حرمِ کعبہ سے فراق کا کرب | محمد کونین صدیقی مصباحی
Tuesday, 1 September 2026
Add Comment
حرمِ کعبہ سے فراق کا کرب
اسیرِ حرم: محمد کونین صدیقی مصباحی
ایک ایسی جہاں آدم و حوا علیہما السلام کا اتصال ہوا، جس کی تعمیر جد الانبیا نے کی، جس کے گرد عالم میں موجود ہر شئی طواف کرتی ہے، جو اپنی زمینی روحانی ہر نقطۂ نظر سے باعظمت ہے اور دلکشی سے لبریز مناظر کو اپنے بطن میں سمیٹا ہوا ہے، اہل خرد کے لیے محو حیرت ہے، جس کے عاشق کو بے قرار، گناہگاروں کو پرہیزگار، مہتدی کے لیے مرکز ہدایت اور زائر کو حاجی و معتمر بننے کا شرف ملا غرض کہ ہر شخص کی مرادوں اور آرزوؤں کو پائے تکمیل تک پہچانے کا براہِ راست ذریعہ ہے وہ طلسماتی شاہکار مقام "مکہ مکرمہ" ہے، جسے "بیت اللہ" کا یگانہ اعزاز ملا، خانۂ کعبہ وہ مقتدر حلقہ ہے جہاں کی آب و ہوا، رنگ و روپ، رعنائی و زیبائی، نشیب و فراز، نادر روزگار ہے۔
زائرین جس کے تجسس میں اس قدر گم صم رہتے ہیں جس کی گواہی ان کی نم آنکھیں دیتی ہیں، وزیٹر اپنے گزارے ہوئے ہر لمحے کو تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے محفوظ کرتے ہیں، اور دیدہ ور ریلیز بناکے اپنی باریابی کی تشہیر کرتے ہیں، جس کا نتیجہ وہ فنا فی اللہ، بقا باللہ شخص جو مرے جا رہے ہیں بیت اللہ شریف کی صرف ایک جھلک پانے کے لیے، ان کی شدّتِ عشق اور امنگِ محبت تا عرش بریں پہنچ جاتا ہے، یہ مقدسہ موضع لاتعداد کمالات کا حامل ہے۔
اس در و دیوار سے واپس ہونے والوں کی کیا فریفتہ کیفیت ہوگی ایک عاشق کے مکمل زیست کے خوابوں کی تعبیر کو کچھ ہی پل میں جدا ہونے کے غم میں کیا دیوانہ پن ہوگا، اسے اللہ رب العزت اور وہ محبّ مخلص بنفس نفیس جانتا ہوگا، اس منظر کشی کو اپنے الفاظ میں اسلوب کرنا بھی مجھ عاصی حقیر بندہ کے لیے محال ہے، ان دیوانۂ پروردگار کے آنکھوں سے ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کی شکل میں موتیوں کو اپنے قلم کا نب بناکر احاطۂ تحریر میں لانے کی پیہم کوشش کر رہا ہوں، چہ جائیکہ —جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی، حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا—
ان عشق الٰہی میں مگن شخص کے لیے فراموش نہ کی جانے والی وہ حقیقت جسے دل پہ پتھر رکھ کر ہی سہی قبول کرنا ان کا مقدر ہے، کہ وہ آخری نظر جس سے کعبۂ معظمہ کو دوبارہ دیکھنے کا کوئی سبیل نظر نہیں آتا، اور "جنت المعلیٰ" کی دو گز زمین نصیب نہ ہوئی، اس حسرت کو دل میں لیئے ہوئے پھر اپنے وطن میں لوٹ کر جا رہے ہیں۔
"بیت الحرام" سے مدینہ منورہ کی ہجرت پر حضور قاسم النعم مالک الارض و رقاب الامم ﷺ کا والہانہ ارشاد اور رد عمل ہم شیدائی و فدائیِ رسول ﷺ کے لیے اسوۂ حسنہ ہے،
چنانچہ سنن ترمذی کے باب "باب في فضل مكة" میں حضور مدرکِ نتائجِ محسوسات ﷺ فرماتے ہیں:
وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ
ترجمہ: اللہ کی قسم! (اے مکہ!) تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے، اور اللہ کی بارگاہ میں اس کی تمام زمین سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر مجھے تجھ سے (زبردستی) نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
مذکورہ بالا حدیث نبویہ ﷺ میں حضور مہبط اسرار مجردات ﷺ کا اپنے وطن عزیز، مقامِ ولادت کے ساتھ قلبی محبت و انسیت کتنی زیادہ تھی اور اس کے احترام کا ایک انتہائی پر اثر اور جذباتی شگفتگی کے اظہار کی عکاسی کرتا ہے۔
لہذا معبود برحق و واجب الوجود ﷻ سے ہمہ وقت دعا گو ہوں کہ مولیٰ تعالی میری گناہ سے لبالب زندگی کو راہ راست اور صراط مستقیم پر گامزن عطا فرمائے، اور اپنے گھر کی زیارت سے مجھے مستفید و مشرف فرما اور دنیا و آخرت میں کامیاب عطا فرما۔
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "حرمِ کعبہ سے فراق کا کرب | محمد کونین صدیقی مصباحی"
Post a Comment