بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

ایک روزہ رکھنا کیسا ہے؟

 

ایک روزہ رکھنا کیسا ہے؟


ایک روزہ رکھنا کیسا ہے؟ 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ


    ایک روزہ رکھنا جائز ہے جبکہ اغیار سے مشابہت نہ ہو، ورنہ مکروہِ تنزیہی۔ جیسے تنہا عاشوراء كا روزه ركهنا، تنہا ہفتے کا روزہ رکھنا یہودیوں کی مشابہت کے سبب مکروہ ہے۔ نیروز ومہرگان کے دن روزہ رکھنا۔ خصوصیت کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنا۔ 

   ”حاشیة الطحطاوى“ میں ہے:”كره تنزيهاً (كصوم) يوم (عاشوراء منفرداً عن التاسع) أو عن الحادي عشر ... (وكره إفراد يوم الجمعة) بالصوم لقوله ﷺ :« لا تخصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين الايام الا ان يكون في صوم يصومه احدكم» رواه مسلم) النهي للتنزيهي (و) كره (إفراد يوم السبت) للتشبه باليهود... (و) كره إفراد (يوم النيروز) ... (أو) إفراد يوم (المهرجان).“ (حاشیة الطحطاوى على مراقى الفلاح، كتاب الصوم، صفحة:640-641، دار الكتب العلمية بيروت ملتقطاً.) 


    والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 

کن دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے

نیز

اُلٹی آنے سے روزہ کب ٹوٹتا ہے۔


0 Response to "ایک روزہ رکھنا کیسا ہے؟ "

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->