کیا حضور ﷺ نے فرمایا مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو؟


کیا حضور ﷺ نے فرمایا مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو؟


از قلم : ذیشان برکاتی رضوی

👇🏻علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ کے جوابات ملاحظہ فرمائیں


بعض لوگوں نے صحیح البخاری سے ایک روایت پیش کی اور اس سے یہ ثابت کیا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، اور اسی روایت سے یہ بھی استدلال کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا ابو بکر (رضی اللہ عنہ) سب سے بہتر ہے وہ بھی اسی پر محمول ہے۔

ایسی لوگوں کی عقل اور فہم پر تعجب ہے۔ یعنی جہاں فضیلت یا افضلیت کا لفظ دیکھ لیتے ہیں بس سمجھ لیتے ہیں یہی ہماری سب سے قوی دلیل ہے۔ جب کہ ایسے لوگ فہم سلف اور منہج سلف سے بلکل دور ہے۔

:وہ روایت یہ ہے امام بُخاری رحمہ اللہ (م 256ھ) نقل کرتے ہیں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، قَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ".

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو شخصوں نے جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ مسلمان نے کہا، اس ذات کی قسم! جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اور یہودی نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور مسلمان کے ساتھ اپنے واقعہ کو بیان کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور اس سے واقعہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تفصیل بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا، مجھے موسیٰ علیہ السلام پر (فضیلت) نہ دو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے۔ میں بھی بیہوش ہو جاؤں گا۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔ [صحیح البخاری رقم 2411]

:امام بدر الدین العينی رحمہ اللہ (م 855ھ) اس کی شرح میں لکھتے ہیں

قوله: «لا تخيروني، أي: لا تفضلوني على موسى، فإن قلت: نبينا محمد، أفضل الأنبياء والمرسلين، وقال: «أنا سيد ولد آدم ولا فخره، فما وجه قوله: «لا تخيرون  أي تفضلوني؟ قلت: الجواب عنه من أوجه الأول: أنه قبل أن يعلم أنه أفضلهم، فلما علم قال: «أنا سيد ولد آدم ولا فخره الثاني: أنه نهى عن تفضيل يؤدي إلى تنقيص بعضهم، فإنه كفر الثالث: أنه نهى عن تفضيل يؤدي إلى الخصومة، كما في الحديث من لطم المسلم اليهودي الرابع أنه قال تواضعاً ونفياً للكبر والعجب الخامس: أنه نهى عن التفضيل في نفس النبوة لا في ذوات الأنبياء عليهم السلام، وعموم رسالتهم وزيادة خصائصهم، وقد قال تعالى: وتلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض [البقرة: (٢٥٣). وقال ابن التين: معنى لا تخيروا بين الأنبياء، يعني: من غير علم، وإلا فقد قال تعالى: وتلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض [البقرة: ٢٥٣]. وأغرب ابن قتيبة فأجاب بأنه سيد ولد آدم يوم القيامة، لأنه الشافع يومئذ، وله لواء الحمد والحوض.

(حضور علیہ السلام )کے قول [لا تُخَيِّروني]  یعنی مجھے فضیلت نہ دو‘ کا مطلب یہ ہے کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام انبیاء و مرسلین کے سردار ہیں، اور آپ نے خود فرمایا [أنا سيّدُ وَلَدِ آدَمَ ولا فخر] تو پھر یہاں [لا تُخَيِّروني] مجھے فضیلت نہ دو فرمانے کا سبب کیا ہے؟

:میں کہتا ہوں کہ اس کا جواب کئی زاویوں سے دیا گیا ہے

پہلا جواب: یہ اُس وقت فرمایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی یہ علم نہ دیا گیا تھا کہ آپ تمام انبیاء میں افضل ہیں، پھر جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: [أنا سيد ولد آدم ولا فخر]۔

دوسرا جواب: آپ نے اس فضیلت دینے سے اس لیے منع فرمایا کہ کہیں یہ عمل کسی نبی کی تنقیص پر نہ پہنچے، اور کسی نبی کی تنقیص کرنا کفر ہے۔

تیسرا جواب: آپ نے ایسی فضیلت دینے سے اس لیے روکا جو آگے چل کر جھگڑے کا سبب بنے، جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے جس میں ایک مسلمان نے ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا تھا۔

چوتھا جواب: آپ نے یہ بات محض تواضع کے طور پر فرمائی، اور تکبر و غرور کی نفی کے لیے۔

پانچواں جواب: آپ نے نبوت کے اصل مقام میں فضیلت دینے سے منع فرمایا، نہ کہ انبیاء کی ذوات، اُن کی رسالت کے دائرے یا ان کی خصوصی فضیلتوں کے معاملے میں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: [تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض] (البقرۃ: 253)

ابن التین نے کہا (لا تُخَيِّروا بين الأنبياء) کا مطلب یہ ہے کہ بغیر علم کے ایسا نہ کرو، ورنہ اللہ نے تو خود فرمایا ہے [تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض]۔

ابن قتیبہ نے بہت عجیب جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولادِ آدم کے سردار قیامت کے دن ہوں گے، کیونکہ اس دن آپ شفاعت کریں گے، اور آپ کے پاس حوض اور لواء الحمد ہوگا۔ [عمدة القاری شرح صحيح البخاری 12/351 ت - عبد اللہ محمود محمد عمر]

علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ کی شرح سے واضح ہوا کہ یہاں جو حضور علیہ السلام کا فرمان تھا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو یہ صرف اس لیے تھا کہ کسی دوسرے نبی کی تنقیص نہ ہو (اور انکساری وغیرہ) ورنہ خود اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ حضور علیہ السلام تمام انبیاء سے افضل ہے۔ 

پھر یہ بات مخالفین بھی تسلیم نہیں کرتا کہ حضور علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہے پھر اس روایت سے دلیل کیسے؟

خلاصہ یہ کہ حضور علیہ السلام نے جو فرمایا مجھ حضرت موسیٰ پر فضلیت نہ دو یہ اس لیے تھا کہ ایسی فضلیت نہ دو جس سے دوسرے نبی کی تنقیص ہو اور خود انبیاء میں تفضیل قرآن میں دی گئی ہے۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 

قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله کا تحقیقی جواب




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.