غوث اعظم اور فروغِ علم و معرفت| محمد کونین صدیقی مصباحی
Thursday, 24 September 2026
Add Comment
غوث اعظم اور فروغِ علم و معرفت
سگ غوث: محمد کونین صدیقی مصباحی
ایک عہد ساز شخصیت جنھوں نے اپنی علمی، فکری، ادبی، روحانی، تجدیدی، تحریری اور تقریری جہت سے امت مسلمہ کی رہنمائی فرمائی، اپنی مؤثر تبلیغ اور سحر انگیز خطابات کے ذریعے بے راہ رو کو اسلوبِ حق پر گامزن فرمایا، مخالفین و معترضین کا عالمانہ جواب دے کر ان کو لا جواب کر دیا غرض کہ مرجع اہل علم و اہل معرفت، ممدوح ذات، جامع الکمالات جو زہد و ورع کے پیکر، اور ’مَن عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ‘ کے مفہوم کی عملی تصویر تھے، وہ چھٹی صدی ہجری کا عظیم اور جلیل القدر مجدد دین و ملت، اسرارِ بندگی، شہنشاہ ولایت، سرور اولیا، محی الدین، محبوب سبحانی، غوث الاعظم دستگیر پیران پیر سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی (رضی ﷲ عنہ) ہیں۔
حضور شہباز لامکانی کی مجلس گویا مجمع البحرین کی مانند تھی، جہاں شریعت و طریقت کے دونوں دھارے یکجا ہوتے تھے پریکٹیکل طور پر ان کی فکر اس جہت کی تھی کہ ایک صوفیِ باصفا جو فنا فی اللہ کی منزل سے آشنا ہو وہ علمِ شریعت سے بھی بہرہ ور اور معرفتِ الٰہی سے سرشار ہو، حضور غوث صمدانی نے اپنی زیست میں ہی دین و ملت کی ترویج و اشاعت کے لیے خطۂ ارض کے مخلتف علاقوں میں ایسے علما کو خدمت خلق کے لیے رواں دواں کیا جو زہد فی الدنیا کے مظہر اتم ہیں اور سلاسل اربعہ مشہورہ "سلسلہ قادریہ: جو غوث پاک ہی کی جانب منسوب ہے، سلسلہ چشتیہ: جس کے بانی (حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی) ہیں مگر بر صغیر میں خواجۂ خواجگان فخر ہندوستاں ہند الولی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری سے وابستہ ہے، سلسلہ نقشبندیہ: جو خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی سے متعلق ہے اور سلسلہ سہروردیہ: جو حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی (رحمہم اللّٰہ) کے ما تحت ہے، ان مذکورہ برگزیدہ ہستیوں کے علاوہ بہت سے علما و اصفیا کو دنیا کے دیگر اطراف میں مثلاً: فلسطین، جزائر، عراق، مصر مشرقی افریقہ، اریٹریا، یمن، شام، افغانستان، ترکی، انڈونیشیا، تیونس، لبنان وغیرہ میں بھیجا اور شریعت کے ساتھ زہد و طریقت کو فروغ عام و خاص کیا، جن کے متبعین روحانی رعنائیت کے ساتھ علمی مقام و منزلت میں منار قصر سنیت ہیں۔
حضور غوثِ اعظم کا علمی جاہ و جلال جس کا احاطہ ناشدنی ہے، دور عباسیہ میں "بغداد" جسے "اسلام کا عہد زریں" کہا جاتا تھا جہاں کی لائبریری "بیت الحکمت" تھی اس مقتدر اسلاف کے مسودہ جگہ پر تاتاریوں نے جبر و تعدی کی اور علما کے سروں کو تن سے جدا کردیا اور لائبریری کو آگ لگادی جس میں موجود ساری کتابوں کو سپردِ آتش کیا، اس لائبریری میں کتنے بزرگوں کی کتنی کتابیں تھی اس کا اندازہ مشکل ہے کیوں کہ انھیں کتابوں کا راکھ تین دن تک دریاے دجلہ کا پانی سیاہ شکل میں ہوکر بہتا رہا اسی میں بہت سی کتابیں ضائع ہو گئی بہرحال اسی میں حضور غوث پاک کی بھی کتابیں تباہ ہو گئی مگر پھر بھی مؤرخین نے ۲۱ کتابوں کا ذکر کرتے ہیں کچھ ۱۰۰ سے زائد تک کا بھی قول کرتے ہیں،
حضور غوث اعظم کا علمی جلال ان کی تحریر و تقریر میں آج بھی سپردِ قرطاس ہے، حضور غوث اعظم کے خدمات کا ثمرہ آج بھی ہمارے مقتدر اسلاف کے کارناموں اور تخیلات میں ملتی ہے، رب قدیر اپنے برگزیدہ محبوب بندے کے توسل سے مجھ عاصی پر بھی رحم عطا فرمائے۔
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "غوث اعظم اور فروغِ علم و معرفت| محمد کونین صدیقی مصباحی "
Post a Comment