سیمانچل کی تعلیمی ضرورت اور الجامعة السنیة العطائیة کا تصور
Sunday, 27 September 2026
Add Comment
سیمانچل کی تعلیمی احتجاج اور "الجامعة السنیة العطائیة" کا تصور
ہر ادیان و مذاہب کا عروج و زوال اس قوم کے نوجوانوں سے وابستہ ہے کہ ان کا دین قدآور غالب مذہب صفحۂ دہر میں علمِ مستحکم کو نصب کرے گا یا اس کرۂ ارض سے ہست سے نیست کا سفر کوچ کرے گا، انھیں نوجوان نسلوں پہ منحصر ہے کہ وہ اپنے قلوب و اذہان کو علمی اور عملی جہت سے اپنے مذہب سے کس قدر منسلک ہے اگر وہ مذہبی علوم و فنون سے عاری اور مغربی تہذیب و تمدن میں مستغرق ہیں؛ تو بلا تردد کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر بھی کماحقہ اسی طرح ہوگی کیوں کہ وہ نوجوان اسی سماجی ثقافتی عوامل میں نشونما پایا ہے اور انسانی حقیقت بھی یہی ہے کہ جو جس ماحول میں ہوتا ہے اس کی فکر بھی ویسے ہی ہو جاتی ہے، تب ہی تو مارڈن بدتمیزوں کو عبایہ اور برقہ میں ملبوس خواتین متشدد اور قید اور نیم بدن و برہنہ عورتیں آزاد لگتی ہیں، اس تأسفانہ تصورات کے زاویے میں اصل کردار ان کے سرپرستوں، بزرگوں اور کفالت شعاروں کا ہے کہ اپنی ذریت کو حصول علم کے لیے کہاں روانہ کیا اور تربیت کن اخلاقی عرفان و آگہی سے مل رہی ہے، ایسے پرفتن زمانے میں بسیار تلاش کے باوجود کہیں کوئی سنی بریلوی مکتب فکر کے زیر اہتمام ایسا ادارہ موجود نہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم پر بھی اسی لگن سے کڑی نگرانی دے کر پڑھایا جاتا ہو اور انسانی زینت یعنی اخلاق و آداب پر توجہ مبذول کرائی جاتی ہو اور معاملات میں حرام کاری یا اس میں معاونت کرکے مال کا ذخیرہ اکٹھا کیا جاتا ہے جب کہ اس امر میں ذرہ برابر امتیاز نہیں کرتے کہ یہ قول قرار میرے لیے حرام ہے یا حلال اور یہ اس وقت تک ہو بھی نہیں سکتا؛ جب تک کہ خشیت الہی اور دینی علم دل میں جاگزیں نہ ہو جائے، اسی طرح ہر وہ تاجر کو کسی بھی تجارت کے خواہاں ہو، ان پر بھی فرض ہے کہ بنیادی علومِ اسلامیہ سے آشنا ہو پھر وہ اسی کاروبار میں بیخود ہو جائے۔
ہمارا علاقہ سیمانچل خصوصاً کٹیہار جہاں لاکھوں کی تعداد میں علما کی فراوانی ہے ان میں ساروں کا اپنے علاقے میں رہنا ناممکن ہے اس لیے جو کثرت علم و ماہر فن کی حیثیت رکھتے ہیں وہ دوسرے صوبے میں اشاعت دین کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارے علاقے میں ان کو وہ ماحول نہیں مل پاتا، اتنی تنخواہ نہیں ہوتی کہ اہل خانہ کا گزر بسر ہو سکے اور بعض حضرات محنت و مشقت سے کسی دینی درسگاہ کا افتتاح کر بھی لیں تو ان کو شکست اور بے قدری ملتی ہے، کف افسوس مل کے وہ عالم دین اندر ہی اندر ٹوٹ جاتا ہے اور جو بھی خلوص و للہیت کے لیے کام کرنا چاہتے تھے ہمارے گرد و نواح کے باشندے ہی ان کو تیزی طبع کو افسردہ حال کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور جتنے علماے کرام اپنے علاقے میں ہیں ان میں کچھ تو وہ ہیں جن میں واقعی قائدانہ استعداد موجود ہے کیوں کہ انھوں نے ابتداے وقت سے ہی اپنی شخصیت سازی کی ہے اور جانفشانی کے ساتھ علم دین حاصل کیے بھی ہیں جو بالکل اوریجنل ایجوکیشن کی وجہ سے بختہ عالم دین ہیں، اور بعض چاپلوس مولوی جو مسجد و مدرسہ کے جاہل متولی کے پیروکار رہتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ فقط داڑھی، ٹوپی اور کرتا پہننے والے علم سے معذور گمراہ کن مولوی ہوتا ہے اور اگر یہ متولیین کی فرمانبرداری نہ کرے تو جگہ سے نکالے جانے کا خدشہ بھی ہے یہ فرضی مولوی جتنا جاہل متولی کا خوف رکھتے ہیں اگر اتنا ہی قادر مطلق ﷻ کا رکھتے تو کامیاب ہوتے، یہی متولی مولانا کو غلامنا تصور کرنے والے کی ملاقات نرا عالم ربانی سے ہوتی ہے تو ان مقتدر معزز عالم ربانی وارث نبی کو مغرور کہتے نہیں تھکتے، ان سب خرافات کا سدباب کیا جا سکتا ہے کہ جو نیم ملّا ہو وہ ذریعہ معاش کے لیے مساجد و مدارس پر بحیثیت امامت جائے ہی کیوں، ان کو چاہیے کہ اس کے علاوہ بھی وکیل، ڈاکٹر، پروفیسر، آئی-پی-ایس، آئی-اے-ایس، آئی-آئی-ٹی کرکے سائنسداں یا انجنیئر وغیرہ دوسرے علوم کو سیکھے اور اگر پڑھنا نہیں چاہتے تو آج کے زمانے میں بہت سی صنعت، کاریگری، ہنر، فن اور تجارت موجود ہے وہ سیکھیں کریں؛ مگر خدارا دین کو مبیع بنا کر بیع و شرا نہ کرے۔
اس لیے ہمارا علاقہ سیمانچل خصوصا کٹیہار میں ایک ایسے ادارے کی نہایت ہی اشد ضرورت ہے جہاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی الحاق کیے جائیں، معاشی اخلاق پر خاطر خواہ بھی ہو، اکتساب مال کے لیے حلال طرز پہ رہنما ہو اور غربا و مساکین کا مالی تعاون حتی الامکان ہو سکے، اور تعلیم میں حفظِ قرآن کے ساتھ قرآت کو لازم کریں، درسِ نظامی کا جدید نصاب مرتب کیے جائیں جس میں دنیوی علوم پر بھی خبر گیری کرے اور عصری تعلیم حاصل کرنے والوں میں دینی کچھ کتابوں کو داخل کیے جائیں تاکہ مذہبی اعتبار سے بھی کمال حاصل کرے، اعلیٰ تعلیم یافتہ بچوں کے لیے مزید تعلیم سیکھنے کے لیے بہترین مشعلِ راہ بن سکے اور وہ دین کے رہبر علماے ذوی الاحترام مدارس و مساجد میں رہنا مجبوری نہ ہو بلکہ اختیار ہو کیوں کہ اگر وکیل ڈاکٹر پروفیسر وغیرہ بننے کے خواہاں ہیں تو بلا تذبذب بنے ان شائقین کے لیے آگے کی راہ ہموار کرنے میں امداد کریں، کیوں کہ ہمارے مسلم کمیونٹی میں اعلیٰ تعلیم کے محصلین کی سانس سے زیادہ احتیاج ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے اطراف میں جتنے اسپتال، محکمۂ پولیس، سیاست، کورٹ، کچہری اور بینک وغیرہ ہیں ان سب میں مسلم شاذ و نادر ہے جب کہ ہمارے پورے علاقے میں 75 فیصد سے زائد مسلم ہیں، ایسا اس لیے ہے کہ ہم ان علوم میں شغف نہیں رکھتے اور بعض رکھتے بھی ہیں تو ان کے لیے ایسا کوئی مسلّم و مضبوط ادارہ نہیں، اس لیے ہمارے علاقے کے بچے دیگر صوبے میں جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور کب تک دوسروں پر موقوف رہیں خود کفیل کیوں نہیں بن جاتے کیا ہمارے علاقے کے باشندے کی اجتماعی پر زور کوشش سے ایک ایسا ادارہ نہیں بنا سکتے بالکل بنا سکتے ہیں، اس کے لیے ہر فیلڈ کے تبحر افراد کی حاجت ہے اور یکسوئی کے ساتھ اجتماعی محنت درکار ہے، اس امر کو سر انجام دینے کے لیے کسی آسمانی فرشتے کی آمد میں رہنا حماقت پسندی ہے، اب بس ہم ہی میں سے ایسے شخص کی جو اس عظیم شغل و تحریک کا کمانڈ اپنے ہاتھ میں لے، کسی ایسے شخص کو ہیرے کی مانند تراش کر پیش کیے جائیں اور ہر دین کے متبعین پر ضروری ہے کہ ان کی پکار پر ہمہ وقت لبیک کی صدا کہنے کے لیے کمربستہ ہو، کیوں کہ انفرادی طور پر کسی کے لیے اتنے بڑے کام کا اتمام کرنا محال ہے۔
اسی فکری زاویے کو عملی جامہ میں ملبوس کرنے کے لیے ہم ایک ادارے کی افتتاح کے خواست گار ہیں، چوں کہ اس ذمہ داری کی ڈور کسی عظیم عبقری شخصیت کے ماتحت ہونی چاہیے تھی مگر وہ اپنی دیگر مصروفیات میں منہمک ہیں، اگر وہ اس جانب خیال نہیں کرتے تو ان کی جگہ کسی متنفس فرد کو پاسبانی کرنی ہی ہوگی، ہماری مجبوری ہے اس لیے اس عظیم کام کی ذمہ داری میں راقم الحروف (محمد کونین صدیقی مصباحی) اپنے سر لیتا ہوں اور میرے ہمراہ مسکن الروح، جگری دوست "حافظ محمد افروز رضا شیخ" ہیں، جنھوں نے اس کام کے سب سے پہلے سر انجام دینے کی خواہش ظاہر کی اور ان کے ساتھ "حافظ محمد سعید انور" ہیں، جن دونوں کی بلند فکر پہ مجھ ناچیز کو ناز ہے کہ آج بھی اس انقلابی سونچ کے حامل شخص دنیا میں موجود ہیں، ہم تینوں میں سے ہر شخص اپنے آپ میں حاکمیت رکھتے ہیں اور یہ صاف و شفاف لفظ میں کہا جاتا ہے کہ ہم میں جو شخص سنی صحیح العقیدہ اہل سنت و جماعت سے منحرف ہوا ہر دوسرا شخص پر لازم ہے کہ ان کو اپنے عہدے سے برخاست کیے جائیں، اس بات کو نیند کی آغوش اور مفقود العقل ہونے کی بھی صورت میں ذہن نشیں رکھیں کہ عقیدے کے معاملے میں کسی طرح کی بے حرمتی قابل برداشت نہیں کی جائے گی اور وہ حضرات جن کا کفر ظاہر ہے مثلا: دیابنہ، وہابیہ، اہل حدیث، نیچری، ملحد، قادیانی، رافضی، شیعہ، معتزلہ، تبلیغی، وغیرہ جتنے ادیان و فرقے باطلہ کاذبہ ہیں ان تماموں پر حضور سیدی، سندی، مرشدی، اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت قاطع کفر و ضلالت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قادری قدس سرہ کا کافر و شرک گمراہ و بدمذہب ہونے کا فتوی علی الاعلان تحریرََا تقریراََ دیا ہو ان میں ذرہ برابر بھی کج روی کی وہ ہم سنی بریلوی اور ہمارے جامعہ ہٰذا سے خارج کیا جائے گا۔
اور جن کا یہ اعتراض ہو کہ ہم تینوں کم سن ہیں اتنے بڑے کام کی ذمہ داری ان کو کیسے سوپی جائے تو ان کے ازالے کے لیے کہہ دوں کہ راقم الحروف کے علاوہ دونوں فرد پانچ سات برس کے تجربہ کار ہیں جو پڑھائی کے ساتھ انتظامیہ وغیرہ پر بھی کامل دسترس رکھتے ہیں اور رہی بات عمر کی تو درس نظامی کی ایک مشہور کتاب "ازھار العرب" میں لکھے واقعے سے رد کر دوں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللّٰہ عنہ کے پاس حجازیوں کی ایک جماعت آئی تو ان میں بات کرنے کے لیے ایک نو عمر بچہ سامنے آیا، امیر المؤمنین نے کہا: کہ تم میں جو بڑے ہیں ان کو بھیجو تو اس نونہال بچے نے انقلاب آور بات کہی جو محل استشہاد ہے کہ انسان دل اور زبان سے پہچانا جاتا ہے، اگر معاملات کا فیصلہ صرف عمر کے لحاظ سے ہوتا، تو اس امت میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو آپ کے اس منصب خلافت کے آپ سے زیادہ حقدار تھے۔ (اللّٰہ اکبر) الغرض! ہم تو اتنے بھی نو خیز نہیں اسی لیے ہم اس کار خیر کو پائے تکمیل تک لے جانے کے لیے مکمل جوان مردی کے ساتھ کمربستہ ہیں اور عزم مصمم کیے ہیں، اور اگر اب بھی تسلیم و رضا نہیں ہوتے تو آپ کو تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ " اسامہ بن زید، عمیر بن ابی وقاص، حضرت حنظلہ، معاذ و معوذ، محمد بن قاسم، سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ، " (رحمہم اللّٰہ) وغیرہم کونسی شخصیت ہیں، انھوں نے اپنے آپنے وقت میں کتنے بڑے بڑے کام سر انجام دیے، پھر یہ خدشہ کہ نوعمر لڑکا نہیں کر پائے گا وہم و گماں سے تادم حیات ختم ہو جائے گا۔ ان شاءاللہ ﷺ
ہم میں سے ہر شخص اب تک حقوق العباد کے معاملات میں مستحکم ہیں، اور بارگاہ ایزدی میں عہد کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہمارا یہی عمل رہے گا اور اگر رشوت خوری میں گرفت ہونے کی صورت میں مجرم قرار دیا ہو تب بھی اسے علیحدہ کیا جائے گا۔
اس برتر مہم کو بالفور عمل میں لانا فقط تصورانہ بات ہوگی اس لیے حقیقت سے رو گردانی دروغ ہوگی، ایسی صورت میں فی الحال تعلیمی افتتاح کے لیے ایک بلڈینگ کو کرائے پر لینے کا معاہدہ ہو چکا ہے، جہاں تعلیمی سلسلے کے ساتھ اپنا مین آفس بھی کارگر ہوگا جہاں کی مکمل سرگرمیاں ہماری مقصد اصلی پر مشغول رہے گی، اس مشن کو تعمیری شکل دینے میں زمینی سطح سے اقلاََ دس بیگھا زمین کی ضرورت ہوگی جہاں شروعات میں ایک ہاسٹل کے بن جانے تک تقریباً سات سال کی مدت ہوگی اور اگر نصر من اللہ ہوئی اور لوگوں کی مرکزِ نگاہ رہی تو اس سے قبل ہی بن جائے گا ان شاء اللہ ﷻ۔
المختصر: ہمارے ادارے کے فرزندان دیگر مدارس سے نمایاں نظر آئیں گے اور صلاحیت و لیاقت قابل ستائش دکھے گی، اس لیے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ علمی، عملی، اخلاقی، ملی اور روحانی ہر زاویے سے برتر ہوگی اسی طرح نام میں بھی وہ رعنائیت اور امتیازی شان دکھے گی اسی وجہ سے ہم تینوں نے اپنے ادارے کا نام رکھا ہے "الجامعة السّنیة العطائیة " ہمارے دبستان نما علمی مرکز میں لفظ "سنی" کو فرقہ باطلہ کاذبہ سے تضاد میں دیا گیا ہے اور "عطائی" ہمارے فارغینِ کے خطاب کے لیے ہے، لہذا ہم میں سے ہر شخص اس بات کو فوقیت دیں گے کہ پانی کی جگہ خون کا مطالبہ ہو تو بلا تامل سر خم کرکے دل و جان کا نذرانہ پیش کردیں گے اور ہماری تنظیم سے جوڑے ہر افراد اجتماعی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جامعہ ہذا کسی کا پرسنل نہیں ہے بلکہ سب کا ذاتی ادارہ ہے اپنا ادارہ سمجھ کر دل و جان سے خلوص و للہیت کے ساتھ اس کام کو پائے تکمیل تک لے جائیں۔
نگارشِ قلم: محمد کونین صدیقی مصباحی
وقت: ۲ بجے رات,
تاریخ قمری: ۱٤/ ربيع الثاني/ ١٤٤٨ھ
تاریخ شمسی: ۲۷/ ستمبر/ ۲۰۲٦ء
جاری ان شاءاللّٰه ﷻ.......
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "سیمانچل کی تعلیمی ضرورت اور الجامعة السنیة العطائیة کا تصور"
Post a Comment