بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

برکات تراجم کا بے نظیر تجزیہ | محمد ظفر یزدانی


برکات تراجم کا بے نظیر تجزیہ 


از: محمد ظفر یزدانی
امبیڈکر نگر یوپی
درجہ فضیلت:-متعلم جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی


فتاویٰ رضویہ نہ صرف قضایائے شرعیہ کا محکم بیانیہ اور استفتاءاتِ فقہیہ کے مدلل جوابات کا جامع اظہاریہ ہے، بلکہ یہ ایک ایسا تحقیقی انسائیکلوپیڈیا ہے جس کے دبیز صفحات کی ورق گردانی کے دوران معرفت و تحقیق کے نہاں خانوں، حکمت و تدبر کے پوشیدہ گوشوں اور علوم و فنون کے متنوع دبستانوں سے یکے بعد دیگرے ایسے ابوابِ معارف منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں جن کی وسعت و تنوع بیک وقت حیرت انگیز بھی ہے اور محیرالعقول بھی۔اس بحرِ زخّارِ علم کی تہ بہ تہ غواصی کیجیے تو ہر مقام پر دقائقِ فقہیہ، لطائفِ کلامیہ، نکاتِ تفسیریہ، مباحثِ حدیثیہ، تحقیقاتِ اصولیہ، اشاراتِ لغویہ، شواہدِ ادبیہ، معارفِ فلسفیہ اور جواہرِ منطقیہ کے ایسے گنج ہائے گراں بہا سامنے آتے ہیں کہ جن کے استقصائے تمام کے لیے صرف مطالعۂ فتاویٰ کافی نہیں، بلکہ صاحبِ نظر محقق کے لیے علومِ متنوعہ میں رسوخ، فنونِ متکاثرہ میں تبحر اور معارفِ دینیہ کے مختلف شعبہ جات میں استیعاب و استحضار ناگزیر ہو جاتا ہے۔ان تمام علمی خزائن و تحقیقی دفائن کے ہر ہر گوشۂ تاباں سے امام احمد رضا قدس سرہٗ کی وسعتِ نظر، تعمّقِ فکر، رسوخِ علم ،تبحرِ فقہ، قوتِ استنباط ،صلابتِ استدلال، جودتِ طبع، ندرتِ خیال، لسانی تمکنت ، نیرنگی بلاغت، طلسماتی فصاحت،قوتِ حافظہ اور کثرتِ مطالعہ کی وہ ضوفشاں شعاعیں منعکس ہوتی ہیں جن کے تابِ نظارہ سے چشمِ تحقیق خیرہ اور ذوقِ سلیم مسحور ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ یہی وہ امتیازی شان ہے جس نے فتاویٰ رضویہ کو احکام و مسائل کے مجموعے سے بلند کرکے ایک ایسے بحرِ بیکراں کا مرتبہ عطا کیا ہے جس کی غواصی میں ہر بار علم و معرفت کا کوئی نیا گوہرِ آبدار، تحقیق و تدقیق کا کوئی نادرونایاب لؤلؤ اور فکر و نظر کا کوئی تابناک مرجان دسترس میں آتا ہے۔اس کتابِ مستطاب کی بابت اربابِ علم و دانش کا یہ تاثر اور اعتراف بالکل بجا معلوم ہوتا ہے کہ قدیم و جدید مسائل و مباحث کا جو بحرِ ناپیدا کنار فتاویٰ رضویہ کے روشن زار بیاض میں متلاطم دکھائی دیتا ہے، کتبِ فقہ و فتاویٰ کے وسیع ذخیرۂ علمی میں اس کا عشرِ عشیر سو جتن اور ہزاروں جستجو کے بعد بھی بہ مشکل دستیاب ہوتا ہے۔ یہی ہمہ گیری اس کا امتیازی وصف، یہی جامعیت اس کی اختصاصی شان، یہی علمی استیعاب اس کی انفرادی خصوصیت اور یہی رسوخِ تحقیق و تدقیق وہ رفعت نشاں مقام ہے جس نے فتاویٰ رضویہ کو کتبِ فقہ و فتاویٰ کے ہجومِ کثیر میں ایک ممتاز و منفرد علمی مرجع و مأخذ اور لائقِ اعتنا مقام عطا کیا ہے۔

جس طرح فتاویٰ رضویہ اپنے موضوع اور مندرجات کے اعتبار سے کتبِ فقہ و فتاویٰ میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے، بعینہٖ اس کا خطبۃ الکتاب بھی اپنی جامعیت، اسالیبی ندرت اور مضامینی وسعت کے اعتبار سے بے نظیر و بے مثال ہے۔عمومی طور پر مصنفین و مؤلفین اپنی تصانیف کے خطبۃ الکتاب میں حمدِ باری تعالیٰ، نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آل و اصحابِ مصطفیٰ علیہم الرضوان کی بارگاہ میں درود و سلام کے گلدستے پیش کرتے ہیں اور اسی روایتِ حسنہ کو قائم رکھتے ہوئے اپنی کتاب کا آغاز کرتے ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ نے بھی اس روایتِ سلف صالحین کو زندہ رکھا، لیکن آپ نے خطبۃ الکتاب کو جس جامعیت اور تہداریت کے ساتھ ترتیب دیا، وہ اسے دیباچہ نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک مستقل علمی و ادبی شاہکار بنا دیتی ہے۔ اس میں ایک طرف حمد و ثنائے الٰہی اور نعتِ پاکِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیدت مندانہ خراج ہے تو دوسری طرف براعتِ استہلال کے حسین پیرایے میں اسلافِ امت، ائمۂ فقہ اور کتبِ فقہ و فتاویٰ کے معروف و مشہور ذخیرے کا جمیلانہ تذکاربھی ہے، اور ساتھ ہی عقائدِ حقہ کے مختلف پہلو بھی نہایت بلیغ انداز میں جلوہ بار ہیں۔ اسی فقہی و علمی شاہکار کے خطبۃ الکتاب کی توضیح و تشریح پر مشتمل زیرِ نظر کتاب "برکاتِ تراجم" ہے، جس کے مصنف ضیاء الفقہاء مفتی محمد مشتاق احمد امجدی حفظہ اللہ ہیں۔ موصوف نے اس علمی و تحقیقی خدمت کو جس عرق ریزی، جانفشانی اور وسعتِ مطالعہ کے ساتھ انجام دیا ہے، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے اس تصنیفِ لطیف میں معلومات و تحقیقات کا جو دریا بہایا ہے، وہ ان کے کثیر المطالعہ ہونے، علوم و فنون میں رسوخ اور تحقیق و تدقیق سے گہری وابستگی کی بین ثبوت اور روشن دلیل ہے۔مصنف موصوف نے خطبۃ الکتاب میں وارد تقریباً تمام اہم کلمات، اصطلاحات اور کتبِ فقہ کے تعارف و توضیح کے ساتھ ان کے مصنفین کے حالاتِ زندگی پر بھی تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ایسا اچھوتا، دل کش اور نرالا انداز اختیار کیا ہے کہ قاری کے سامنے فقط کتابوں کے رونق آثار ابواب نہیں آتےہیں بلکہ ان کے پسِ پردہ ایک پورا علمی عہد، ایک تابندہ تہذیب اور فقہی روایت کا ایک جاوداں سلسلہ جلوہ پذیر ہوتا ہے۔ عبارت میں ایسی حلاوت آمیزی اور بیان آفرینی ہے کہ قاری ایک مقام پر ٹھہرنے کے بجائے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہر ورق اسے ایک نئے علمی افق کی سیر کراتا ہے۔

کتاب کا مطالعہ یہ احساس بھی پوری تاب و تبش کے ساتھ اجاگر کرتا ہے کہ یہ تصنیف طلبہ، مدرسین اور بالخصوص علمِ فقہ و افتا سے شغف رکھنے والوں کے لیے نہایت مفید اور رہ نما ثابت ہوگی۔ مصنف نے معروف و غیر معروف کتبِ فقہ و فتاویٰ کو نہ صرف شمار کرایا ہے بلکہ ان کا جامع تعارف بھی پیش فرمایا ہے۔ ان میں الفقہ الاکبر، الجامع الکبیر، الزیادات، الفیض، المبسوط، الدرر، الغرر، الہدایہ، البدایہ، النہایہ، الوقایہ، الدرایہ، الکفایہ، الاصل، المحیط، البسیط، الوجیز، الوسیط، الدر المختار، مراقی الفلاح، المغنی، النصاب، الحاوی القدسی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ یہ چند اسمائے کتب بطورِ نمونہ پیش کیے گئے ہیں، ورنہ مصنف نے اس باب میں جس وسعتِ نظر کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی تحدید چند ناموں کی فہرست سے ممکن نہیں۔کتاب کی ایک نہایت دل چسپ اور قابلِ تحسین خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے صرف معلومات فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دورانِ مطالعہ پیدا ہونے والے ذہنی خلجان، فکری چپقلش، اور علمی اشکالات کی گرہ کشائی بڑی خوبی کے ساتھ کی ہیں ۔ چنانچہ قاری کو کہیں کسی پیچیدہ علمی اصطلاح میں الجھن محسوس نہیں ہوتی اور نہ کسی متشابہ نام یا عنوان کے سبب ذہن سرگرداں رہتا ہے۔بطورِ مثال مصنف نے "الوقایہ" کی تشریح کے دوران ایک نہایت مفید "فائدہ" ذکر فرمایا ہے، جس میں "وقایہ" اور "شرحِ وقایہ" کے مصنفین کے ناموں میں پائے جانے والے اشتباہ کو نہایت سہل اور عام فہم انداز میں دور کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں! فائدہ:- "وقایہ" اور "شرح الوقایہ" کے مصنفین کے ناموں میں طلبہ کو شدید اضطراب ہوتا ہے، جو بہت حد تک بجا ہے۔ لہٰذا ذیل میں چند باتیں صاف اور سہل انداز میں تحریر کی جاتی ہیں تاکہ یہ اضطراب دور ہو اور ان کے ناموں میں تفریق قدرے آسان ہو۔ (فاقول وبالله التوفيق) ۔ پھر مصنف نے وقایہ اور شرحِ وقایہ کے مصنفین کے ناموں میں اشتباہ کی بنیاد ذکر کرتے ہوئے لقب اور نام میں اشتراک کی ان وجوہ کو واضح کیا ہے جن کے سبب طلبہ کے اذہان میں التباس پیدا ہوتا ہے۔ بالخصوص یہ وضاحت کہ شارحِ وقایہ عبید اللہ اور صدر الشریعہ اکبر کے خاندان میں "صدر الشریعہ" کا لقب مشترک ہونے کے باوجود دونوں کو صدر الشریعہ اصغر/ثانی اور صدر الشریعہ اکبر/اول کے القاب سے الگ الگ پہچانا جاتا ہے، نہایت مفید اور قابلِ استفادہ ہے۔ اس سلسلے میں علامہ عبد الحی لکھنوی فرنگی محلی رحمہ اللہ کی مقدمہ عمدۃ الرعایہ کے "الدراسۃ السادسة" میں مذکور تفصیلی بحث سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔اسی طرح جب مصنف نے فقہِ حنفی کی عظیم الشان کتاب الہدایہ پر خامہ فرسائی کی تو وہاں بھی ان کے نوکِ مداد کی جولانی خوب سے خوب تر ہوتی چلی گئی۔ انہوں نے اس کے کمالات، خصوصیات، علمی عظمت، فقہی جلالت اور مقام و مرتبہ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہٗ کا یہ قولِ زرّیں نقل کیا: "مَن تَبِعَ الہدایۃَ لَم یَضِلَّ" یعنی: جو ہدایہ کی پیروی کرے وہ راہِ راست سے نہیں بھٹکے گا۔کتاب کے مختلف ابواب میں اس نوع کے بے شمار علمی شہ پارے بکھرے ہوئے ہیں جنہیں پڑھ کر نہ صرف اہلِ علم کے ذوقِ تحقیق کو تحریک ملتی ہے بلکہ ایک عام طالبِ علم بھی علم کی اس بزم میں بیٹھ کر حیرت انگیز لطف اور بے پایاں مسرت سے بہرہ یاب ہوتا ہے۔

کتاب کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے اگر راقم کچھ بولنے کی جسارت کرے تو یہ چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف ہوگا ۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک فاضل محقق، مصنفِ کتبِ کثیرہ، خلیفۂ حضور قائدِ ملت، حضرت علامہ مفتی مبشر رضا ازہر مصباحی زید مجدہٗ، شیخ الحدیث و صدرِ شعبۂ افتا، الجامعۃ الرضویہ، کلیان، مہاراشٹر، کا ایک گراں قدر اقتباس نذرِ قارئین کیا جائے، جس سے کتاب کی علمی قدر و قیمت اور صاحبِ کتاب کے بلند علمی مقام کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔مفتی مبشر رضا صاحب فرماتے ہیں:"اس کتاب کو جس اعلیٰ فقہی شعور و ادراک کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے، یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جہاں خطبۂ فتاویٰ رضویہ کی عمدہ توضیح و تشریح ہے، وہیں اسے ہم اردو زبان میں لکھی جانے والی 'رسم المفتی' کہہ سکتے ہیں، جو علماء و طالبینِ فقہ و افتا کے لیے انتہائی نفع بخش ہے۔ اس لیے اہلِ علم سے میری گزارش ہے کہ اس کتاب کو ضرور اپنے مطالعہ کی میز کی زینت بنائیں اور اہلِ مدارس اختصاص فی الفقہ کے مطالعہ کے نصاب میں شامل کریں، تاکہ ایک نوجوان محقق کی حوصلہ افزائی ہو اور ہمارے مدارس میں فقہ و فتویٰ میں اختصاص کرنے والے طالبانِ علومِ نبویہ کو معلوم ہو کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ نے کوزے میں ایک سمندر سمو دیا ہے اور ایک جواں سال محقق نے اسی سمندر میں غوطہ زنی کرکے موتیاں برآمد کی ہیں۔" یہ اقتباس بجائے خود کتاب کے علمی مقام کا ایک جامع تعارف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برکاتِ تراجم کے اوراق میں مصنف نے تحقیقات کی ایسی تابندہ موتیاں جڑ دی ہیں جن سے اہلِ علم کی آنکھیں روشن اور تشنۂ علم اذہان سیراب ہوتے ہیں۔ کتاب کی ضخامت اور تحقیقی مواد کو دیکھ کر قاری بے ساختہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مصنف نے اس ایک تصنیف کی پرداخت کے لیے نہ جانے کتنے کتب خانوں کی خاک چھانی، کتنے منبع و مصادر کی طرف مراجعت کی، کتنے مخطوطات و دفاتر کے بوسیدہ نوشتے کی ورق گردانی کی، اور کتنی یخ بستہ شب ہائے دیجور کو قندیلِ مطالعہ کی لو پر بٹھا کر، مطالعاتی کینوس پر شب بیداری کے نقوش آراستہ کیے ہوں گے،تب کہیں جا کر تحقیق و تدقیق کی وہ سحرآگیں صبح طلوع ہوئی ہوگی جس کی نسیمِ گل گوں قبا کے عرفان سے اس تصنیف کے قرطاس تاباں ہوۓ ہیں۔

کتاب کے مطالعے کے بعد راقم اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ برکاتِ تراجم اپنے عناوین،مباحث، مواد،جامعیت، افادیت اور تحقیقی امتیاز کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ یہ ایک کتاب نہیں، بلکہ معلومات و تحقیقات کا ایسا گراں قدر علمی خزینہ ہے جس میں قاری جس قدر غواصی کرتا چلا جائے، اسی قدر بیش قیمت علمی جواہر اس کے ہاتھ آتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی علمی انجمن ہے جس کے گردِ فانوس طواف کرتا ہر ایک پروانہ جاویدانی کیفیت کا غماز ہے اور ہر مضمون علم و تحقیق کے ایک نئے جہان کی طرف رہ نمائی کرتا ہے۔اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ مصنف نے کتبِ فقہ و فتاویٰ کے ایک وسیع اور بکھرے ہوئے ذخیرے کو نہایت جامع اور مربوط انداز میں یکجا کر دیا ہے کہ بعد اس کےاب کسی مطلوبہ فقہی کتاب کے تعارف یا اس کے مصنف کے احوال کی تلاش میں کتب خانوں کی خاک چھاننے اور طویل جستجو کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے،بلکہ برکاتِ تراجم کی طرف رجوع ہی بسا اوقات اس علمی تشنگی کو مٹانے کے لیے کافی محسوس ہوتا ہے۔ دورانِ مطالعہ بارہا یہ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے واقعی کاسے میں دریا سمیٹنے کی کامیاب سعی کی ہے۔علمی و تحقیقی محاسن کے ساتھ ساتھ کتاب کا اسلوبِ نگارش بھی اس کی دل آویزی میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ مصنف نے اپنے مافی الضمیر کو عمدہ تراکیب، شستہ الفاظ، حسین پیرایۂ بیان اور دل نشیں اسلوب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ عبارت نہ ثقیل محسوس ہوتی ہے، نہ طبیعت پر گراں گزرتی ہے اور نہ قاری کسی مرحلے پر اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے، بلکہ ہر صفحے کے بعد آگے بڑھنے کی جستجو اور مطالعے کی اشتہا مزید بڑھ جاتی ہے۔ مستزاد یہ کہ مصنف نے کتاب کے آغاز میں ایک نہایت جامع علمی و فقہی مقدمہ بھی شامل فرمایا ہے جو تنقیبی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔

الغرض برکاتِ تراجم اپنے موضوع کی جامعیت، مواد کی وسعت، ترتیب و تنظیم کی خوبی، تحقیق کی گہرائی اور بیان کی دل آفرینی کے اعتبار سے ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے۔ اہلِ علم، طلبہ، مدرسین اور بالخصوص فقہ و فتاویٰ سے شغف رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب بلاشبہ ایک مفید رہ نما، ایک جامع مرجع اور ایک قابلِ قدر علمی رفیق کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ امر بھی میرے لیے باعثِ صد انبساط و افتخار ہے کہ مصنفِ محترم نے عالمیت تک کی تعلیم ہمارے مادرِ علمی مدرسہ نثار العلوم، شہزاد پور، اکبرپور، امبیڈکر نگر، یوپی میں حاصل کی، جب کہ فضیلت اور تخصص کے علمی مراحل جامعہ امجدیہ، گھوسی سے طے کیے۔ یوں اس کتاب کی علمی رفعت میں ہمارے مادرِ علمی کی تربیت اور جامعہ امجدیہ کی علمی فضا دونوں کی ہم آہنگ خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے۔ استاذِ گرامی قدر، ماہرِ علوم و فنون، حضرت علامہ و مولانا محمد رضوان قادری مصباحی ازہری دامت برکاتہم العالیہ کے بقول: ”مصنف موصوف ابتدا ہی سے بڑے ذہین و فطین، قوی الحافظہ، متحرک، وسیع المطالعہ، تحقیقی نظر رکھنے والے اور باذوق طالب علم رہے، اور یہی اوصاف آگے چل کر ان کے علمی ذوق، تحقیقی بصیرت اور تصنیفی کمالات کی بنیاد بنے“یہ مختصر مگر جامع شہادت دراصل مصنف کی علمی زندگی کے اس سفر کی ترجمانی کرتی ہے جس کی منزل آج برکاتِ تراجم جیسی وقیع اور قابلِ قدر تصنیف کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ایک بات جو کہنے سے رہی اس کی طرف اشارہ کرنا عین تناسبی تقاضے کی ایک مربوط کڑی ہے وہ یہ کہ صاحبِ کتاب جہاں مدرسہ نثار العلوم کے دیگر اساتذہ کی نظروں میں محبوب و مقبول تھے وہیں بطور خاص والدِگرامی حضرت مولانا عبد اللہ اشرفی کی نگاہوں میں بھی فرحت کا ساماں رہے اور والد صاحب ان کی بلند پروازی،علمی لیاقت اور فکری صلابت کے قائل تھے ہنوز یہ علمی، محبتی اور اخلاقی سلسلہ اپنی آفاقی منزل کی طرف پا بہ رکاب ہے۔

آخر میں ہم مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں تشکر و امتنان کے گلدستے پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ جیسے ہیچ مداں کو اس گراں مایہ علمی تصنیف سے نواز کر علم و تحقیق کی ایک ایسی پونجی عطا فرمائی جس سے استفادے کا سلسلہ دیرپا رہے گا۔ ان کی یہ عنایت میرے لیے کسی بیش قیمت تحفے سے کم نہیں۔مولائے مقتدر سے دست بہ دعا ہوں کہ وہ مفتی صاحب قبلہ کے اقبالِ علم و عمل میں روزافزوں ترقی عطا فرمائے، ان کے علمی و تحقیقی ذوق کو مزید جلا بخشے، ان کی خدماتِ جلیلہ اور تحقیقاتِ عمیقہ کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے قلم کو مزید قوت، فکر کو وسعت اور نظر کو بصیرت عطا فرمائے، اور انہیں علومِ نبویہ کی خدمت کے لیے دیرپا توفیقاتِ خیر سے مالا مال فرمائے۔اور برکاتِ تراجم کو اہلِ علم کے لیے نافع، طلبہ کے لیے رہ نما، اربابِ تحقیق کے لیے معاون اور فقہ و فتاویٰ کے شائقین کے لیے سرچشمۂ استفادہ بنائے،آمین

0 Response to "برکات تراجم کا بے نظیر تجزیہ | محمد ظفر یزدانی "

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->