اسماعیل بن عبيد اللہ بن ابی المہاجر المخزومی الدمشقی رحمہ اللہ
Sunday, 4 October 2026
Add Comment
اسماعیل بن عبيد اللہ بن ابی المہاجر المخزومی الدمشقی رحمہ اللہ
از قلم: محمد ذیشان رضوی
آپ رحمہ اللہ بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ کے راویوں میں سے ہیں، بالاتفاق (ثقہ) ہے، ان کا تذکرہ درج ذیل ہے:
ولادت: 61 ھجری
(تاریخ دمشق لابن عساکر ج8 ص442)
نام و نسب: اسماعیل بن عبید اللہ بن ابی المہاجر، (جن کا نام) اقرم القرشی المخزومی ابو عبد الحمید الدمشقی ہے، بنو مخزوم کے مولیٰ (غلام) تھے،(تہذیب الکمال للمزی ج1 ص485 ت465)
:شیوخ: آپ کے اساتذہ میں سے بعض کے نام درج ذیل ہے
شیوخ: (سیدنا) انس بن مالک، خالد بن عبد اللہ بن حسین، سائب بن یزید، عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ام الحکم، عبد الرحمن بن غنم الاشعری، عطاء بن يزيد الليثی، علی بن عبد اللہ بن عباس، قبيصہ بن ذويب الخزاعی وغیرہ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج8 ص429، تہذیب الکمال للمزی ج1 ص485 ت465)
تلامذہ: اسماعيل بن رافع المدنی، ربيعہ بن یزید، سعید بن بشیر، سعید بن عبد العزیز، عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعی، عبد الرحمن بن يزيد بن تميم، كلثوم بن زياد المحاربی، محمد بن الحجاج القرشی، ہيثم بن عمران العنسی وغیرہ۔ (تہذیب الکمال للمزی ج1 ص485 ت465)
توثیق اور علمی مقام: امام يوب بن تميم القارى رحمہ اللہ (ثقہ/ تاریخ الاسلام الذہبی 13/114) نے (امام) الاوزاعى سے روایت کیا ہے کہ
"انه كان اذا حدث عن اسماعيل بن عبيد الله قال: وكان مأمونا على ما حدث
جب وہ (الاوزاعى) اسماعیل بن عبید اللہ سے حدیث بیان کرتے تو کہتے: اور وہ اپنی بیان کردہ روایت کے بارے میں قابل اعتماد تھے۔ (الجرح والتعدیل 2/183 وسندہ حسن)
امام سعید بن عبد العزیز التنوخی رحمہ اللہ جب اسماعیل بن عبید اللہ سے حدیث بیان کرتے تو کہتے: "وكان ثقة صدوقا"... اور وہ ثقہ، صدوق تھے۔(الجرح والتعدیل 2/183 وسندہ حسن)
امام العجلی رحمہ اللہ نے ان کو کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے (کتاب الثقات 1/226 ت93)
امام یحییٰ بن معین رحمہ نے کہا: "إسماعيل بن عبيد الله بن أبي المهاجر كان معلما"..
اسماعیل بن عبید اللہ بن ابی المہاجر معلم (استاذ) تھے۔(تاریخ ابن معین روایہ الدوری 2/471 رقم:5339)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہا: "الإمام الكبير أبو عبد الحميد الدمشقي مولى بني مخزوم ومفقه أولاد عبد الملك الخليفة، من الثقات العلماء".امام الکبیر ابو عبد الحمید الدمشقی بنو مخزوم کے مولى۔ اور (ان کو) اولادِ خلیفہ عبد الملک (کی جانب) مفتی (فقیہ) بنایا گیا، (اور وہ) ثقہ علماء میں سے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء 5/213)
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔ دیکھئے تقریب التہذیب (470)
آپ رحمہ اللہ سے مروی احادیث: امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح (1945) میں ان سے روایت ذکر کی ہے۔
اسی طرح امام مسلم نے صحیح مسلم (2630، ترقیم عبدالباقی: 1122) میں اور امام ابو داود نے سنن ابی داود (2409 صحیح) میں امام الترمذی نے (سنن الترمذی: 2088 حسن) اور ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (1340 وسندہ ضعیف، 3470 حسن، 3792 حسن) اور ابن حبان نے (الاحسان: 1465 صحیح لغیرہ) میں روایت نقل کی ہے جس کے علاوہ اور بھی محدثین نے ان سے روایت ذکر کی ہے۔
:افریقہ کے والی
عبد الرحمن بن یزید بن جابر نے کہا: "عقد عمر بن عبد العزيز الإسماعيل بن عبيد الله على جند أفريقية وبها من بها من قريش وغيرهم، وهو مولى لبني مخزوم."
عمر بن عبد العزیز نے اسماعیل بن عبید اللہ کو افریقہ کے لشکر کی امارت سونپی، جبکہ وہاں قریش اور دیگر قبائل کے لوگ بھی موجود تھے، اور وہ بنو مخزوم کے مولیٰ تھے۔ (تاریخ ابو زرعہ الدمشقی ص149 رقم:711 وسندہ صحیح)
خليفہ بن خياط نے کہا ہے:
پھر (افریقہ میں) اسماعیل بن عبید اللہ، جو بنو مخزوم کے مولیٰ تھے، کو والی مقرر کیا گیا۔ وہ (100 ھجری) میں وہاں پہنچے، اور ان کی حکومت کے زمانے میں بربر کی اکثریت مسلمان ہوگئی۔ وہ بہترین سیرت کے مالک تھے، یہاں تک کہ عمر (بن عبد العزیز رحمہ اللہ) کا انتقال ہوگیا۔ (تاریخ خليفہ بن خياط ص323)
وفات: 131 ھجری۔ رحمہ اللہ
وما علينا إلا البلاغ
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "اسماعیل بن عبيد اللہ بن ابی المہاجر المخزومی الدمشقی رحمہ اللہ"
Post a Comment