غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں استعمال کرنا کیسا ہے؟
Saturday, 3 October 2026
Add Comment
غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں استعمال کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
مسجد کی تعمیر کے معاملے میں غیر مسلم سے مدد نہیں لینی چاہیے بلکہ سنی صحیح العقیدہ مسلمان کا پیسہ لگایا جائے۔ لہذا اگر کوئی غیر مسلم نیاز مندانہ طور پر پیسہ دے تو اس کو لینے میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس کے سبب اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں کو بھی مندر کی تعمیر اور ان کے دوسرے مذہبی پروگراموں میں چندہ دینا پڑے گا۔ لیکن کوئی غیر مسلم اگر اس طور پر روپیہ دیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان کرے گا یا اس کے سبب مسجد میں مداخلت رہے گی تو اس صورت میں اس سے پیسہ لینا جائز نہیں۔
کفار سے مسجدوں کی تعمیر کے معاملے میں مدد نہیں لینی چاہیے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے:”﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِؕ-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ۚۖ-وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:مشرکوں کو نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں خود اپنے کفر کی گواہی دے کر ان کا تو سب کیا دھرا اِکا رت ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ (القرآن المجید، سورۃ التوبة، الآية:17)
اس آیت کے تحت ”تفسیر کبیر“ میں ہے:”المَسْألَةُ الرّابِعَةُ: قالَ الواحِدِيُّ: دَلَّتِ الآيَةُ عَلى أنَّ الكُفّارَ مَمْنُوعُونَ مِن عِمارَةِ مَسْجِدٍ مِن مَساجِدِ المُسْلِمِينَ، ولَوْ أوْصى بِها لَمْ تُقْبَلْ وصِيَّتُهُ. یعنی چوتھا مسئلہ: واحدی نے فرمایا: اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کفار کو مسلمانوں کی کسی بھی مسجد کو تعمیر کرنے سے روکا جائے گا، اور اگر وہ اس کی وصیت بھی کر جائے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔ (تفسير الرازي، سورة التوبة، تحت الآية:17)
”تفسیر صراط الجنان“ میں ہے:”تنبیہ: کفار سے مسجدوں کی تعمیر کے معاملے میں مدد نہیں لینی چاہیے اگرچہ بعض صورتوں میں اس کی اجازت ہوتی ہے۔“ (صراط الجنان، سورة التوبة، تحت الآية:17)
کفار سے مدد لینا ممنوع اور سخت معیوب ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:”إنا لا نستعين بمشرك.“ یعنی ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔ (ابو داؤد، جلد:3، صفحہ:100، الحدیث:2732)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”مسجد میں لگانے کو روپیہ اگر اس طور پر دیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب مسجد میں اس کی کوئی مداخلت رہے گی تو لینا جائز نہیں اور اگر نیاز مندانہ طور پر پیش کرتا ہے تو حرج نہیں جب کہ اس کے عوض کوئی چیز کافر کی طرف سے خرید کر مسجد میں نہ لگائی جائے بلکہ مسلمان بطور خود خریدیں یا راجوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اور اس میں بھی اسلم وہی طریقہ ہے کہ کافر مسلمان کو ہبہ کردے مسلمان اپنی طرف سے لگائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد:16، صفحہ:526، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِكتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں استعمال کرنا کیسا ہے؟"
Post a Comment