سنن اور نوافل کا ثبوت حدیث میں کہاں ہے؟
Saturday, 5 September 2026
Add Comment
کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے نماز میں تو صرف فرض ہیں تو یہ سنتیں اور نوافل پڑھنا کہاں ہے اور حضور نے نوافل ادا فرمایں؟ جواب عنایت فرمایں۔ سائل: معین الدین بدایونی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَاب
جس طرح دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں اسی طرح دن اور رات کی پانچ نمازوں میں بارہ رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں۔ بشمول جمعہ سے پہلے اور بعد والی سنتیں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی۔ بلا عذر ایک بار بھی ترک کرے تو مستحق ملامت ہے اورترک کی عادت کرے تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحق نار ہے، سنت مؤکدہ کو سنن الہدی بھی کہتے ہیں۔ اور بعض سنت، سنتِ غیر مؤکدہ ہیں جس کو سنن الزوائد بھی کہتے ہیں۔ اس پر شریعت میں تاکید نہیں آئی، کبھی اس کو مستحب اور مندوب بھی کہتے ہیں۔ ان کا ثبوت احادیث طیبہ میں موجود ہے، حضور ﷺ نے انہیں خود بھی ادا فرمایا ہے اور پڑھنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی ہے۔ اسی طرح ظہر، مغرب اور عشاء کے نوافل احادیث طیبہ سے ثابت ہیں۔ اور حضور ﷺ نے بھی نوافل ادا فرمائے ہیں۔
دن اور رات میں بارہ رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں، چنانچہ مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ام المومنین ام حبیبہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”من صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة بني له بيت في الجنة: اربعا قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الفجر.“ یعنی جو مسلمان بندہ اﷲ (عزوجل) کے لیے ہر روز فرض کے علاوہ تطوّع (نفل) کی بارہ رکعتیں پڑھے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنائے گا، چار ظہر سے پہلے اور دو ظہر کے بعد اور دو ۲ بعدِ مغرب اور دو ۲ بعدِ عشا اور دو ۲ قبلِ نمازِ فجر۔ (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل السنن۔۔۔ إلخ، الحدیث:103۔ (728)، صفحہ:367۔ / جامع الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء فیمن صلی في یوم و لیلۃ ۔۔۔إلخ، الحدیث:415، جلد:1، صفحہ:424)
ملا علی قاری رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفی:1014ھ) اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:”وكلها مؤكدة وآخرها آكدها.“ یعنی اور یہ سب سنتِ مؤکد ہیں اور ان میں سے آخری (یعنی فجر کی دو سنتیں) سب سے زیادہ مؤکد ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب الصلاة، باب السنن وفضائلها، الفصل الأول، تحت الحديث:1159، الجزء الثالث، صفحة:216، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
سنت کی قسمیں اور ان کا حکم بیان کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دمشقی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفی:1292ھ) لکھتے ہیں:”والسنة نوعان:سنة الهدى، وتركها يوجب إساءة وكراهية... وسنة الزوائد: وتركها لا يوجب ذلك.“ یعنی اور سنت دو قسم کی ہے:سنتِ ہدیٰ: جسے چھوڑنے سے برائی اور کراہت لازم آتی ہے۔ دوسری سنتِ زوائد: جسے چھوڑنے سے وہ برائی اور کراہت لازم نہیں آتی۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، مطلب في السنة وتعريفها، الجزء الأول، صفحة:218، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض، ملتقطاً)
سنتِ مؤکدہ کی تعداد کے متعلق ”تنویر الابصار مع در مختار“ میں ہے:”(وسنّ) مؤكداً (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء).“ یعنی "موکدہ سنتیں یہ ہیں:ظہر سے پہلے چار رکعت، جمعہ سے پہلے چار رکعت، اور جمعہ کے بعد چار رکعت ایک سلام کے ساتھ، اور فجر سے پہلے دو رکعت، اور ظہر، مغرب اور عشاء کے بعد دو دو رکعت۔ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، الجزء الثاني، صفحة:451-452، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)
فتاویٰ عالمگيرى میں ہے:”سن قبل الفجر وبعد الظهر والمغرب والعشاء ركعتان وقبل الظهر والجمعة وبعدها أربع كذا في المتون.“ یعنی فجر سے پہلے، ظہر کے بعد، مغرب کے بعد اور عشاء کے بعد 2-2 رکعتیں، اور ظہر و جمعہ سے پہلے اور ان کے بعد 4-4 رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں۔ ایسا ہی متون میں ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، الجزء الأول، صفحة: 124، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
فجر کی سنت کے حوالے سےحدیث پاک میں ہے:”عن عائشة قالت لم يكن النبى صلى الله عليه وآله وسلم على شيء من النوافل أشد تعاهد منه على ركعتي الفجر.“ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں: حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ان کی جتنی محافظت فرماتے کسی اور نفل نماز کی نہیں کرتے۔ (صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر،...إلخ، جلد:1،صفحة:156)
دوسری حدیث پاک میں ہے:”عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها.“ یعنی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم: ’’فجر کی دو رکعتیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں۔ (صحیح المسلم،كتاب صلاة المسافرين، باب استجاب ركعتي سنة الفجر...إلخ، المجلد الأول،صفحة:251)
تیسری حدیث شریف میں ہے:”عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تدعوهما، وإن طردتكم الخيل.“ یعنی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم: ’’فجر کی سنتیں نہ چھوڑو، اگرچہ تم پر دشمنوں کے گھوڑے آ پڑیں۔ (سنن أبي داؤد، كتاب التطوع، باب في تخفيفهما، حديث: 1258،جلد:2،صفحة:28)
ظہر کی سنتوں کے متعلق احمد و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم:”من ركع أربع ركعات قبل الظهر و أربعاً بعدها حرم الله عزوجل لحمه على النار.“ یعنی جو شخص ظہر سے پہلے چار اور بعد میں چار رکعتوں پر محافظت کرے، اﷲ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام فرما دے گا۔ (سنن النسائي، کتاب قیام اللیل ۔۔۔ إلخ، باب الاختلاف علی اسماعیل بن أبي خالد، الحدیث: 1813، صفحة:310)
ابو داودو ابن ماجہ ابو ایّوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم:”أربع قبل الظهر ليس فيهن تسليم تفتح لهن أبواب الجنة.“ یعنی ظہر سے پہلے چار رکعتیں جن کے درمیان میں سلام نہ پھیرا جائے، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ (سنن أبي دؤاد، کتاب التطوع، باب الأربع قبل الظهر و بعدها، الحدیث:1270، جلد:2، صفحة:35)
جمعہ سے پہلی اور بعد والی سنتوں کا ثبوت حدیث پاک سے ثابت ہے، چنانچہ ”سنن ابی داوُد“ میں ہے:”عن نافع، قال: « كان ابن عمر يطيل الصلاة قبل الجمعة، ويصلي بعدها ركعتين في بيته، ويحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك».“ یعنی حضرت نافع رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما جمعہ سے پہلے نماز کو طویل کرتے اور جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دور کعات ادا کرتے اور بیان فرماتے کہ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے۔ (سنن ابی داود، تفریع ابواب الجمعة، جلد:1، صفحة:294، بيروت)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:” عن أبي عبد الرحمٰن السلمي قال : كان عبد الله يأمرنا أن نصلي قبل الجمعة أربعاً، وبعدها أربعاً.“ یعنی ابو عبد الرحمن السلمی سے مروی ہے کہ فرمایا: حضرت عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ تعالی عنہ ہمیں جمعہ سے پہلے چار اور جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق، كتاب الجمعة ، باب الصلاة قبل الجمعة وبعدها، جلد:3، صفحة:247، الهند)
عصر كى سنتوں كے متعلق احمد و ابو داود و ترمذی بافادۂ تحسین عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، فرماتے ہیں صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم:”رحم الله امرأ صَلَّى قبل العصر أربعًا.“ یعنی اﷲ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں۔ (سنن أبي داود، کتاب التطوع، باب الصلاۃ قبل العصر، الحدیث:1271، جلد:2، صفحة:35)
اس حدیث پاک کی شرح میں ”مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفی:1391ھ) لکھتے ہیں:” دو سلاموں سے یا ایک سلام سے یہ سنتیں غیرمؤکدہ ہیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی دعا لینے کا ذریعہ کیونکہ بفضلہ تعالٰی حضور صلی الله علیہ وسلم کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ (مرآۃ المناجیح شرحِ مشکوٰۃ المصابیح، جلد:2، تحت الحدیث:1170)
ترمذی مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی فرماتے ہیں:كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل العصر أربع ركعات.“ یعنی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے۔ (جامع الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء في الأربع قبل العصر، الحدیث:429، جلد:1، صفحة:437)
مغرب کی سنتوں کے متعلق مشکوۃ المصابیح میں ہے:”وعن مكحول يبلغ به ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«من صلى بعد المغرب قبل ان يتكلم ركعتين وفي رواية اربع ركعات رفعت صلاته في عليين» مرسلا وعن حذيفة نحوه وزاد فكان يقول: «عجلوا الركعتين بعد المغرب فانه ما ترفعان مع المكتوبة» رواهما رزين وروى البيهقي الزيادة عنه نحوها في شعب الايمان.“ یعنی حضرت مکحول سے مرسلاً روایت ہے انہیں خبر پہنچی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی مغرب کے بعد بات کرنے سے پہلے دو رکعتیں اور ایک روایت میں ہے چار رکعتیں پڑھ لے تو اس کی نماز علیین میں اٹھائی جاتی ہے اور حضرت حذیفہ سے اسی کی مثل ہے اور زیادہ کیا کہ کہتے تھے کہ مغرب کےبعد دو رکعتیں جلدی پڑھو کیونکہ وہ دونوں فرضوں کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں ان دونوں حدیثوں کو رزین نے روایت کیا اور بیہقی نے انہی سے زیادتی کو شعب الایمان میں اس کی مثل۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب السنن و فضائلھا، الفصل الثالث، الحدیث:1184، 1185، جلد:1، صفحة:105، مطبوعہ مجلس البركات، الهند)
ترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول الله ﷺ فرماتے ہیں:” مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً.“ یعنی جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور ان کے درمیان میں کوئی بُری بات نہ کہے، تو بارہ برس کی عبادت کی برابر کی جائیں گی۔ (جامع الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء في فضل التطوع ۔۔۔ إلخ، الحدیث:435، جلد:1، صفحة:439)
عشاء کے فرضوں سے پہلے کی چار رکعتوں کے حوالے سے ابو عبد الله محمد بن نصر المروزی (متوفی: 294ھ) فرماتے ہیں: حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ عشاء سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔“ (مختصر قیام اللیل، صفحة:88، فیصل آباد)
عشاء کے بعد چار رکعت والی سنتوں کے حوالے سے ابو داود کی روایت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے ہے، کہ فرماتی ہیں:”مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ.“ یعنی عشاء کی نماز پڑھ کر نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے مکان میں جب تشریف لاتے تو چار یا چھ رکعتیں پڑھتے۔ (سنن أبي داود، کتاب التطوع، باب الصلاۃ بعد العشاء، الحدیث:1303، جلد:2، صفحة:47)
ظہر، مغرب اور عشاء کے نوافل احادیث طیبہ سے ثابت ہیں، چنانچہ ظہر کے نوافل کے متعلق حدیث پاک میں ہے:”من حافظ علی اربع ركعات قبل الظهر واربع بعدها حرم علی النار.“ یعنی جو ظہر سے پہلے اور ظہر کے بعد چار رکعت پر محافظت کرے تو وہ آگ پر حرام ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب التطوع، جلد:2، صفحہ:34، مطبوعه بیروت)
اس حدیث کی شرح میں امام بدرالدین عینی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”اما الاربع التي بعد الظهر فالثنتان منهاموكدة وتكميلها اربعا مستحب یعنی رہی ظہر کے بعد کی چار رکعتیں تو ان میں سے دوسنت موکدہ ہیں اور اسے چار کر کے مکمل کرنا مستحب ہے۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی، جلد:3، صفحہ:471، مطبوعہ بیروت)
مغرب کے نوافل کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:”من ادمن علی اربع ركعات بعد المغرب كان كما تعقب غزوة بعد غزوة“ یعنی جو مغرب کے بعد چار رکعت پر مداوم کرے تو وہ اس جیسا ہے جو ایک کے بعد ایک غزوہ میں شرکت کرے۔ (مختصر قیام اللیل لمحمد ابن نصر مروزی، صفحه: 88، مطبوعه فیصل آباد)
عشاء کے نوافل کے حوالے سے حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے:”ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان يصلي بعد الوتر ركعتين.“ یعنی نبی ﷺ وتر کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ (جامع الترمذي، أبواب الوتر، صفحة:141، مطبوعة بيروت)
ان تمام دلائلِ قاہرہ و براہینِ قاطعہ سے سنن اور نوافل کا ثبوت احادیث طیبہ سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ یہ تمام سنتیں حضور ﷺ سے تواترِ عملی کے ساتھ منقول ہیں۔ لہذا زید کا یہ کہنا کہ ”نماز میں صرف فرض ہیں سنت اور کہاں سے ثابت ہیں“عاطل وباطل ہے۔ اللہ پاک حق سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "سنن اور نوافل کا ثبوت حدیث میں کہاں ہے؟"
Post a Comment