مسجد کے علاوہ با جماعت نماز پڑھنے والا گناہ گار ہے



السلام علیکم
علماے کرام و مفتیان عظام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ مساجد کے علاوہ مدارس یا دکانوں یا گھر وغیر ہ میں نماز  با جماعت ادا کرنے والے تارک جماعت ہیں یا نہیـــــں؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


----------------------------------------------
حکمِ شرع یہ ہے کہ مرد کو پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے۔ بلا عذر شرعی گھر میں نماز پڑھنے اور جماعت کو چھوڑنے والا فاسق مردود  الشہادۃ ہے۔


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ.
ترجمہ:اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (1)

مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  تفسیر نعیمی میں اس آیت کے تَحت فرماتے ہیں:”یعنی نماز اپنے گھروں میں اکیلے ہی نہ پڑھ لیا کرو بلکہ پنجگانہ جماعت میں شامل ہو کر نمازیوں کے ساتھ ادا کیا کرو تاکہ تم کو دین کی بَرَکتیں اور انوار حاصل ہوں۔“ (2)

حدیث شریف  میں ہے:
’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّیَّۃِ أَقَمْتُ صَلاۃَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِی یُحْرِقُونَ مَا فِی الْبُیُوتِ بِالنَّارِ‘‘ ۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ سے رو ایت ہے کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں عشاء کی نماز قائم کر تا اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ جو کچھ (بے نمازیوں کے ) گھروں میں ہے آگ سے جلادیں۔ (احمد)



دوسری حدیث شریف  میں ہے:”وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰى رِجَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهٗ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَلِمُسْلِم نَحوه

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں تو جمع کی جائیں پھر نمازکا حکم دوں کہ اس کی اذان دی جائے پھر کسی کوحکم دوں وہ لوگوں کی امامت کرے پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ان کے گھر جلادوں اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ وہ چکنی ہڈی یا دو اچھے کُھر  پائے گا تو عشاء میں ضرور آتا (بخاری)اور مسلم کی روایت اس کی مثل ہے۔


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”ان کے گھر جلا دوں“ کے تحت فرماتے ہیں:”اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر جماعت کی نماز بھی واجب ہے اور مسجد کی حاضری بھی،کیونکہ نور مجسم رحمت عالم سراپا اخلاق تارکین جماعت کے گھر جلانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔ مرقاۃ نے فرمایا کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی کو گھر بار جلانے کی سزا نہ دی جائے سوائے تارک جماعت کے کہ سلطان اس کو یہ سزا دے سکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ دونوں بڑے اہم ہیں“ (3)

 اشعۃ اللمعات  میں ہی:”شیخ ابن ہمام نقل کر دہ کہ اکثر مشائخ ما برین اند کہ جماعت واجب ست وتسمیۂ او بسنت بجہت آن ست کہ ثبوت وجوب آن بہ سنت است۔“

 ترجمہ: شیخ ابن ہمام رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نقل فرمایا کہ ہمارے کثیر مشائخ کا مذہب یہ ہے کہ جماعت واجب ہے اور اس کا نام سنت اس وجہ سے ہے کہ اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے۔“ (4)

فتاویٰ عالمگیری  میں ہے:”وَفِی الْغَایَۃِ قَالَ عَامَّۃُ مَشَایِخِنَا إنَّہَا وَاجِبَۃٌ وَفِی الْمُفِیدِ وَتَسْمِیَتُہَا سُنَّۃً لِوُجُوبِہَا بِالسُّنَّۃِ۔“ مفہوم اوپر گزر چکا۔ (5)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں:”پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایك وقت کابھی بلاعذر  ترك گناہ ہے۔“ (6)

چند صفحات کے بعد فرماتے ہیں:”اور مرد کوحاضری مسجد سے کوئی عذر صحیح شرعی مانع نہیں تومطلقًا مکروہ ہے کہ مرد پرحاضری مسجد واجب ہے۔“ (7)

بہار شریعت  میں ہے:”عاقل، بالغ قادر پر جماعت واجب ہے ، بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہ گار مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے توفاسق ، مردود الشہادۃ ہے ۔ اس کو سخت سزا دی جائے گی۔ اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا(یعنی جماعت میں شریک ہونے کی تاکید نہیں کی اور خاموش رہے ) وہ بھی گنہ گار ہوں گے۔“ (8)


جماعت چھوڑنے کے عذر بیان کرتے ہوئے  
:صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
”(۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو۔
(۲) اپاہج۔
(۳) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو۔
(۴) جس پر فالج گرا ہو۔
(۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے۔
(۶) اندھا اگرچہ اندھے کے لیے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔
(۷) سخت بارش اور
(۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔
(۹) سخت سردی۔
(۱۰) سخت تاریکی۔
(۱۱) آندھی۔
(۱۲) مال یا کھانے کے تلف ہونے کا اندیشہ۔
(۱۳) قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔
(۱۴) ظالم کا خوف۔
(۱۵) پاخانہ۔
(۱۶) پیشاب۔
(۱۷) ریاح کی حاجت شدید ہے۔
(۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو۔
(۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔
(۲۰) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لیے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترک جماعت کے لیے عذر ہیں“ (9)

فتاویٰ فقیہ ملت  میں ہے:”بلا عذر شرعی گھر میں نماز پڑھنے اور جماعت کو چھوڑنے والا فاسق مردود الشہادۃ ہے۔ جماعت چھوڑنے کے عذر یہ ہیں۔ مریض جسے مسجد تک جانے میں مشقت ہو، اپاہچ جس کا پاؤں کٹ گیا ہو، جس پر فالج گرا ہو، اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہو، اندھا اگر چہ اندھے کے لئے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہونچا دے سخت بارش اور سخت کیچڑ کا حامل ہونا سخت سردی، سخت تاریکی ، آندھی، مال یا کھانے کے تلف ہونے کا اندیشہ، قرض خواہ کا خوف اور یہ تنگ دست ہے ظالم کا خوف، پاخانہ، پیشاب یا ریاح کی سخت حاجت ہے، کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو، مریض کی تیمار داری کہ جماعت کے لئے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا۔ ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۱۳۱ میں ہے۔

لہذا اگر ان عذروں میں سے کوئی عذر نہ پایا جائے تو فرض و واجب اور تحیۃ المسجد و پنج وقتی سنتیں سب مسجد ہی میں پڑھیں ان کے علاوہ تہجد اور تحیۃ الوضو وغیرہ سارے نوافل گھر پر پڑھیں تو بہتر ہے۔“ (10)

 لہذا بلا عذرِ شرعی گھر یا مدارس میں باجماعت نماز پڑھنا مناسب نہیں، ایسے شخص کو تارکِ جماعت نہیں کہا جائے گا اور بغیر جماعت گھر یا مدارس یا کہیں بھی نماز پڑھنے کی قطعاً اجازت نہیں۔

فضائل بیت المقدس پر ایک تحقیقی تقریر مضمون کو مکمل پڑھیں 👇 
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/blog-post_87.html?m=1
=============================

(1) `القرآن المجید`، البقرۃ:2، آیت:43.
(2)`تفسیرِ نعیمی`، پارہ:1، البقرۃ، تحت الآیۃ:43/1/292.
(3) `مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح`، جلد:2، حدیث نمبر:1053.
(4)اشعۃ اللمعات`، کتاب الصلاۃ، باب الجماعۃ و فضلھا، الفصل الاول، جلد:1، صفحہ:492.
 (5)`الفتاوی الھندیہ`، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس، الفصل الأول فی الجماعۃ، جلد:1، صفحہ:82.
(6)`فتاویٰ رضویہ`، جلد:7، صفحہ:195.
(7)`المرجع السابق`، صفحہ:209
(8)`بہارِ شریعت`، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:582، مطبوعہ مکتبہ المدینہ (دعوت اسلامی).
(9) `المرجع السابق`، صفحہ:583-584.
*(10)* `فتاویٰ فقیہ ملت`، جلد:1، صفحہ:149.


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.