نیک بیوی کی صفات
از قلم: محمد ذیشان رضوی صاحب
جب کسی شخص کو ایسی عورت مل جائے جس کے بارے میں وہ گمان کرے کہ وہ اس کے لیے مناسب بیوی ہو سکتی ہے، تو اسے چاہیے کہ اس میں نیکی اور دین داری کی صفات تلاش کرے۔ اس کی توجہ صرف دنیا، جاہ و منصب یا حسب و نسب پر نہ ہو، کیونکہ عورت سے نکاح دراصل اس کے دین کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف اس کی دنیاوی حیثیت کی بنا پر۔
(سیدنا) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تنكح المراة لاربع: لمالها، ولحسبها، وجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك"
عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے (دین) کی وجہ سے اور تو (دیندار) عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہوگی)۔ [صحیح بخاری:5090]
آپ ﷺ کے فرمان (تربت يداك) دراصل سخت تنبیہ اور زجر کے طور پر آیا ہے کہ انسان صرف دنیاوی اسباب (مال، حسب، جمال) کی بنیاد پر نکاح نہ کرے۔
یہ الفاظ بظاہر فقر کی دعا کے معنی رکھتے ہیں، اس لیے اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جو شخص دنیا کو ترجیح دے گا، وہ اسی کے مطابق انجام پائے گا، یعنی جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔
اور اسے چاہیے کہ ایسی عورت کا انتخاب کرے جس میں شوہر کی اطاعت کی صفت نمایاں ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ"
تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا۔ [سورہ النساء: 34]
امام سفیان الثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: "(قانتات) یعنی: مطيعات الله ولأزواجهن". (قانتات) سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرنے والی اور اپنے شوہروں کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ [تفسیر الطبری 8/294 وسندہ صحیح]
سیدنا رسول ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عورت کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "التي تسره إذا نظر، وتطيعه إذا أمر، ولا تخالفه فيما يكره في نفسها وماله".
وہ (بہترین عورت) ہے جو شوہر کو خوش کرے جب وہ اسے دیکھے، اس کی اطاعت کرے جب وہ حکم دے، اور اپنے نفس اور اس کے مال کے بارے میں اس کی ناپسندیدہ باتوں میں اس کی مخالفت نہ کرے۔ [مسند احمد بن حنبل 15/411 ح9658 وسندہ صحیح]
لہٰذا چاہیے کہ آدمی ایسی عورت کا انتخاب کرے جس میں یہ فراست ہو کہ وہ شوہر کی عزت، مال اور حقوق کی حفاظت کرنے والی ہو، اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں، اس کے ظاہر اور باطن ہر حال میں۔
سفیان الثوری رحمہ اللہ نے کہا: "(حافظات لِلْغَيْبِ بِمَا حَفظ الله) حافظات لأزواجهن لما غاب من شأنهن."
وہ اپنے شوہروں کی غیر موجودگی میں ان کے معاملات کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، ان چیزوں کی بھی جن کا تعلق ان کے پوشیدہ حالات سے ہے۔ [تفسیر الطبری 8/295 وسندہ صحیح]
امام قتادہ بن دعامہ السدوسی رحمہ اللہ نے فرمایا: "(حافظات للغيب) يقول: حافظات لما استودعهن الله من حقه ، وحافظات لغيب أزواجهن."
وہ اس چیز کی حفاظت کرنے والی ہیں جسے اللہ نے ان کے سپرد کیا ہے، یعنی وہ اللہ کے حقوق کی بھی حفاظت کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کی غیر موجودگی میں ان کے حقوق اور رازوں کی بھی حفاظت کرتی ہیں۔ [تفسیر الطبری 8/295 وسندہ صحیح]
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

