قبر پر اذان پڑھنا کیساہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
بعدِ دفنِ میِّت قبر پر اَذان دینا شرعاً جائز ومستحسن ہے۔ اس میں اصلاً حرج نہیں ہے کہ شرع مطہر کی اصل کُلّی ہے کہ جو امر مقاصدِ شرع سے مطابق ہو محمود ہے اور جو مخالف ہو مردود، اور حکم مطلق اس کے تمام افراد میں جاری وساری۔ اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلًا ممنوع نہیں ہوسکتا قائلانِ جواز کے لئے اسی قدر کافی، جو مدعیِ ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعویٰ ثابت کرے۔ قبر پر اذان دینے سے قبر پر اذان پڑھنے سے میِّت کے لیے سات منافع ہیں:بحولہ تعالٰی شیطان رجیم کے سَر سے پَناہ، تکبیر کی بدولت عذابِ نار سے امان، جوابِ سوالات کا یاد آ جانا، ذکرِ اَذان کے باعث عذابِ قبر سے نجات پانا، بہ برکتِ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ نُزولِ رحمت، بدولتِ اَذان دفعِ وحشت اور زوالِ غم وسرورِ فرحت۔
جب بندہ قبر میں اتارا جاتا ہے تو سوالاتِ نکیرین کے وقت شیطان وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے، چنانچہ امام ترمذی محمد بن علی ”نوادر الأصول“ میں لکھتے ہیں:”إذا سئل المیِّت من ربك ترا أی له الشیطان في صورت فیشیر إلی نفسه أی أنا ربك فلھذا ورد سوال التثبیت له حین یسئل“ یعنی جب مُردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اُس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہُوں، اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں۔ (نوادر الأصول في معرفة أحاديث الرسول، الأصل التاسع والأربعون والمائتان...إلخ، صفحة:323)
امام ترمذی فرماتے ہیں:”ویؤیدہ من الأخبار قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلو لم یکن للشیطان ھناك سبیل ما دعا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بذلك“ یعنی وہ حدیثیں جو اسکی مؤید ہیں جن میں وارد کہ حضور اقدس ﷺ میت کو دفن کرتے وقت دعا فرماتے: الٰہی! اسے شیطان سے بچا۔ اگر وہاں شیطان کا کچھ دخل نہ ہوتا تو حضور اقدس ﷺ یہ دُعا کیوں فرماتے۔ (نوادر الأصول في معرفة أحاديث الرسول، الأصل التاسع والأربعون والمائتان...إلخ، صفحة:323)
اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے، چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور اقدس سید عالم ﷺ فرماتے ہیں:”إذا أذن المؤذن ادبر الشیطان وله حصاص“ یعنی جب مؤذن اذان کہتا ہے شیطان پیٹھ پھیر کر گوززناں بھاگتا ہے۔ (الصحيح المسلم، باب فضل الأذان وهرب الشيطان عند سماعه، 1/167)
امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبدالله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے راوی:”قال لما دفن سعد بن معاذ (زاد في روایة) وسوی علیه سبح النبی صلی الله تعالٰی علیه وسلم وسبح الناس معه طویلا ثم کبر وکبر الناس ثم قالوا یارسول الله لم سبحت (زاد فی روایة) ثم کبرت قال: لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج الله تعالٰی عنه“ یعنی جب سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دفن ہو چکے اور قبر درست کردی گئی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم دیر تك سبحان الله فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور الله اکبر الله اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے، پھر صحابہ نے عرض کی یارسول الله! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے؟ ارشاد فرمایا: اس نیك مرد پر اُس کی قبر تنگ ہُوئی تھی یہاں تك کہ الله تعالٰی نے وہ تکلیف اُس سے دُور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔ (مسند أحمد بن حنبل، عن مسنده جابر بن عبد الله رضى الله عنهما، 3/360)
علامہ طیبی ”شرح مشکوٰۃ“ میں فرماتے ہیں:”أی ما زلت اکبر وتکبرون واسبح وتسبحون حتی فرجه الله“ یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر مَیں اور تم الله اکبر الله اکبر سبحان الله کہتے رہے یہاں تك کہ الله تعالٰی نے اُس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔ (مرقاة المفاتيح شرحِ مشكوة المصابيح،الفصل الثالث من إثبات عذاب القبر، 1/211)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر الله اکبر الله اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنّت ہُوا۔
ابن عدی حضرت عبدالله بن عباس وہ ابن السنی وابن عساکر حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے راوی حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں:”إذا رأیتم الحریق فکبروا فإنه یطفیئ النار“ یعنی جب آگ دیکھو الله اکبر الله اکبر کی بکثرت تکرار کرو وہ آگ کو بجھا دیتا ہے۔ (معجم اوسط، حدیث:8564، 9/259)
علّامہ عبد الرؤف مناوی ”تیسیر شرح جامع صغیر“ میں فرماتے ہیں:”فکبروا أی قولوا الله اکبر، الله اکبر وکرروہ کثیرا“ یعنی ” فکبروا “ سے مراد یہ ہے کہ الله اکبر الله اکبر کثرت کے ساتھ بار بار کہو۔ (التيسير شرحِ جامع الصغير، 1/100)
حدیثوں سے بھی ثابت کہ مُردے کو اُس نئے مکان تنگ وتاریك میں سخت وحشت اور گھبراہٹ ہوتی ہے اور اذان دافعِ وحشت وباعث اطمینان خاطر ہے کہ وہ ذکرِ خدا ہے اور الله عزّوجل فرماتا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (سُن لو خدا کے ذکر سے چین پاتے ہیں دل [القرآن الكريم، 13/28]) ابونعیم وابن عساکر حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حضور سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں:”نزل آدم بالھند فاستوحش فنزل جبرئیل علیه الصلاۃ والسلام فنادی بالأذان.“ یعنی جب آدم علَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جنّت سے ہندوستان میں اُترے اُنہیں گھبراہٹ ہُوئی تو جبرئیل عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اُتر کر اَذان دی۔ (حلية الأولياء مرويات عمرو بن قيس الملائي، 2/107)
پھر ہم اس غریب کی تسکین خاطر ودفعِ توحش کو اذان دیں تو کیا بُرا کریں حاشا بلکہ مسلمان خصوصًا ایسے بے کس کی اعانت حضرت حق عزوجل کو نہایت پسند، حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں:”الله فی عون العبد ما کان العبد فی عون أخیه.“ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجة والحاکم عن ابن ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنه. یعنی الله تعالٰی بندے کی مدد میں ہے جب تك بندہ اپنے بھائی مسلمانوں کی مدد میں ہے۔ اسے مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم، باب فضل الإجتماع على تلاوة القرآن، 2/34)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

