صلوة التسبيح جماعت سے پڑھنا کیسا ہے؟

 صلوة التسبيح جماعت سے پڑھنا کیسا ہے؟ 


صلوة التسبيح جماعت سے پڑھنا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


    صلاۃ التسبیح نفل نماز کی ایک قِسم ہے اور نفل نماز کی جماعت اگر تداعی (تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں) کے ساتھ ہو تو مکروہ ہے اور بِلا تداعی کے مضائقہ نہیں۔ امام کے ساتھ ایک دو شخص تك بالاتفاق بلا کراہت جائز اور تین میں اصح قول کے مطابق کراہت نہیں اور چار مقتدی ہوں تو بالاتفاق مکروہ۔ کراہت سےمراد کراہتِ تنزیہی ہے جس کا حاصل خلافِ اولی ہے نہ گناہ حرام۔ فی زمانہ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر تنہا نفل ادا کرنے کا کہیں تو ایک بہت بڑی تعداد نفل پڑھنے ہی سے محروم رہ جائے گی اور اگر جماعت کا اہتمام ہو تو پھر بہت سے لوگ ذوق و شوق سے شریک ہو جاتے ہیں۔ سلف صالحین اور بزرگانِ دین کا یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ مسلمان عبادت کے لیے جس جائز طریقے سے بھی جمع ہو جائیں تو وہ انہیں جمع ہو کر عبادت کرنے دیتے ہیں، یوں ہی وہ عُلَماء جو دین کی حکمتیں سمجھتے اور اُمَّت کے نبض شناس ہیں؛ ان کا طریقہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کبھی عبادت سے منع نہیں کرتے۔ 

   امام شمس الائمہ سے منقول ہے ”کافی“ کانص عبارت یہ ہے:(لا یصلی تطوع بجماعة إلا قیام رمضان) وعن شمس الائمة أن التطوع بالجماعة إنما یکرہ إذا کان علی سبیل التداعی أما لو اقتدی واحد بواحد أو اثنان بواحد لایکرہ وإذا اقتدی ثلاثة بواحد اختلف فيه وإن اقتدی أربعة بواحد کرہ اتفاقاً“ یعنی (نفل جماعت کے ساتھ ادانہ کئے جائیں مگر رمضان کاقیام) شمس الائمہ سے یوں منقول ہے کہ نوافل کی جماعت اس صورت میں مکروہ ہے جب علٰی سبیل التداعی ہو، اگر ایك نے ایك کی اقتداء کی یا دو نے ایك کی توکراہت نہیں، اور جب تین ایك کی اقتداء کریں تو اس میں اختلاف ہے اور اگر چار نے ایك کی اقتداء کی تو یہ بالاتفاق مکروہ ہے۔ (خلاصة الفتاوى، الفصل الخامس عشر في الإمامة والإقتدائى، 1/153)


   اور اصح یہ ہے کہ تین مقتدیوں میں بھی کراہت نہیں، ”طحطاوی علی مراقی الفلاح“ میں ہے:”قوله اختلف فیه والأصح عدم الکراھة“ یعنی ان کا قول ” اختلف فیه “ اس میں اصح یہ ہے کہ کراہت نہیں۔ (حاشية الطحطاوى على مراقى الفلاح، باب الوتر، صفحة:211)


   ”در مختار“ میں ہے:”يكره ذلك لو على سبيل التداعي ، بأن يقتدي أربعة بواحد كما في الدرر“ یعنی اگرنفل کی جماعت علٰی سبیل التداعی ہو بایں طور پر کہ چار آدمی ایك کی اقتداء کریں تو مکروہ جیسا کہ درر میں ہے۔ (الدر المختار،كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، الجزء الثاني صفحة:500، دار عالم الكتب رياض) 


   پھر اظہر یہ کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولٰی لمخالفة التوارث (کیونکہ یہ طریقہ توارث کے خلاف ہے۔) نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو، چنانچہ ”رد المحتار“ میں ہے:”في الحلیة الظاھر أن الجماعة فیه غیرمستحبة ثم إن کان ذلك احیانا کان مباحا غیرمکروہ وإن کان علی سبیل المواظبة کان بدعة مکروھة لأنه خلاف المتوارث ویؤید أیضا ما في البدائع من قوله أن الجماعة في التطوع لیست بسنة إلا في قیام رمضان فان نفی السنیة لا یستلزم الکراھة ثم إن کان مع المواظبة کان بدعة فیکرہ و في حاشیة البحر للخیر الرملی علل الکراھة في الضياء والنھایة بأن الوتر نفل من وجه والنفل بالجماعة غیرمستحب لأنه لم تفعله الصحابة في غیررمضان وھو کالصریح في أنھا کراهة تنزیه“ یعنی حلیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نفل میں جماعت مستحب نہیں پھر اگرکبھی کبھی ایسا ہو تو یہ مباح ہے مکروہ نہیں اور اس میں دوام ہو توطریقہ متوارث کے خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت مکروہ ہے اس کی تائید بدائع کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ جماعت، قیام رمضان کے علاوہ نوافل میں سنت نہیں کیونکہ نفی سنیت کراہت کومستلزم نہیں پھر اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہوگی، خیر رملی نے حاشیہ بحر میں کہا کہ ضیاء اور نہایہ میں کراہت کی علت یہ بیان کی ہے کہ وتر من وجه نفل ہیں اور نوافل کی جماعت مستحب نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین نے رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت نہیں کرائی یہ گویا اس بات کی تصریح ہی ہے کہ جماعت مکروہ تنزیہی ہے۔ (رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، مطلب في كراهة الإقتداء في النفل على سبيل التداعي وفي صلاة الرغائب، الجزء الثاني، صفحة:500، دار عالم الكتب رياض، ملتقطاً)


   اور عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:”أما العوام فلا یمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلة رغبتھم في الخیرات بحر“ یعنی عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے، بحر۔ (الدر المختار، كتاب الصلاة، باب العيدين،الجزء الثالث،صفحة:52، دار عالم الكتب رياض) 


   ”حدیقہ ندیہ“ میں ہے:”ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلٰوۃ الرغائب بالجماعة وصلٰوۃ لیلة القدر ونحو ذلك وان صرح العلماء بالکراھة بالجماعة فیھا فلا یفتی بذلك العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء في ذلك فصنف فی جوازھا جماعة من المتاخرین وابقاء العوام راغبین فی الصلٰوۃ اولٰی من تنفیرھم“  یعنی اسی قبیل سے نماز رغائب کا جماعت کے ساتھ اداکرنا اور لیلة القدر کے موقع پر نماز وغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگر عوام میں یہ فتوٰی نہ دیا جائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پرلکھا بھی ہے، عوام کونماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ (الحديقة الندية،الخلق الثامن والأربعون من الأخلاق...إلخ، 2/150)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

   كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 

شب برات کیسے گزاریں

نیز

مسجد کے علاوہ با جماعت نماز پڑھنے والا گناہ گار ہے


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.