جسے پیا چاہے، وہی سہاگن | اسلم ساقی مصباحی


جسے پیا چاہے، وہی سہاگن


از : اسلم ساقی مصباحی

کٹیہار بہار


بلا تعیین و تخصیص یہ طرزِ عمل لوگوں میں خوب عام، اور پورے آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے، کہ کسی منصب و مسند کے لیے افراد کے انتخابات کا معیار تقرب بنا ہوا ہے۔ جبکہ معیار، تقرب کے بجاے حقیقی استعداد و لیاقت ہونا چاہیے۔ اور صحیح معنوں میں دیانت داری، انصاف پسندی اور حق شناسی کا تقاضہ بھی یہی ہے۔ شعبہ ہائے زیست کی شاید ہی کوئی ایسی نادر شاخ ہو جہاں یہ نا گوار و نا پسند اور انصاف سے دور عمل دہرایا نہ جا رہا ہو۔ زندگی نامی شجر ثمردار کی تقریباً ہر شاخ اس عملِ مکروہ سے گراں بار ہے۔


ہم جیسے بے بساط و نا تجربہ کار افراد اپنے محدود معلوماتی دائرے میں رہ کر بھی آئے دن اس قبیح حرکت کا خوب مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جس میں قابل و مستحق افراد کی نا قدری کر کے اُن کی توہین کی جا رہی ہے۔ اور نا اہل و غیر مستحق اشخاص کو منصب و اقتدار کے فاخرانہ خلعتوں سے نوازہ جا رہا ہے۔ جو کہ حق و انصاف کے سراسر خلاف عمل ہے۔


جب تک ہم اس روش کو دنیاوی معاملات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، تب تک ہماری حیرتوں کا سمندر طوفان زد ہونے سے کسی قدر محفوظ رہتا ہے۔ لیکن جوں ہی اسلامی طرزِ زندگی میں اس رویّے کا دخول حاشیہ ذہن پر اُبھرتا ہے تو حیرت و استعجاب کے بحر بیکراں کا سارا سکوت ٹوٹ جاتا ہے۔ اور آتشِ آہ کمالِ شدّت کے ساتھ بھڑک اٹھتی ہے۔ اور قوم و ملت کا درد رکھنے والے افراد کے جگر کا خون سوکھ جاتا ہے۔


یہ بھی ایک مسلّم حقیقت ہےکہ یہ غیر مہذب روش کوئی آج کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ ادوارِ گزشتہ کی ایک شہرت یافتہ روایت ہے جو صدیوں سے عملاً منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔ اور ہر زمانے میں اس کو لوگوں نے بطیب خاطر قبول بھی کیا۔ ان سب کے باوجود ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اس عمل نا گوار کے سد باب کے لیے متحرک اور زندہ دل اشخاص نے اپنی تحریکات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یقیناً کیا۔ مثلاً اموی حکومت کا عظیم فرمانروا "سلیمان بن عبدالملک" جب مرض الموت میں مبتلا ہوا تو ولی عہدی اور خلافت کا مسئلہ ان کے نزدیک انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو خلیفہ نہ بنا کر "عمر بن عبدالعزیز" کو اُن کی قابلیت و لیاقت کی بنیاد پر خلافت سونپی۔ مگر چوں کہ دنیا کی اکثریت اور پھر طبعی انعطاف و رجحان بھی قربت کے معیارِ انتخاب ہونے کو زیادہ محبوب رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے اس روایت نے آسمان کی بلندیوں پر اپنا آشیانہ بنا لیا۔ اور اب تک قبول عام و بقائے دوام کی منازل طے کرتی چلی جا رہی ہے۔


اس طرزِ عمل اور نا قابلِ تسلیم روش کو اپنانے کے سبب لوگوں کے اذہان و قلوب پر جو اثرات مرتب ہوئے وہ یقیناً انتہائی حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے۔ پہلا ایفیکٹ یہ پڑا کہ جہاں ایک طرف قابل و ذی استعداد افراد کی بے وقعتی ہوئی، وہیں دوسری طرف اُن کے شوق امید کا روشن چراغ گل ہو گیا۔ اُن کے چمن کی بہاریں مدھم پڑ گئیں۔ اُن کے حوصلے کے فلک شگاف عمارتوں کی فصیلیں کمزور ہو گئیں۔ ان کے سحر انگیز اُمنگوں کی کڑیوں کا جوڑ ٹوٹ گیا۔ اُن کی ہمتوں کا سویرا تاریکیوں میں تبدیل ہو گیا۔ غرض کہ ان کے وجود کے لعبت ناز کا سارا بناؤ سنگھار بکھر کے رہ گیا۔


اس رویے کا دوسرا ایفیکٹ اُس غیر مستحق و نا اہل شخص پر پڑتا ہے جس کو محض قربت کی بنیاد پر مسند و منصب اور اقتدار سونپنے کے لیے منتخب کر لیا جاتا ہے۔ بایں طور کہ بغیر کسی قابلیت اور تگ ودو کے منصب حاصل ہونے پر ایسا شخص تساہل و تغافل شیوہ بن جاتا ہے۔ تخلیق استعداد میں بے اعتنائی کا خوگر بن جاتا ہے۔ منصب کے امور مہمہ و غیر مہمہ کی بجا آوری میں بے التفاتی نہیں تو کم از کم حسن و خوبی کا صحیح اہتمام ہرگز نہیں کر پاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ لوگوں کا میلان و رجحان اپنے اندر لیاقت و صلاحیت پیدا کرنے کے بجائے غیر معمولی انداز میں تعلقات ہموار کرنے اور رشتہ داریاں بنانے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔


اسلامی طرزِ زندگی میں جب اس عمل کو دہرایا جاتا ہے تو اغیار کی نگاہِ نازیبہ جو پہلے سے اسلام و اہل ایمان کی گلشن جناں پر جمی ہوئی ہے، اس کی گرفت مضبوط ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہنے پر آ سکتے ہیں کہ جب اسلام ایک پاکیزہ اور حق و صداقت والا مذہب ہے، اور اس کی تعلیمات ہر طرح کی افراط و تفریط سے پاک و منزہ ہے تو پھر اس کے ماننے والوں میں یہ غبار آلود طرزِ عمل، نا انصافی پر مبنی روش، بد دیانتی، اور قبیح و شنيع حرکت کیسی؟


اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اسلام کی شفقتوں کی گود میں پرورش پانے والے اہل ایمان کے لیے ہرگز جائز نہیں کہ وہ تعلیمات اسلام کو پسِ پشت ڈال کر بہیمانہ حرکتوں کا ارتکاب کریں۔ اور شعوری طور پر ایسے رویّے کو اپنائے جس سے کسی قابل قدر اور لائق و مستحق شخص کی توہین و نا قدری ہو۔ اور کسی نا اہل کو محض تقرب کی بنیاد پر عہدہ تفویض کر کے اس کی عزت افزائی ہو۔


اللہ ہمیں عقلِ سلیم عطا کرے۔ اور ہمارے مردہ دلوں میں زندگی کی شمع روشن کر دے۔اور ہمارے تہی دامن کو کردار کی خوبی، حق شناسی، انصاف پسندی اور دیانت داری کے گوہر تاباں سے معمور کر دے۔ آمین یارب العالمین۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 

بیڈ بوائے۔ نسلِ نو کا فخریہ تعارف

لنگڑا مینا مگر بلند ہمت پرندہ


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.