کربلا کا پیغام اور آج کا مسلمان | محمد اظہار احمد نوری
Wednesday, 8 July 2026
Add Comment
کربلا کا پیغام اور آج کا مسلمان
رشحات قلم: اظہار احمد نوری مصباحی
اسلامی تاریخ میں سانحۂ کربلا حق و باطل، عدل و ظلم اور حریت و جابریت کے درمیان ایک ایسا عظیم الشان معرکہ ہے جس نے انسانیت کو جینے کا نیا شعور دیا۔ سنہ 61 ہجری میں نواسۂ رسول ﷺ عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں جو بے مثال قربانیاں پیش کیں، وہ کسی دنیاوی اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں تھیں، بلکہ دینِ اسلام کی بقا اور انسانی ضمیر کی آزادی کے لیے تھیں۔ کربلا ایک تاریخی واقعے سے کہیں بڑھ کر ایک دائمی تحریک ہے، جو ہر دور کے مسلمان کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے
*معاشرتی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر: امام حسین رضی اللہ عنہ کے سفرِ کربلا کا سب سے بڑا اور بنیادی مقصد امتِ مسلمہ کی اخلاقی، سیاسی اور معاشرتی اصلاح تھا۔ جب مسلم معاشرہ اسلامی اقدار سے دور ہو رہا تھا اور جابرانہ ملوکیت دین کی روح کو مسخ کر رہی تھی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے خاموش رہنے کے بجاے قیام کا فیصلہ کیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (سورہ آل عمران: 110) تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کا خطبہ: مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو جو وصیت نامہ لکھا، اس میں اپنے مقصد کی یوں وضاحت فرمائی:إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَلَا بَطِراً وَلَا مُفْسِداً وَلَا ظَالِماً، وَإِنَّمَا خَرْجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ(میں کسی سرکشی، تکبر، فساد یا ظلم کے لیے نہیں نکل رہا، بلکہ میرا مقصد صرف اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح ہے۔ میں نیکی کا حکم دینا چاہتا ہوں اور برائی سے روکنا چاہتا ہوں)۔
یہ پہلو آج کے مسلمان کو جھنجھوڑتا ہے۔ آج کا مسلم معاشرہ اخلاقی پستی، کرپشن، ناانصافی اور بے راہ روی کا شکار ہے۔ حسینی کردار کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے دائرہ اختیار میں مصلحت پسندی کو چھوڑ کر حق کا ساتھ دے اور برائی کے خلاف آواز اٹھائے۔
*استقامت اور حریتِ ضمیر* (Steadfastness and Freedom of Conscience ظلم کے خلاف عدمِ بیعت کربلا کا دوسرا بڑا درس یہ ہے کہ جب معاملہ دین کے بنیادی اصولوں اور انسانی حقوق کا ہو، تو باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ایمان کے منافی ہے۔ یزید کی بیعت کا مطلب اسلامی شریعت کی پامالی کو تسلیم کرنا تھا۔
ظالموں پر تکیہ کرنے اور ان کے سامنے جھکنے سے قرآنِ مجید سخت منع کرتا ہے:وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (سورہ ہود: 113)اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ چھو لے گی۔
حدیثِ نبوی ﷺ ہے حضورِ اکرم ﷺ نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کو افضل ترین عمل قرار دیا:أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ (سنن ابی داؤد)افضل ترین جہاد جابر حکمران کے سامنے عدل و حق کی بات کہنا ہے۔
آج کا مسلمان دنیا بھر میں کہیں مادی مفادات، کہیں عالمی طاقتوں کے رعب اور کہیں داخلی خوف کی وجہ سے مصلحت پسندی کا شکار ہیں۔ کربلا آج کے مسلمان کو سکھاتی ہے کہ تعداد کی کمی یا وسائل کی قلت حق سے پیچھے ہٹنے کا عذر نہیں بن سکتی۔
دینِ اسلام کےلیے یہ جو اتنی بڑی قربانی دی گئی اور امامِ عالی مقام نے اپنے ہاتھوں سے اپنے خاندان کے نوجوان شہداء کے زخموں سے چُور لاشے اٹھائے ، اس سے آج کے مسلمان کو یہ درس ملتا ہے کہ
خدمتِ دین اور دعوتِ دین میں کبھی بھی پس و پیش کا شکار نہ ہونا بلکہ جب بھی موقع میسر آۓ دین کے نام پر چل پڑنا اور دین کی سربلندی کے لیے ہر جائز کوشش کرنا۔
دین کی حفاظت میں اپنے احباب ، گھر بار بلکہ اپنی جان بھی راہِ خدا میں نذرانہ کرنا پڑے تو پیچھے مت ہٹنا بلکہ آگے بڑھ کر دین کی حفاظت کے لیے حق و باطل کے درمیان مضبوط دیوار کی مانند کھڑے ہو جانا اور ہر خواہش و آسائش کے مقابلے میں دین و ایمان ہی کو ترجیح دینا۔
اگر دنیا کی اس مختصر سی زندگی پر مصائب و آلام اور تکالیف کے تاریک بادل بھی چھا جائیں تب بھی احکامِ خداوندی سے غفلت مت برتنا بلکہ شریعت پر عمل کی شمع سے ان تاریکیوں کو کافور کرنا۔
نماز کی پابندی ہر حال میں کرنا ، گھر میں ہو یا سفر میں ، امن میں ہو یا میدانِ جنگ میں ، ہر صورت پیشانی کو بارگاہِ خدا میں جھکنے کا عادی رکھنا۔
خدمتِ دین کی راہ میں مصائب و تکالیف رُو بَرُو ہوں تو اس سے گھبرا کر زبان پر شکوہ و شکایت نہ لانا بلکہ “ اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْاُولٰی “ [1] پر کاربند رہنا۔
جو وعدہ کرنا اس پر بے وفائی کا داغ نہ لگنے دینا بلکہ اس پر تکمیل و وفا کی مہر لگانا۔
اسلام و ایمان کی لازوال نعمت پاکر جھوٹ ، غیبت ، دھوکا ، فریب ، ظلم اور حقوق اللہ و حقوق العباد کے ضائع کرنے کا طوق گلے میں نہ ڈالنا۔
دینِ اسلام ایک پُر امن دین ہے اس لیے کسی پر ظلم نہ کرنا ، یہاں تک کہ جانوروں پر بھی شفقت رکھنا۔ ہاں! اپنی جان و عزت کی حفاظت کے لیے تدابیر ضرور کی جائیں۔
مسلمان کا شیوہ محبتِ قراٰن اور عادتِ تلاوت قراٰن ہے نہ کہ تلاوتِ قراٰن سے دوری ، نیزے پر بلند سرِ حسین کی تلاوت کو یاد رکھنا۔
خاص کر خواتین کے لیے اس میں پیغام ہے کہ مصائب و آلام کے پہاڑ ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑیں پھر بھی نوحہ و واویلہ اور کوئی غیر شرعی عمل نہ کرنا بلکہ مستوراتِ خاندانِ نبوت کے غم اور طرزِ عمل کو پیشِ نظر رکھنا کہ ان ہستیوں نے یہ سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا پھر بھی انہوں نے نہ نوحہ کیا ، نہ سینہ کوبی کی ، نہ بال بکھیرے اور نہ ہی بے پردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ صبر کیا اور “ مرضیِ مَولیٰ اَز ہمہ اَولیٰ “ (یعنی مالک کی رضا سب سے بہتر ہے) کی خاموش صدائیں بلند کیں۔
حاصل کلامِ(Conclusion)کربلا کی قربانیاں محض تاریخ کا ایک خشک ورق یا سالانہ رسم و رواج تک محدود رہنے والا واقعہ نہیں ہیں یہ مسلم امت کے لیے ایک زندہ ضابطہ حیات ہے۔ آج کے مسلمان کو اگر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے اور باطل نظاموں کے چنگل سے آزاد ہونا ہے، تو اسے رسمِ شبر (صرف روایتی یاد منانے) سے آگے بڑھ کر اسوہ شبیری (عملی جد و جہد، استقامت اور کردار کی بلندی) کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
بقول شاعر مشرق اقبال:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻
کربلا کے بعد کا احوال یزید کی ہلاکت اور انتقامِ حسین
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "کربلا کا پیغام اور آج کا مسلمان | محمد اظہار احمد نوری "
Post a Comment