لفظ «شیطان» سے راوی کی مدح و سرائی: محدثین کا ایک لطیف اسلوب
Monday, 5 October 2026
Add Comment
لفظ «شیطان» سے راوی کی مدح و سرائی: محدثین کا ایک لطیف اسلوب
✍🏻: محمد ارسل
لفظ شیطان "شطن" سے مشتق ہے، لغوی اعتبار سے شیطان کا معنیٰ خیر سے دوری، مخالفت و سرکشی، سخت مزاجی، بغاوت اور فساد جیسے معانی کے گرد گھومتا ہے، خواہ یہ وصف جنات میں پایا جائے، انسانوں میں یا حیوانات میں: الشيطان: (كل عات متمرد من إنس أو جن أو دابة)
شیطان ہر اس سرکش اور نافرمان کو کہا جاتا ہے خواہ وہ انسانوں میں سے ہو، جنات میں سے ہو یا جانوروں میں سے ہو ۔ [ تاج العروس للزبیدی (35/278) ]
أنه من شطن إذا بعد عن الحق أو عن رحمة الله فتكون النون أصلية ووزنه فيعال وكل عات متمرد من الجن والإنس والدواب فهو شيطان
شیطان کا لفظ «شَطَنَ» سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں حق سے یا الله کی رحمت سے دور ہونا، اس اعتبار سے اس کے لفظ میں نون اصلی ہے اور اس کا وزن «فَيْعَال» ہوگا، اور جنات، انسانوں اور جانوروں میں سے ہر سرکش و نافرمان کو شیطان کہا جاتا ہے ۔۔۔[ المصباح المنیر للحموی (1/313) ]
بعيد عن الحق؛ لأن الشاطن بعد عن أمر ربه
شیطان سے مراد حق سے دور شخص ہے کیونکہ «شاطن» وہ ہے جو اپنے رب کے حکم سے دور ہو گیا ہو ۔۔۔[ مجمع الغرائب للفارسی (6/313) ]
(الشيطان) روح شرير مغو وكل متمرد مفسد والحية الخبيثة ويقال في تقبيح الشيء كأنه وجه شيطان أو رأس شيطان
شیطان ایک بدکار اور گمراہ کرنے والی روح کو کہتے ہیں، اور ہر سرکش و فساد برپا کرنے والے کو بھی شیطان کہا جاتا ہے۔ اسی طرح زہریلے یا خبیث سانپ کو بھی شیطان کہا جاتا ہے، اور کسی چیز کی انتہائی قباحت بیان کرنے کے لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گویا یہ شیطان کا چہرہ یا شیطان کا سر ہے ۔۔۔ [ المعجم الوسیط (1/483) ]
لغت کی ان چند کتب کے اقتباسات سے معلوم ہوا کہ لفظ شیطان حق سے دور رہنے والے فساد کرنے والے، سرکشی کرنے والے، نافرمانی کرنے والے کیلئے بولا جاتا ہے، لیکن بسا اوقات بعض متقدم ناقدینِ حدیث اور ان کے بعد آنے والے بعض اہلِ علم نے یہ لفظ ایک دوسرے معنی میں بھی استعمال کیا ہے، یعنی راوی کے انتہائی مضبوط حافظے اور اس کی حدیث کے عمدہ و اعلیٰ معیار کیلئے بھی یہ لفظ بولا گیا ہے، یعنی انہوں نے لفظ شیطان سے راوی کی مدح و توصیف بیان کی ہے، جیسا کہ امام أبو حاتم إبنِ حبان البستی علیہ الرحمہ (م 354ھ) نقل کرتے ہیں:
أخبرنا عبد الله بن قحطبة، قال: سمعت العباس بن عبد العظيم العنبري، يقول: سمعت عبد الرحمن بن مهدي، يقول: لما قدم سفيان البصرة قال لي: يا عبد الرحمن جئني بإنسان أذاكره، فأتيته بيحيى بن سعيد القطان فذاكره، فلما خرج قال لي: يا عبد الرحمن قلت لك: جئني بإنسان فجئتني بشيطان
عبد الرحمن بن مہدی علیہ الرحمہ (م 198ھ) فرماتے ہیں کہ جب امام سفیان ثوری علیہ الرحمہ (م 161ھ) بصرہ تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے عبد الرحمن! میرے پاس کوئی ایسا انسان لاؤ جس کے ساتھ میں حدیث کا مذاکرہ کر سکوں، چنانچہ میں ان کے پاس یحییٰ بن سعید القطان علیہ الرحمہ (م 198ھ) کو لے آیا، تو سفیان ثوری علیہ الرحمہ نے ان کے ساتھ حدیث کا مذاکرہ کیا، جب یحییٰ وہاں سے چلے گئے تو سفیان ثوری علیہ الرحمہ نے مجھ سے فرمایا: اے عبد الرحمن! میں نے تم سے کہا تھا کہ میرے پاس ایک انسان لاؤ، مگر تم میرے پاس ایک شیطان لے آئے ۔۔۔[ المجروحین لابن حبان - (1/50) - ط: دار الصمیعی الریاض ]
امام سفیان ثوری علیہ الرحمہ نے لفظ شیطان سے امام یحییٰ بن سعید القطان کی تعریف و ثنا مراد لی، یعنی یحییٰ بن سعید القطان علیہ الرحمہ کے غیر معمولی حافظے اور حدیث میں کمالِ مہارت کی وجہ سے سفیان ثوری علیہ الرحمہ ان کے علم و حفظ سے بے حد متاثر ہوئے، جیسا کہ اس واقعے کو نقل کرنے کے بعد اس کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ شمس الدین ذھبی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
يعني: بهره حفظه- یعنی اس کے حافظے نے انھیں حیران کر دیا تھا [ سیر أعلام النبلاء - (9/177) - ط: الرسالة بیروت ]
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: يعني اندهش سفيان من حفظه یعنی سفیان ثوری علیہ الرحمہ ان کے حافظے سے ششد رہ گئے ۔۔۔[ تذکرۃ الحفاظ - (1/219) - ط: العلمیة بیروت ]
حافظ أبو الحسن علی بن جعد البغدادی (م 230ھ) نقل کرتے ہیں: حدثنا محمود بن غيلان، نا شبابة، نا شعبة، وذكر عنده أوس بن ضمعج قال: «والله ما أراه كان إلا شيطانا. يعني لجودة حديثه»
امام شعبہ بن الحجاج علیہ الرحمہ (م 160ھ) کے سامنے تابعی أوس بن ضمعج علیہ الرحمہ (م 74ھ) کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: الله کی قسم! میں تو انہیں شیطان کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھتا، یعنی ان کی حدیث کی عمدگی کی وجہ سے ۔۔۔ [ مسند إبن الجعد - (ص: 135) - ط: مؤسسة نادر بیروت ]
اسی قول کو حافظ خطیب بغدادی علیہ الرحمہ اور امام إبن أبی حاتم علیہ الرحمہ نے بھی نقل کیا ہے، لیکن امام ابن ابی حاتم نے امام شعبہ کی جگہ اسماعیل بن رجاء علیہ الرحمہ کی طرف اس کی قول کی نسبت کی ہے، اور امام أبو داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی علیہ الرحمہ (م 204ھ) سے منقول ہے کہ انہوں نے کہ امام علی بن المدینی علیہ الرحمہ (م 234ھ)، حافظ سلیمان بن شاذکونی علیہ الرحمہ (م 234ھ) اور امام عمرو بن علی الفلاس علیہ الرحمہ (م 249ھ) کو انسانوں کے شیاطین کہا، جیسا کہ حافظ خطیب بغدادی رحمہ اللّٰه نقل کرتے ہیں:
أخبرنا البرقاني، أخبرنا أبو بكر الإسماعيلي، أخبرنا عبد الله بن محمد بن سيار قال: سمعت إبراهيم بن الأصبهاني يقول: كان أبو داود الطيالسي بأصبهان، فلما أراد الرجوع أخذ يبكي، فقالوا له يا أبا داود إن الرجل إذا رجع إلى أهله فرح واستبشر، وأنت تبكي؟! فقال: إنكم لا تعلمون إلى من أرجع، إنما أرجع إلى شياطين الإنس، علي بن المديني، وابن الشاذكوني، وابن بحر السقاء- يعني عمرو بن علي
امام أبو داؤد الطیالسی علیہ الرحمہ اصفہان میں تھے، جب واپسی کا ارادہ کیا تو رونے لگے، لوگوں نے ان سے کہا: اے أبو داؤد! جب کوئی شخص اپنے گھر واپس جاتا ہے تو خوش اور شاداں ہوتا ہے، لیکن آپ رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: تم نہیں جانتے کہ میں کس کے پاس واپس جا رہا ہوں! میں تو انسانوں کے اِن شیطانوں کے پاس واپس جا رہا ہوں: علی بن مدینی، ابن شاذکونی، اور ابن بحر السقاء یعنی عمرو بن علی الفلاس ۔۔۔ [ تاریخ بغداد - (9/44) - ط: العلمیة بیروت ]
اس کو نقل کرنے کے بعد شیخ أحمد بن معبد عبد الکریم أطال الله عمرہ لکھتے ہیں:
فهؤلاء الثلاثة من أئمة نقاد الحديث ، وأطلق عليهم معاصرهم الطيالسي وصف و شياطين الإنس ، مبالغة في توثيقهم ومهارتهم النقدية، وبذلك تلاحظ إطلاق هذه اللفظة بهذا المعنى الاصطلاحي من غير واحد من أئمة النقد ، خلافا للإطلاق الأصلي لها في اللغة
یہ تینوں حدیث کے آئمہ اور ناقدین میں سے تھے، ان کے معاصر أبو داؤد الطیالسی علیہ الرحمہ نے ان تینوں کو «شیاطین الإنس» یعنی «انسانوں کے شیاطین» کا وصف دیا، اس سے مراد ان کی توثیق میں مبالغہ اور نقدِ حدیث میں ان کی غیر معمولی مہارت تھی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متعدد آئمۂ نقد نے اس لفظ کو اُس معنی میں استعمال کیا جو اس کے اصل لغوی استعمال کے برخلاف ہے ۔۔۔ [ ألفاظ و عبارات الجرح و التعدیل - (ص: 17) - ط: أضواء السلف الریاض ]
اس سے معلوم ہوا کہ بعض متقدمین آئمہ حدیث بسا اوقات جلیل القدر آئمہ کیلئے لفظ شیطان بول کر ان کی جلالتِ علمی اور علمِ حدیث میں غیر معمولی مہارت و راسخ پن مراد لیتے ہیں، لیکن وہیں آئمہ حدیث یہ لفظ یعنی شیطان جرحِ شدید کے طور پر بھی راویوں کیلئے استعمال کرتے ہیں، جو کہ کتبِ جرح و تعدیل میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "لفظ «شیطان» سے راوی کی مدح و سرائی: محدثین کا ایک لطیف اسلوب"
Post a Comment