شب برات کیسے گزاریں | محمد اویس العطاری المصباحی


شب برات کیسے گزاریں | محمد اویس العطاری المصباحی


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضراتِ محترم! ”شعبان المعظم“ کی پندرہویں رات یعنی شبِ براءت بڑی بابرکت رات ہے۔ اِس رات اللہ پاک کی خُوب رحمتوں، برکتوں کا نُزول ہوتا ہے۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں اِس رات خاص طور پر اپنی دُنیاو آخرت کی بھلائی کی دُعا مانگنی چاہیے۔

:شبِ براءت کا ثبوت اور فضائل
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ﴾ ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے اُسے برکت والی رات میں اُتارا۔ (القرآن الکریم، سورۃ الدُّخَان، پارہ:25، آیت:3)

اکثر مفسرین کے نزدیک برکت والی رات سے شبِ قدر مراد ہے اور بعض مفسرین اس سے شبِ براء ت مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے تحت امام فخر الدین رازی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفی:606؁ھ) ”تفسیر رازی“ میں لکھتے ہیں:”المسألة الخامسة:اختلفوا في هذه الليلة المباركة، فقال الأكثرون:إنها ليلة القدر، وقال عكرمة وطائفة آخرون:إنها ليلة البراءة، وهي ليلة النصف من شعبان“ یعنی پانچواں مسئلہ:اس مبارک رات کے (متعین ہونے کے) بارے میں اختلاف ہے، اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد شبِ قدر ہے، اور عکرمہ اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ اس سے شبِ براءت مراد ہے یعنی شعبان کی نصف شب۔ (تفسیر الرازی، سورۃ الدُّخَان، تحت الآية:3)

رسولِ اکرمﷺ شَعْبَانُ المُعَظَّم کے بارے میں فرمانِ مُکَرَّم ہے:”شهر رمضان شهر الله وشهر شعبان شهري“ یعنی رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے۔ (جامع صغیر، صفحہ:301، حدیث:4903)

”سنن ابن ماجہ“ میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال ہوا، تو فرمایا:”کان یصوم شعبان کلہ حتی یصلہ برمضان“ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گویا) مکمل شعبان کے روزے رکھتے تھے حتی کہ رمضان سے ملا دیتے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی وصال شعبان برمضان، صفحہ:119)

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:”إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها فإن الله تعالى ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا فيقول ألا من مستغفر لي فاغفر له ألا مسترزق فارزقه ألا مبتلى فاعافيه ألا كذا ألا كذا حتى مطلع الفجر“ یعنی شبِ براءت جب آئے شب میں جاگو اور مصروفِ عبادت رہو اور دن میں (15 شعبان) کا روزہ رکھو۔ اللہ تعالیٰ اس شَب غروبِ آفتاب کے وقت سے آسمانِ دُنیا کی طرف نُزُول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے؟ جسے میں بخش دوں۔ کوئی روزی طلب کرنے والا ہے؟ جسے میں روزی دوں۔ کیا کوئی مُبتلا ہے؟ جسے میں عافیت عنایت فرماؤں۔ اِسی طرح طُلوعِ فجر تک اپنے حاجت مندوں کو اپنی رحمت کی طرف بُلاتا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1/444)

حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے پاس جبریل آئے اور کہا یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اس میں اللہ تعالیٰ جہنم سے اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگرکافراور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور(تکبر کی وجہ سے)کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظر ِرحمت نہیں فرماتا۔“ (شعب الایمان، الباب الثالث و العشرون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، ما جاء فی لیلة النصف من شعبان، 3/383، الحدیث:3837)

محمد بن علوي بن عباس مالكى فرماتے ہیں:”كان خالد بن معدان، ولقمان بن عامر وغيرهما يلبسون فيها أحسن ثيابهم ويتبخرون ويكتحلون، ويقومون في المسجد ليلتهم تلك، ووافقهم إسحاق بن راهويه على ذلك، وقال في قيامها في المسجد جماعة:«ليس ذلك ببدعة».“ یعنی حضرت ِخالد بن معدان، حضرتِ لقمان بن عامر اور دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہم ”شعبانُ المعظم“ کی پندرہویں رات(یعنی شبِ براءَت) کواچھا لباس پہنتے، خوشبو سُلگاتے، سُرمہ لگاتے اور رات مسجد میں جمع ہو کرعبادت کیا کرتے تھے۔ حضرتِ اسحاق بن رَاہُوَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بھی اسی بات کی تائید کرتےاور اِس رات مسجدوں میں اِکٹھے ہو کر نفلی عبادت کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں:”یہ کوئی بدعت(یعنی بُراکام) نہیں ہے۔ “ (ماذا في شعبان، صفحة:75)

مشہور مُفَسِّر حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَيْهِ فرماتے ہیں:” اس مہینے کی پندرھویں رات جسے شب براءت کہتے ہیں بہت مبارک رات ہے۔ اس میں قبرستان جانا، وہاں فاتحہ پڑھنا سنّت ہے، اسی طر ح بزرگانِ دین کے مزارات پر حاضر ہونا بھی ثواب ہے اگر ہو سکے تو چودھویں اور پندرھویں تا ریخ کو روزے رکھے۔ پندرھویں تاریخ کو حلوہ وغیرہ بُزرگانِ دین کی فاتحہ پڑھ کر صدقہ و خیرات کرے اور پندرھویں رات کو ساری رات جاگ کرنفل پڑھےاور اس رات کو ہر مسلمان ایک دوسرے سے اپنے قصور معا ف کرالیں، قرض وغیرہ ادا کریں کیونکہ بغض والے مسلمان کی دُعا قبول نہیں ہوتی۔ مزیدفرماتے ہیں: اگرتمام رات نہ جاگ سکے تو جس قدر ہو سکے عبادت کرے اور زیاراتِ قبور کرے۔ اگر اس رات کو سات پتے بیری کے پانی میں جوش دے کر غسل کرے تو اِنْ شَآءَاللہ!تمام سال جادو کے اثر سےمحفو ظ رہےگا۔“ ( اسلامی زندگی، ص:134)

اس شب میں خاصانِ خدا کو عُلومِ اِلٰہیہ عطا کیے جاتے ہیں۔ زمزم شریف کا پانی بڑھ جاتا ہے۔ ہر اَمر کا فیصلہ صادِر ہوتا ہے۔ بندوں کی عُمر، رِزق، سال بھر کے تمام اُمور ملائکہ کو تفویض کیے جاتے ہیں۔ (مقالاتِ صدرُ الافاضل، صفحہ:253)

شبِ براءت کیسے گُزاریں؟

(1) اس رات نفلی نماز ادا کریں مثلاً صلاۃ التسبیح۔ اس نماز کو پڑھنے کا طریقہ:”اس کی ترکیب ہمارے طور پر وہ ہے جو سنن ترمذی شریف میں بروایت عبداﷲ بن مبارک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مذکور ہے، فرماتے ہیں: اﷲ اکبر کہہ کر سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَآ اِلٰـہَ غَیْرُکَ پڑھے پھر یہ پڑھے سُبْحَانَ اللہ وَالْحَمْدُ للہ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَاللہ اَکْبَرْ پندرہ بار پھر اَعُوْذُ اور بِسْمِ اللہ اور اَلْحَمْد اور سورت پڑھ کر دس بار یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں دس بار پڑھے پھر رکوع سے سر اٹھائے اور بعد تسمیع و تحمید دس بار کہے پھر سجدہ کو جائے اور اس میں دس بار کہے پھر سجدہ سے سر اٹھا کر دس بار کہے پھر سجدہ کو جائے اور اس میں دس مرتبہ پڑھے۔ یوہیں چار رکعت پڑھے ہر رکعت میں 75 بار تسبیح اور چاروں میں تین سو ہوئیں اور رکوع و سجود میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ، سبُحْاَنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کے بعد تسبیحات پڑھے۔ (بہارِ شریعت،4/683)

دوسری نماز کا طریقہ:اولیائے کرام کے معمولات میں سے ہے کہ 15 شعبان المعظم مغرب کے فرض وسنت وغیرہ کے بعد 6 رکعت نفل 2، 2 رکعت کرکے ادا کئے جائیں۔ پہلی 2 رکعتوں سے پہلے یہ نیت کیجئے:یا اللہ! ان 2 رکعتوں کی برکت سے مجھے درازیِ عمر بالخیر عطا فرما۔ دوسری 2 رکعتوں میں یہ نیت کیجئے:یا اللہ! ان 2 رکعتوں کی برکت سے بلاؤں سے میری حفاظت فرما۔ تیسری 2 رکعتوں کے لیے یہ نیت کیجئے:یا اللہ! ان 2 رکعتوں کی برکت سے مجھے اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کر۔ ان 6 رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے بعد جو چاہیں وہ سورتیں پڑھ سکتے ہیں، چاہیں تو ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد 3، 3 بار سورۃ الاخلاص پڑھ لیں۔ ہر 2 رکعت کے بعد 21 بار قُلْ هُو اللهُ أَحَدٌ(پوری سورت) یا 1 بار سورۂ یٰسٓ شریف پڑھئے بلکہ ہو سکے تو دونوں ہی پڑھ لیجئے۔ (فیضانِ رَمَضان، صفحہ:348)

(2) قرآنِ پاک کی تلاوت کریں۔
(3) درود پاک کی کثرت کریں۔
(4) قبرستان جا کر مردوں کو ایصال ثواب کریں۔
(5) گناہوں سے سچی توبہ کریں۔
(6) کلمہ طیبہ پڑھ لیں۔
(7) تسبیحات سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ۔ پڑھیں۔
(8) کچھ وقت دُعا مانگنے میں گُزاریں کہ اس رات بطورِ خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق، مغفرت اور عافیت مانگنے کی ندا ہوتی ہے۔
اسی طرح آپ کی جو جائز مرادیں ہیں وہ مانگیں۔
اور اس دن کا روزہ رکھیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا سب پر عَمَل کر کر لیں۔
(9) جس کا کبھی دل دُکھایا ہو تو اس کے پاس جاکر معافی مانگیں۔

طالبِ دُعا:محمد اُویس العطاری۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.