کن دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے


کن دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے


کن دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


    اَیَّامِ تشریق (یعنی 9 تا 13 ذی الحجہ) اور عید الفطر کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ حاجی کو عرفات میں عرفہ یعنی 9 ذی الحجہ کا روزہ رکھنا منع ہے۔ یوم الشّک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیّت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے، خواہ مطلق روزہ کی نیّت ہو یا فرض کی یا کسی واجب کی، خواہ نیّت معیّن کی کِی ہو یا تردد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر رمضان کی نیّت ہے تو مکروہ تحریمی ہے، ورنہ مقیم کے لیے تنزیہی اور مسافر نے اگر کسی واجب کی نیّت کی تو کراہت نہیں۔ اور ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ، صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا)، صومِ سکوت (یعنی ایسا روزہ جس میں  کچھ بات نہ کرے)، صومِ وصال کہ روزہ رکھ کر افطار نہ کرے اور دوسرے دن پھر روزہ رکھے، یہ سب مکروہِ تنزیہی ہیں۔ 

   عید اور ایام تشریق کے روزے رکھنا جائز نہیں، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:وعن ابي سعيد الخدري قال: نهى رسول الله صلی اللہ عليه وسلم عن صوم يوم  الفطر والنحر“ یعنی روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید و قربانی کے دنوں(یعنی دسویں، گیارھویں، بارھویں، تیرھویں ذی الحجہ۔) میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب تحریم یوم العیدین،  الحدیث:2570) 

   دوسری حدیث پاک ہے:”عن نبيشة الهذلي قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم:"أيام التشريق أيام اكل وشرب وذكر الله". رواه مسلم“ یعنی روایت ہے حضرت نبیشہ ہذلی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تشریق کا زمانہ کھانے اور پینے اور اللہ کے ذکر کا زمانہ ہے اسے مسلم نے روایت کیا۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الصوم، باب صیام التطوع، الحدیث:2050) 

   حاشیة الطحطاوى میں ہے:”(والثاني) الذي كره تحريماً (صوم العيدين) الفطر والنحر للإعراض عن ضيافة الله ومخالفة الأمر (و) منه صوم (أيام التشريق) لورود النهي عن صيامنا“ یعنی (رمضان کی ساتویں قسم میں سے) دوسری قسم جو مکروہِ تحریمی ہے وہ عیدین یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہے اللہ پاک کی ضیافت سے اعراض کرنے اور حکم کی مخالفت کی وجہ سے، اور اسی سے ایامِ تشریق(یعنی 9 تا 13 ذی الحجہ) کے روزے ہیں۔ ان کی ممانعت وارد ہونے کی وجہ سے۔ (حاشیة الطحطاوى على مراقى الفلاح، كتاب الصوم، صفحة:640، دار الكتب العلمية بيروت) 

   ”اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے چار روزوں کی ممانعت کے متعلق فرماتے ہیں:”یہ دن اللہ عزوجل کی طرف سے بندوں کی دعوت کے ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:10، صفحة:355، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی) 

   حج کرنے والے پر جو عرفات میں ہے، اُسے عرفہ کے دن کا روزہ مکروہ ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:”عن ابي هريرة ان رسول الله صلی اللہ عليه وسلم نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة.“ یعنی روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضورﷺ نے عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (سنن أبي داود، کتاب الصیام، باب في صوم یوم عرفة بعرفة، الحدیث:2440، جلد:2، صفحة:479)

   یوم الشک روزے کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا:من صام یوم الشك فقد عصی أبا القاسم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم“ یعنی جس نے یومِ شك کاروزہ رکھا اس نے حضور ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ (سنن ابی داوُد، باب کراهة صوم يوم الشك، 2/95-96) 

   ”درمختار“ میں ہے:  (لا یصام یوم الشك) ھو یوم الثلثین من شعبان وان لم یکن علة...(إلا نفلاً) ویکرہ غیرہ.“  یعنی یومِ شك میں روزہ نہ رکھا جائے اور یہ شعبان کا تیسواں دن ہوسکتا ہے اگر چہ کوئی علت نہ ہو، ہاں نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ مکروہ ہے ملخصاً۔ (الدر المختار، كتاب الصوم، مبحث في صوم يوم الشك،  الثالث، صفحة:346،دار عالم الكتب رياض)

مکروہِ تنزیہی روزے کے متعلق ”رد المحتار“ میں ہے:”وتنزيهاً كعاشوراء وحده، وسبت وحده، ونيروز ومهرجان إن تعمده، وصوم دهره، وصوم صمت ووصال.“ (الدر المختار، كتاب الصوم، الجزء الثالث، صفحة:337، دار عالم الكتب رياض) 



واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصاحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مزید پڑھیں 👇🏻 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.