افضلیت صدیق اکبر ، بزبان مولا علی
از قلم: محمد تمیز الدین نقشبندی مصباحی
افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اہل سنت والجماعت کا موقف ہے ، اور افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو سب سے زیادہ خود مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا ہے۔
حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ؛ لا اجد احدا فضلني على أبي بكر و عمر الا جلدته حد المفترى۔
یعنی میں جسے پاؤں گا کہ مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما سے افضل کہتا ہے اسے الزام تراشی کی سزا کے طور پر اسی (80) کوڑے ماروں گا۔
اسی وجہ سے امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:هذا متواتر عن على.
یعنی تفضیل شیخین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ، باب عبد الخلفاء ، جلد 3 صفحہ (115).
اسی روایت کی تشریح کرتے ہوئے سیدی سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ مسئلہ تفضیل کو سب سے زیادہ بیان فرمانے والے اور مخالفین کو سخت سزا کا خوف دلانے والے سیدنا علی المرتضیٰ اللہ بلند و بالا کے شیر کرم اللہ وجہ الکریم، اس لیے کہ ان کے ایام خلافت اور کرسی زعامت میں ان کا شیخین ابو بکر و عمر کو خود پر اور تمام امت پر فضیلت دینا تواتر سے ثابت ہوا۔ (فتاوی رضویہ جلد 28 صفحہ 674)
جب حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ خلافت کے شروع کے ایام میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتے اور عوام کا ہجوم ہوتا ، ان میں مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود رہتے اور جب بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ گھر سے نکلتے تو مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے : (اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) `قَدَّمَكَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَمَنْ يُؤَخِّرُكَ؟` آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدم کیا ہے تو کون ہے جو آپ کو مؤخر کر سکے؟ (فضائل صحابہ ص، 36، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ )
حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ کہ فرامین سے یہ واضح ہو گیا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو خود مولائے کائنات اور تمام صحابہ کرام اپنے درمیان سب سے افضل قرار دیتے ہیں لہذا اس کے خلاف عقیدہ رکھنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
چنانچہ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثیر و متوافر کہا کرتے افضل امت بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق ہیں پھر عمر فاروق ۔ رضی اللہ تعالی عنہما۔ (معجم الشیوخ الکبیر للذھبی جلد 2, صفحہ 231) (مطلع القمرین صفحہ: 102 ، ناشر گلشن مجدد الف ثانی لائبریری)۔
صحابہ وہ تابعین کے زمانے میں کبھی بھی کسی نے حضرت ابوبکر صدیق اور عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما سے کسی کو افضل نہیں کہا۔
سید سرکار اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : "کہ حضرت میمون بن مہران سے سوال ہوا : شیخین (ابوبکر و عمر) افضل یا علی؟ اس کلمہ کے سنتے ہی ان کے بدن پر لرزہ پڑا یہاں تک کہ عصا دست مبارک سے گر گیا اور فرمایا مجھے گمان نہ تھا کہ اس زمانے تک زندہ رہوں گا جس میں لوگ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے برابر کسی کو بتائیں گے" (تاریخ دمشق جلد ,30 صفحہ 42)، (مطلع القمرین صفحہ: 103 ، ناشر گلشن مجدد الف ثانی لائبریری)۔
لہذا پتہ چلا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو افضل ماننا ،صحابہ کرام و اہل بیت کرام بالخصوص مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے اور اہل سنت والجماعت کا یہی موقف ہے اس کے خلاف جو کوئی بھی عقیدہ رکھے گا یقینا وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہوگا۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

