بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

اگر کوئی شخص عشاء کے فرض کے بعد سنت اور نفل کی جگہ قضا نماز پڑھے تو ایسا کرنا کیسا ہے؟


اگر کوئی شخص عشاء کے فرض کے بعد سنت اور نفل کی جگہ قضا نماز پڑھے تو ایسا کرنا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


پوچھی گئی صورت میں حکمِ شرع یہ ہے کہ وہ شخص صرف نفل کی جگہ قضا نماز پڑھے لیکن سنت کے بعد قضاء نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا سنّتِ مؤکدہ ہے اور سنتِ مؤکدہ کو چھوڑنا ناجائز و گناہ ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمے قضا نمازیں باقی ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل کی جگہ قضاء نمازیں پڑھے۔

عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے، چنانچہ ”تنویر الابصار مع در مختار“ میں ہے:”(وسن) مؤكداً... (بعد الظهر والمغرب والعشاء).“ یعنی ظہر، مغرب اور عشاء کے بعد دو رکعت پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، الجزء الثاني، صفحة:451-452، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض، ملتقطاً)

سنت مؤکدہ کو چھوڑنا گناہ ہے، چنانچہ ”رد المحتار“ میں ہے:”والسنة نوعان:سنة الهدى، وتركها يوجب إساءة وكراهية.“ یعنی سنت کی دو قسمیں ہیں:سنت ہدی، اور اس کا ترک کرنا ملامت اور کراہت کا باعث بنتا ہے۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، مطلب في السنة وتعريفها، الجزء الأول، صفحة:218، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)

”بہارِ شریعت“ میں ہے:”سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی۔ بلا عذر ایک بار بھی ترک کرے تو مستحق ملامت ہے اور ترک کی عادت کرے تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحق نار ہے۔ اور بعض ائمہ نے فرمایا: کہ ”وہ گمراہ ٹھہرایا جائے گا اور گنہگار ہے، اگرچہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے۔‘‘ تلویح میں ہے، کہ اس کا ترک قریب حرام کے ہے۔ اس کا تارک مستحق ہے کہ معاذ اﷲ! شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو میری سنت کو ترک کرے گا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔‘‘ (بہارِ شریعت، سنن و نوافل کا بیان، جلد:1، حصہ چہارم، صفحہ: 662، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)

نوافل کی جگہ قضاء نمازوں کو پڑھنا اہم ہے لیکن سنتِ مؤکدہ اور تراویح کو نہ چھوڑے، چنانچہ ”رد المحتار“ میں ہے:”الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة.“ یعنی قضاء نمازوں کی ادائیگی میں مشغول ہونا نوافل سے زیادہ بہتر اور اہم ہے سوائے فرضوں کی (مؤکدہ) سنتوں کے۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل، الجزء الثاني، صفحة:536، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)

”بہارِ شریعت“ میں ہے:” قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے انھیں چھوڑ کر ان کے بدلے قضائیں پڑھے کہ بری الذمہ ہو جائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں سنت مؤکدہ کی نہ چھوڑے۔“ (بہارِ شریعت، قضا نماز کا بیان، جلد:1، حصہ چہارم، صفحہ: 706، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)

وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی

0 Response to "اگر کوئی شخص عشاء کے فرض کے بعد سنت اور نفل کی جگہ قضا نماز پڑھے تو ایسا کرنا کیسا ہے؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->