ان الفاظ کو دوبارہ دیکھیے "حدیثِ موالات کی اگر سند صحیح بھی ہو تو الخ"، گویا امام شافعی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو سرے سے ہی مشکوک بنا ڈالا ہے۔ فرمائیے! کیا فتویٰ ہے آپ کا امام شافعی پر؟
2۔ امام قرطبی علیہ الرحمہ کی تحقیق:
آپ نے تین باتیں لکھی ہیں:
اولاً: یہ حدیث ہی صحیحین کی متفق علیہ حدیث کے خلاف ہے۔
ثانیاً: اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو اس میں مولا بمعنی دوست ہے۔
ثالثاً: اس حدیث کا سببِ ورود وہی حضرت اسامہ کا قول ہے کہ لَسْتَ مَوْلَایَ، یا اس کا سبب ورود منافقین کا طعن ہے رَدًّا لِّقَوْلِهِمْ (تفسیر قرطبی جلد ۱ صفحہ ۳۰۸)۔
فرمائیے! کیا فتویٰ ہے آپ کا امام قرطبی پر؟
امام جزری فرماتے ہیں: رَدًّا عَلَی مَنْ تَکَلَّمَ فِيْهِ (اسنی المطالب صفحہ ۱۵)۔
اب سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ، امام احمد بن حنبل، امام ترمذی، امام شافعی، قرطبی، جزری اور قاضی ثناء اللہ رحمۃ اللہ علیہم جیسی ہستیاں جنہوں نے اس حدیث کا پس منظر اور شانِ ورود بیان کیا ہے انہیں ناصبی کہنا یا اس تحقیق کو ابنِ تیمیہ کی تحقیق کہنا کسی صاحبِ ایمان کا کام نہیں ہوسکتا۔
مزید جلیل القدر محدثین کے اقوال
حضرت امام شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "جو علماء اس کام کے اہل ہیں اور جن پر اس مسئلے کی تحقیق میں اور اس جیسے دوسرے مسائل کی تحقیق میں اعتماد کیا جاتا ہے، ان کے نزدیک اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ: میں جس کا ناصر ہوں، تعلق والا ہوں، محب ہوں اور ولی دوست ہوں، تو علی بھی اسی طرح ہیں" (فتاویٰ الامام النووی صفحہ ۲۶۱)۔
علامہ محب اللہ طبری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: مولیٰ کا معنی دوست ہوتا ہے جو دشمن کی ضد ہے (الریاض النضرہ جلد ۱ صفحہ ۲۲)۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: "یعنی ہم نہیں مانتے کہ یہاں مولا بمعنی حاکم اور والی ہو، بلکہ بمعنی محبوب اور ناصر ہے" (اشعۃ اللمعات جلد ۴ صفحہ ۶۸۰)۔
حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کوٹ مٹھن والے فرماتے ہیں: "یہاں مولا کے معنی سید، سردار، حاکم اور لائقِ امامت کے نہیں بلکہ اس کے معنی ناصر اور محبوب کے ہیں" (مقابیس المجالس صفحہ ۹۲۰)۔
شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: "اسی طرح یہ بھی ابلہ فریبی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلافصل کی دلیل میں خمِ غدیر کی روایت پیش کی جاتی ہے... ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم میں مولیٰ بمعنی دوست ہے دیکھو آیتِ کریم: فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ یعنی اللہ کے محبوب کا دوست اللہ جل شانہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک بندے ہیں" (مذہبِ شیعہ صفحہ ۹۰، ۹۱)۔
قرآن مجید کی اس آیت میں سیدنا جبریل، تمام مؤمنین اور تمام فرشتوں کو مولا کہا گیا ہے، لہٰذا مولا جبریل علیہ السلام، مولا ابو بکر، مولا عمر، مولا عثمان، مولا علی، مولا زید، مولا حسن، مولا حسین رضی اللہ عنہم کہنا اور تمام علماء کو مولانا کہنا سب جائز ہے۔
آیات و احادیث سے تائید
اس مقام پر حضرت سعید بن جبیر، حضرت عکرمہ، حضرت ضحاک اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہم کا قول بھی ملاحظہ کیجیے کہ اس آیت میں صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ سے مراد ابو بکر و عمر ہیں رضی اللہ عنہما (فضائلِ صحابہ: ۹۸، ۱۶۱، مستدرک حاکم: ۴۴۸۹، اسنادہ حسن)۔
اَلَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ کی تفسیر میں امام باقر رضی اللہ عنہ کا فرمان مولا علی کے بارے میں موجود ہے کہ عَلِیٌّ مِّنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی مولا علی بھی مؤمنین میں شامل ہیں (تفسیر ابن جریر، بغوی، ابن کثیر)۔
حدیثِ پاک میں تمام صحابہ کرام کے بارے میں محبوبِ کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے ان سے محبت رکھی پس اس نے میری محبت کی وجہ سے ان کو محبوب جانا اور جس نے ان سے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔"
لفظِ "مولا" کا قرینہ اور لغوی مفہوم
خود اس حدیث میں اَللّٰہُمَّ وَالِ مَنْ وَّالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ سے ولایت کا مفہوم متعین ہو رہا ہے، یعنی اے اللہ جو علی کو مولا بنائے تو اسے اپنا مولا بنا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اسے اپنا دشمن بنا۔ یہاں مولا کا لفظ دشمن کے مقابلے پر استعمال ہوا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں مولا بمعنی محبوب اور دوست ہے نہ کہ مولا بمعنی آقا۔
علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "اس حدیث کا معنی ہے: جس کا میں محبوب ہوں اس کا علی بھی محبوب ہے، اور آپ ﷺ کے الفاظ کا معنی ہے اے اللہ تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے، مولا کا لفظ دشمنی کے مقابلے پر فرمایا گیا ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں مولا بمعنی محبوب ہے" (حاشیہ سندھی بر ابن ماجہ جلد ۱ صفحہ ۱۰۳)۔
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر متعدد روایات میں ہے کہ: اَللّٰهُمَّ اَحِبَّ مَنْ اَحَبَّهٗ وَاَبْغِضْ مَنْ اَبْغَضَهٗ اور بعض روایات میں وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهٗ (اے اللہ جو اسے رسوا کرے تو اسے رسوا کر) اور وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ (جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس طرح کے الفاظ میں تفسیر کی انتہا کر دی گئی ہے۔
ایک فکری نکتہ:
اگر مولا بمعنی آقا لیا جائے تو حضورِ کریم ﷺ تو انبیاء علیہم السلام کے بھی آقا ہیں، تو کیا سیدنا علی کریم تمام انبیاء کے بھی آقا ہوں گے؟ بتائیے آپ کے عقائد سے قدم قدم پر غالی رافضیت لازم آتی ہے کہ نہیں؟
مسند احمد میں یہی حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ یعنی جس کا میں ولی ہوں اس کا علی بھی ولی ہے (مسند احمد: ۲۲۹۴۲ ، ۲۲۹۵۲، اسنادہ صحیح)۔ گویا حدیث کے دوسرے الفاظ نے مولا کا مفہوم خود متعین کر دیا کہ مولا بمعنی ولی ہے، اور ولی دوست کو ہی کہتے ہیں نہ کہ آقا کو۔
حدیثِ پاک میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ اور ان کی والدہ کے لیے دعا فرمائی: "اے اللہ! انہیں تمام مومنوں کا محبوب بنا دے..." (مسلم: ۶۳۹۶)۔
حبیبِ کریم ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: أَنْتَ أَخُوْنَا وَ مَوْلَانَا یعنی تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے مولا ہو (بخاری: ۲۶۹۹)۔ اب کہا کرو: مولا زید رضی اللہ عنہ۔
حاصلِ کلام اور ہمارا مؤقف
اس بحث سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ سوال میں پیش کی گئی حدیث میں مولا بمعنی آقا، مولا بمعنی ولی باطنی یا مولا بمعنی خلیفہ بلا فصل نہیں بلکہ اس سے مراد دوست اور محبوب ہے۔
ہاں مگر اس حدیثِ شریف میں مولا علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہاتھ پکڑ کر تاکیدی حکم فرمانے کا خاص پہلو مولا علی رضی اللہ عنہ کے خصائص میں سے ہے، اور ہم اسے ضربِ حیدری کے پہلے ایڈیشن سے لے کر آج تک ہر ایڈیشن میں پہلے صفحے پر ہی خصائصِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں بیان کرتے آرہے ہیں، بلکہ تفضیلیوں کے دوسرے سوال کے جواب میں بھی ہماری طرف سے اس بات کا اعلان ہر ایڈیشن میں موجود ہے۔ نیز اس حدیث میں بعض لوگوں کی شکایت کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا قیامت تک آنے والی امت کے لیے لزوم بھی ثابت ہورہا ہے۔ کیا بدگمان ٹولا دیکھتا نہیں کہ ہم اس کتاب میں بار بار مولا علی مولا علی لکھ رہے ہیں؟
ثانیاً: مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولایتِ باطنی اور اس کی رفعتوں میں کوئی شک نہیں۔ مگر خلفائے ثلاثہ میں ولایتِ باطنی مولا علی کی نسبت رفیع تر ہے۔ اور اس میں خلفائے ثلاثہ کی یکتائی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ (مسند احمد: ۲۲۹۴۲)
ترمذی میں حدیث ہے کہ شکایت کرنے والوں کی تعداد چار تھی (ترمذی: ۳۷۱۲)۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ یہاں مولا سے مراد دوست اور محبوب ہے اور اس حدیث کا ولایتِ باطنی (یا خلافتِ بلافصل) سے کوئی تعلق نہیں۔
اس حدیث کا یہی شانِ ورود حضرت امام شافعی، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، حضرت ملا علی قاری، قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور حضرت خواجہ غلام فرید وغیرہم علیہم الرحمہ نے بھی بیان فرمایا ہے (الاعتقاد صفحہ ۲۰۳، اشعۃ اللمعات جلد ۴ صفحہ ۴۸۱، مرقاۃ جلد ۱۱ صفحہ ۴۷، تفسیر مظہری جلد ۲ صفحہ ۳۶۹، مقابیس المجالس صفحہ ۹۱۸)۔
اکابرینِ امت اور ائمہ کی وضاحتیں
1۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا مؤقف:
آپ فرماتے ہیں کہ:
"حدیثِ موالات کی اگر سند صحیح بھی ہو تو اس میں ولایتِ علی پر نص موجود نہیں۔ ہم نے اپنی کتاب الفضائل میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا مقصود کیا تھا؟ بات یہ تھی کہ آپ ﷺ نے یمن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو ساتھیوں نے ان کے خلاف کثرت سے شکایت کی، اور بغض کا اظہار کیا، نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھ ان کے خصوصی تعلق اور ان سے محبت کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا اور اس کے ذریعے آپ سے محبت اور دوستی رکھنے کی رغبت دلائی اور عداوت ترک کرانا چاہی، لہٰذا فرمایا مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ اور بعض روایات میں ہے مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، اور اس سے مراد اسلامی دوستی اور آپ رضی اللہ عنہ کی محبت ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایک دوسرے سے عداوت نہ رکھیں..." (الاعتقاد للبیہقی صفحہ ۲۰۲، ۲۰۳)۔
پوری حدیث دیکھیے، امام شافعی کی شخصیت دیکھیے اور پھر ان کی وضاحت دیکھیے ۔ امام شافعی کی سو فیصد تائید اس آیت میں موجود ہے: اَلْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (التوبہ: ۷۱) یعنی تمام مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مولا ہیں۔
نیز امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ان الفاظ کو دوبارہ دیکھیے "حدیثِ موالات کی اگر سند صحیح بھی ہو تو الخ"، گویا امام شافعی علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو سرے سے ہی مشکوک بنا ڈالا ہے۔ فرمائیے! کیا فتویٰ ہے آپ کا امام شافعی پر؟
2۔ امام قرطبی علیہ الرحمہ کی تحقیق:
آپ نے تین باتیں لکھی ہیں:
اولاً: یہ حدیث ہی صحیحین کی متفق علیہ حدیث کے خلاف ہے۔
ثانیاً: اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو اس میں مولا بمعنی دوست ہے۔
ثالثاً: اس حدیث کا سببِ ورود وہی حضرت اسامہ کا قول ہے کہ لَسْتَ مَوْلَایَ، یا اس کا سبب ورود منافقین کا طعن ہے رَدًّا لِّقَوْلِهِمْ (تفسیر قرطبی جلد ۱ صفحہ ۳۰۸)۔
فرمائیے! کیا فتویٰ ہے آپ کا امام قرطبی پر؟
امام جزری فرماتے ہیں: رَدًّا عَلَی مَنْ تَکَلَّمَ فِيْهِ (اسنی المطالب صفحہ ۱۵)۔
اب سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ، امام احمد بن حنبل، امام ترمذی، امام شافعی، قرطبی، جزری اور قاضی ثناء اللہ رحمۃ اللہ علیہم جیسی ہستیاں جنہوں نے اس حدیث کا پس منظر اور شانِ ورود بیان کیا ہے انہیں ناصبی کہنا یا اس تحقیق کو ابنِ تیمیہ کی تحقیق کہنا کسی صاحبِ ایمان کا کام نہیں ہوسکتا۔
مزید جلیل القدر محدثین کے اقوال
حضرت امام شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "جو علماء اس کام کے اہل ہیں اور جن پر اس مسئلے کی تحقیق میں اور اس جیسے دوسرے مسائل کی تحقیق میں اعتماد کیا جاتا ہے، ان کے نزدیک اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ: میں جس کا ناصر ہوں، تعلق والا ہوں، محب ہوں اور ولی دوست ہوں، تو علی بھی اسی طرح ہیں" (فتاویٰ الامام النووی صفحہ ۲۶۱)۔
علامہ محب اللہ طبری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: مولیٰ کا معنی دوست ہوتا ہے جو دشمن کی ضد ہے (الریاض النضرہ جلد ۱ صفحہ ۲۲)۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: "یعنی ہم نہیں مانتے کہ یہاں مولا بمعنی حاکم اور والی ہو، بلکہ بمعنی محبوب اور ناصر ہے" (اشعۃ اللمعات جلد ۴ صفحہ ۶۸۰)۔
حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کوٹ مٹھن والے فرماتے ہیں: "یہاں مولا کے معنی سید، سردار، حاکم اور لائقِ امامت کے نہیں بلکہ اس کے معنی ناصر اور محبوب کے ہیں" (مقابیس المجالس صفحہ ۹۲۰)۔
شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں: "اسی طرح یہ بھی ابلہ فریبی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلافصل کی دلیل میں خمِ غدیر کی روایت پیش کی جاتی ہے... ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم میں مولیٰ بمعنی دوست ہے دیکھو آیتِ کریم: فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ یعنی اللہ کے محبوب کا دوست اللہ جل شانہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک بندے ہیں" (مذہبِ شیعہ صفحہ ۹۰، ۹۱)۔
قرآن مجید کی اس آیت میں سیدنا جبریل، تمام مؤمنین اور تمام فرشتوں کو مولا کہا گیا ہے، لہٰذا مولا جبریل علیہ السلام، مولا ابو بکر، مولا عمر، مولا عثمان، مولا علی، مولا زید، مولا حسن، مولا حسین رضی اللہ عنہم کہنا اور تمام علماء کو مولانا کہنا سب جائز ہے۔
آیات و احادیث سے تائید
اس مقام پر حضرت سعید بن جبیر، حضرت عکرمہ، حضرت ضحاک اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہم کا قول بھی ملاحظہ کیجیے کہ اس آیت میں صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ سے مراد ابو بکر و عمر ہیں رضی اللہ عنہما (فضائلِ صحابہ: ۹۸، ۱۶۱، مستدرک حاکم: ۴۴۸۹، اسنادہ حسن)۔
اَلَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ کی تفسیر میں امام باقر رضی اللہ عنہ کا فرمان مولا علی کے بارے میں موجود ہے کہ عَلِیٌّ مِّنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی مولا علی بھی مؤمنین میں شامل ہیں (تفسیر ابن جریر، بغوی، ابن کثیر)۔
حدیثِ پاک میں تمام صحابہ کرام کے بارے میں محبوبِ کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے ان سے محبت رکھی پس اس نے میری محبت کی وجہ سے ان کو محبوب جانا اور جس نے ان سے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔"
لفظِ "مولا" کا قرینہ اور لغوی مفہوم
خود اس حدیث میں اَللّٰہُمَّ وَالِ مَنْ وَّالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ سے ولایت کا مفہوم متعین ہو رہا ہے، یعنی اے اللہ جو علی کو مولا بنائے تو اسے اپنا مولا بنا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اسے اپنا دشمن بنا۔ یہاں مولا کا لفظ دشمن کے مقابلے پر استعمال ہوا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں مولا بمعنی محبوب اور دوست ہے نہ کہ مولا بمعنی آقا۔
علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "اس حدیث کا معنی ہے: جس کا میں محبوب ہوں اس کا علی بھی محبوب ہے، اور آپ ﷺ کے الفاظ کا معنی ہے اے اللہ تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے، مولا کا لفظ دشمنی کے مقابلے پر فرمایا گیا ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں مولا بمعنی محبوب ہے" (حاشیہ سندھی بر ابن ماجہ جلد ۱ صفحہ ۱۰۳)۔
بلکہ اس سے بھی بڑھ کر متعدد روایات میں ہے کہ: اَللّٰهُمَّ اَحِبَّ مَنْ اَحَبَّهٗ وَاَبْغِضْ مَنْ اَبْغَضَهٗ اور بعض روایات میں وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهٗ (اے اللہ جو اسے رسوا کرے تو اسے رسوا کر) اور وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ (جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس طرح کے الفاظ میں تفسیر کی انتہا کر دی گئی ہے۔
ایک فکری نکتہ:
اگر مولا بمعنی آقا لیا جائے تو حضورِ کریم ﷺ تو انبیاء علیہم السلام کے بھی آقا ہیں، تو کیا سیدنا علی کریم تمام انبیاء کے بھی آقا ہوں گے؟ بتائیے آپ کے عقائد سے قدم قدم پر غالی رافضیت لازم آتی ہے کہ نہیں؟
مسند احمد میں یہی حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ یعنی جس کا میں ولی ہوں اس کا علی بھی ولی ہے (مسند احمد: ۲۲۹۴۲ ، ۲۲۹۵۲، اسنادہ صحیح)۔ گویا حدیث کے دوسرے الفاظ نے مولا کا مفہوم خود متعین کر دیا کہ مولا بمعنی ولی ہے، اور ولی دوست کو ہی کہتے ہیں نہ کہ آقا کو۔
حدیثِ پاک میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ اور ان کی والدہ کے لیے دعا فرمائی: "اے اللہ! انہیں تمام مومنوں کا محبوب بنا دے..." (مسلم: ۶۳۹۶)۔
حبیبِ کریم ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: أَنْتَ أَخُوْنَا وَ مَوْلَانَا یعنی تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے مولا ہو (بخاری: ۲۶۹۹)۔ اب کہا کرو: مولا زید رضی اللہ عنہ۔
حاصلِ کلام اور ہمارا مؤقف
اس بحث سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ سوال میں پیش کی گئی حدیث میں مولا بمعنی آقا، مولا بمعنی ولی باطنی یا مولا بمعنی خلیفہ بلا فصل نہیں بلکہ اس سے مراد دوست اور محبوب ہے۔
ہاں مگر اس حدیثِ شریف میں مولا علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہاتھ پکڑ کر تاکیدی حکم فرمانے کا خاص پہلو مولا علی رضی اللہ عنہ کے خصائص میں سے ہے، اور ہم اسے ضربِ حیدری کے پہلے ایڈیشن سے لے کر آج تک ہر ایڈیشن میں پہلے صفحے پر ہی خصائصِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں بیان کرتے آرہے ہیں، بلکہ تفضیلیوں کے دوسرے سوال کے جواب میں بھی ہماری طرف سے اس بات کا اعلان ہر ایڈیشن میں موجود ہے۔ نیز اس حدیث میں بعض لوگوں کی شکایت کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا قیامت تک آنے والی امت کے لیے لزوم بھی ثابت ہورہا ہے۔ کیا بدگمان ٹولا دیکھتا نہیں کہ ہم اس کتاب میں بار بار مولا علی مولا علی لکھ رہے ہیں؟
ثانیاً: مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولایتِ باطنی اور اس کی رفعتوں میں کوئی شک نہیں۔ مگر خلفائے ثلاثہ میں ولایتِ باطنی مولا علی کی نسبت رفیع تر ہے۔ اور اس میں خلفائے ثلاثہ کی یکتائی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
مزید پڑھیں👇🏻

