بیڈ بوائے۔ نسلِ نو کا فخریہ تعارف
از : محمد اسلم ساقیکٹیہار ، بہار
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اوراقِ تاریخ کے کسی بھی گوشہ میں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ اسلام و اہل ایمان کے سر بہ فلک مینارۂ نور کو زمیں بوس کرنے کے ناپاک عزائم اور سرتوڑ کوششیں نہ کی گئیں ہوں۔ تمام ادوار و ازمنہ میں قوم و ملت کے نو نہالوں اور جوانانِ اُمت کے رخ و رخسار کو غلط سمت دکھانے کی کوشش جاری رہی ہے۔ اُن کے قدموں کو ایسی شاہراہ پر گامزن کیا گیا جو تكدر و کثافت سے لبریز تھی، اُن کے افکار و خیالات اور معتقدات پر ایسی ضرب کاری لگائی گئی جس کے مہلک اثر نے اُن کے فکری، عملی، اعتقادی اور اخلاقی عمارت کے فلک شگاف دیواروں کو منہدم نہیں تو کم از کم قریب الانہدام ضرور کر دیا۔
ٹھیک گزشتہ ادوار کی طرح موجودہ دور میں بھی نوجوان نسل، اغیار کی پرخاش کے نشانے بنتے جا رہے ہیں اور مخالفین و معاندین کے دامِ فریب میں پھنستے جا رہے ہیں۔ جس چالاکی سے نوجوانانِ اُمت کے فکر و عمل اور اعتقاد و اخلاق کے روشن چراغ کو بجھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اسی تیز رفتاری سے وہ اپنے غیر مصفّا غبار آلود عزائم میں کامیاب بھی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
اسلام دشمن اقوام نے ہر دور میں مسلم نوجوانوں کو اپنے پیروں تلے کچلنے کے لیے تقاضائے وقت کے مطابق مناسب و موزوں حربہ استعمال کیا۔ تعقل پرستوں نے اپنے اسی اصول کے تحت موجودہ دور میں بھی مسلم نوجوانوں کے فکری و نظریاتی معیار کو مجروح کرنے کے لیے انگریزی زبان کا یہ سحر انگیز دو ورڈ یعنی "Bad boy" اُن کے دامن میں رکھا، جو ظاہراً حُسنِ جاناں سے کم معلوم نہیں ہوتا، مگر معنوی لحاظ سے یہ انتہائی درجے کا گھٹیا مرکب ہے کہ ذوق سلیم کا حامل شخص اپنی ذات پر اس مرکب کا انطباق کبھی گوارا نہیں کرے گا۔
مگر افسوس کہ ہماری قوم کی سادہ لوح نوجوان نسل نے اپنے معیار و مقام کی پرواہ کیے بغیر اس فریب کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اور شعوری طور پر اپنی لا علمی، فکری انحطاط اور اخلاقی مفلسی کا ثبوت پیش کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوانوں کے مطلق العنان اور آوارہ مزاج حلقوں میں اس مرکب کی ایسی تشہیر ہوئی کہ ہر ایک نے اپنی ذات پر اُس کو منطبق کرنا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی زندگی ہو یا خارج میڈیا کی حقیقی زندگی ہر ایک مقام پر اب اس مرکّب کو اپنی شناخت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سازش نے جن مسلم نوجوانوں کو اپنے مضبوط گرفت میں لیا، اُن کا ضمیر ایسے مر چکا ہے کہ اُنھیں اپنی اس شنیع حرکت کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔ بے دریغ و بلا تامل وہ اپنی آوارہ مزاجی کا مظاہرہ کرتے پھر رہے ہیں۔
آہِ آتش بار و کلمۂ حسرت اُس وقت مزید بلند ہو جاتا ہے، جب ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہر شی ایک مدت کے بعد فنائیت کی نحوستوں کے نرغے میں آ ہی جاتی ہے لیکن نوجوانوں کی یہ آوارگی اور رندانہ پن ناپید ہونے کے بجائے مزید اپنی جڑیں مضبوط کرتی چلی جا رہی ہیں۔ اور گردشِ ایام و امتدادِ زمانہ کے ساتھ نسلِ نو کے فکر و شعور میں لگائی گئی سازشی آگ شعلہ فشاں ہوتی جا رہی ہے۔ در اصل ابھی ہم اسی سازش کے سدِ باب کے حوالے سے متفکر تھے کہ ناگہاں زمانے نے نوجوانوں کی زبان پر اسی مرکّب کا متبادل یعنی "رنگ داری" کا لفظ جاری کر دیا۔ جس کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے اخلاق و کردار اور فکر و نظر کا تصفیہ و تطہیر ممکن نہیں۔ وہ دن بدن فکر و اخلاق کے حوالے سے تعفن بھری غلاظت کے قعر عمیق میں گرتے جا رہے ہیں۔
"بیڈ بوائے" کا متبادل لفظ "رنگ داری" یہ ماقبل مرکّب سے کہیں زیادہ زود اثر ہے۔ اس لفظ نے سارے حدود و قیود سے ماورا ہوکر جوانان اُمت پر اپنا مہلک اثر مرتّب کیا ہے۔ جب سے یہ لفظ نوجوانوں کے زبان زد ہوا ہے تب سے اُن میں جنون کی حد تک آوارگی نے اپنا تسلط قائم کر لیا ہے۔ سقم و صواب کے حوالے سے ان کے حواس نے نشانِ امتیاز کھو دیا ہے۔ اب اس سے بڑھ کر کیا ہی کہا جا سکتا ہے کہ رنگ داری کے نشے نے جوانوں کے ہاتھوں میں "آتشیں ہتھیار" یعنی رائفل اور پستول وغیرہ تھما دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نظر انداز کردیے جانے کی وجہ سے دبے پاؤں بہت آگے بڑھ چکا ہے۔
حاصل یہ کہ بیڈ بوائے، رنگ داری اور ان کے قریب المعنی دیگر اصطلاحات، کائنات کی رنگا رنگی سے مرعوب نوجوانانِ اُمت کا فخریہ تعارف بن چکے ہیں۔ جہاں خود کو بیڈ بوائے کہنا اور کہلوانا اُن کا شیوہ ہے وہیں اُن اصطلاحات کے معانی و مفاہیم سے کامل طور پر لیس ہوکر ظاہر ہونا اُن کا فخر۔ اس فکری زوال اور اخلاقی مفلسی کو طرّہ افتخار سمجھنا طفلانہ ناعقلیت کے سِوا کچھ نہیں۔ اگر ان کی اس روش کا سلسلہ جاری رہا اور اس رو بہ زوال حالت کا تدارک وقت رہتے نہ ہو سکا تو یقیناً نتیجے کے طور پر قوم کے ہر فرد کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے اس کے تدارکی پہلوؤں پر متانت و سنجیدگی سے غور کرنا اور لائحۂ عمل تیار کرنا ہمارا اہم فریضہ ہے۔
اللہ ہماری قوم کے نو نہالوں کو تدبّر و تفکر کا صحیح ملکہ عطا فرمائے۔ اور ان کی اس ابتر حالت کو بہتر سے بہترین بنائے۔ آمین یارب العالمین۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

