بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
sada e qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

عندَ المحدّثين: "مثله"و "نحوه" اور "شاهد" و "متابع" میں فرق


عندَ المحدّثين: "مثله"و "نحوه" اور "شاهد" و "متابع" میں فرق



از قلم: ابو الحسن محمد شعیب خان



محدّثینِ کرام کے نزدیک جب کسی حدیث کو ایک سند سے روایت کرنے کے بعد دوسری سند سے بھی ذکر کیا جاتا ہے، تو ان کے الفاظ کے انتخاب میں ایک نہایت دقیق فرق پایا جاتا ہے۔


جب ایک راوی کسی حدیث کو روایت کرے، پھر دوسرا راوی بھی اسی حدیث کو نقل کرے اور اس کی روایت پہلی روایت کے موافق ہو، تو اس دوسرے راوی کو متابع کہا جاتا ہے، جیسا کہ محدثین کے اسلوب میں آتا ہے: «تابع فلان» یا «له متابعات»۔

اگر دونوں روایتیں الفاظ کے اعتبار سے ایک جیسی ہوں، تو راوی یا مصنّف فرماتا ہے: «مثله»۔

اور اگر دونوں روایتیں معنی و مفہوم کے لحاظ سے متفق ہوں مگر الفاظ میں کچھ فرق ہو، تو اس کے لیے لفظ «نحوه» استعمال کیا جاتا ہے۔


امام الحاکم ابو عبد الله النیسابوری رحمہ اللہ نے اس باریک فرق کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے: يلزم الحديثيّ من الإتقان أن يفرق بين مثله ونحوه، فلا يحل أن يقول مثله إلا إذا اتفقا في اللفظ، ويحل نحوه إذا كان بمعناه.

مفہوم: حدیث کے ماہر پر لازم ہے کہ وہ «مثله» اور «نحوه» کے مابین فرق کو پیشِ نظر رکھے۔ پس یہ جائز نہیں کہ وہ «مثله» کہے مگر جب دونوں روایتیں لفظاً متفق ہوں، اور اگر وہ صرف معنی میں متفق ہوں تو اس کے لیے «نحوه» کہنا درست ہے۔ (التقريب مع التدريب، النوع السادس والعشرون، صفة رواية الحديث)

اسی اصول کی طرف امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی ألفیۃ الحدیث میں نہایت لطیف اشارہ فرمایا ہے: الحاکمُ اخْصُصْ نَحْوَهُ بِالمعنىومِثْلَهُ باللفظِ فَرْقٌ يُعْنى
یعنی: امام حاکم کے قول کے مطابق «نحوه» کا اطلاق وہاں ہوگا جہاں احادیث معنی کے اعتبار سے متفق ہوں، اور «مثله» وہاں کہا جائے گا جہاں الفاظ میں بھی اتحاد پایا جائے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اسی مضمون کو نہایت جامع اور دقیق انداز میں یوں بیان فرمایا ہے: والمتابع إن وافق الأصل فى اللفظ والمعنى يقال "مثله"، وإن وافق فى المعنى دون اللفظ يقال "نحوه". (مقدمة الشيخ المحقق، ص ٦٦)


مفہوم: اگر متابعت کرنے والے راوی کی روایت لفظ و معنی دونوں میں اصل کے موافق ہو تو اسے «مثله» کہا جاتا ہے، اور اگر صرف معنی میں موافق ہو تو اسے «نحوه» سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

فائدہ

اگر المتابِع اور المتَابَع دونوں کی روایت ایک ہی صحابی سے منقول ہو تو اسے متابع کہا جاتا ہے۔
اور اگر دونوں کی روایتیں دو مختلف صحابہ سے مروی ہوں، تو اس صورت میں متابعت کرنے والے کو شاهد کہا جاتا ہے — خواہ وہ لفظاً و معناً دونوں متحد ہوں یا فقط معناً۔

:چنانچہ محدثین فرماتے ہیں
«له شاهد من حديث أبي هريرة»، یا «له شواهد»، یا «يشهد به فلان»۔
یہی وہ علمی نکتہ ہے جس پر دقیق فہم و نظر ضروری ہے، تاکہ روایت و درایت میں تمیز اور تحقیق دونوں برقرار رہیں۔

0 Response to "عندَ المحدّثين: "مثله"و "نحوه" اور "شاهد" و "متابع" میں فرق"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->