عید قرباں اور ہماری ذمہ داریاں
از قلم: قیصر رحمانی، کشن گنج
متعلم! جامعہ اشرفیہ مبارک پور
جماعت: سادسہ
عیدالاضحیٰ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے مومنوں کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔ یہ ہر سال اپنی آن بان اور شان کے ساتھ بے پناہ انعامات و اکرامات لے کر وارد ہوتی ہے اور بندوں کے اندر ایثار و قربانی، اطاعت و فرماں برداری اور جذبۂ تسلیم و رضا جیسے پاکیزہ جذبات و احساسات پیدا کرکے رخصت ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ سنتِ ابراہیمی کی یاد بھی تازہ کراتی ہے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر اور نورِ نظر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو رضائے الٰہی کی خاطر قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔
رب تعالیٰ کو آپ کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے قیامت تک ہر صاحبِ نصاب کے لیے ایک عظیم عبادت اور یادگارِ سنتِ ابراہیمی قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر جانوروں کی قربانی پیش کرنا ایک خاص عبادت میں شامل ہوگیا۔ اور اسے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے باقی بھی رکھا گیا اور اسے شعائرِ اسلام میں بھی شمار کیا گیا۔
اس واقعے کو ہوئے ہزاروں سال گزر گئے، لیکن آج تک اسے ایک تازہ واقعہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جو مسلمانوں کے اندر ایثار و قربانی، خلوص و للّہیت، تقویٰ اور پرہیزگاری جیسے جذبات کو جاگزیں کر دیتا ہے۔ مسلمان ہر سال دسویں ذی الحجہ کو عیدالاضحیٰ مناتے ہیں، جس کا خاص مقصد رضائے الٰہی، سنتِ ابراہیمی، تقویٰ اور پرہیزگاری کا حصول ہے۔ اسی طرح یہ عید آپسی اختلاف و انتشار کو ختم کرکے محبت، اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام بھی دیتی ہے۔
عیدالاضحیٰ بار بار ہمیں اس جانب متوجہ کرتی ہے کہ اپنے ان خوشیوں کے ایام میں غریبوں، فقیروں، مسکینوں، یتیموں، پڑوسیوں، ہمسایوں اور رشتہ داروں کا بھی خوب خیال رکھیں، تاکہ وہ بھی نعمت الہی سے محظوظ ہوں ۔ اسی لیے علماے کرام نے فرمایا: بہتر ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں منقسم کیا جائے،ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا حصہ غربا و مساکین کے لیے۔
آج کل ہمارے سماج میں یہ رواج عام ہوگیا ہے کہ قربانی کے گوشت کی خوب ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے اور کئی کئی دنوں تک فریج میں رکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ پہلے معاشرے کے غربا و فقرا کے درمیان گوشت تقسیم کیا جائے، پھر جو بچ جائے اسے اپنے لیے رکھیں۔ یقیناً ہمارے اس طرح کے نیک عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں بھی پوری ہوں گی۔ یاد رکھیں! حدیثِ پاک میں غریبوں اور فقیروں کی حاجت روائی کرنے کو جہاد اور عبادت قرار دیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کی خبر گیری کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (بخاری)
قربانی کے موقع پر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صفائی اور پاکیزگی کا مکمل اہتمام کریں۔ قربانی کے جانور کے فضلات، اوجھڑیاں اور ہڈیاں سڑکوں، گلیوں، محلوں اور کھلے مقامات پر نہ پھینکیں، کیونکہ اس سے لوگوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے اور بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ نیز وطنِ عزیز کے مسلمانوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مذہبی شعائر پر عمل بھی کریں اور اپنے ہم وطنوں کی دل آزاری سے بھی بچیں۔ جہاں تک ممکن ہو عوامی مقامات پر قربانی سے اجتناب کریں، گلی کوچوں کو خون اور دوسری آلائشوں سے محفوظ رکھیں، اور بدبو و تعفن سے بچنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کریں۔ قربانی کے گوشت اور ذبح شدہ جانور کی تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے سے بھی گریز کریں۔
جن علاقوں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی مشترک آبادی ہے وہاں خاص احتیاط سے کام لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات جذباتی ردعمل سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں جو بڑے بڑے نقصانات کا سبب بنتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کی آمد اب بہت قریب ہے، اور ابھی سے جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو ابھی سے ہوشیار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بعض شرپسند عناصر ملک کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
لہٰذا: مسلمانوں کو اپنی طرف سے کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ان عناصر کو موقع ملے اور حالات خراب ہوں۔ یہ چند احتیاطی تدابیر ماحول کو پرامن بنانے اور شرپسند عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی طریقے پر عید قرباں منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

