نس بندی کرانے والی کی اقامت و امامت کا حکم کیا ہے
Wednesday, 30 September 2026
Add Comment
السلام علیکم مصباحی صاحب! ایک سوال ہے کہ نس بندی کرانے والا انسان اذان ، اقامت اور امامت کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں، قرآن وسنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
العارض: فیضان عالم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
نسبندی کرانا ناجائز وحرام ہے کہ یہ مُثلہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں خلافِ شرع تبدیل کرنا ہے، جو حرام وگناہ اور شیطانی کام ہے۔ ضبطِ تولید کے اور طریقے جیسے کنڈوم لگانے یا کھانے کی مانع حمل دوائیں صحیح عقیدہ کے ساتھ یعنی یہ عقیدہ رکھتے ہوئے یہ طریقے اسباب و علاج ہیں، مؤثر حقیقی اللہ تعالی ہے، جائز ہے۔ لہذا نسبندی کرانے والا شخص گناہِ کبیرہ کی وجہ سے فاسقِ معلن ہوا اور فاسقِ معلن کا اذان و اقامت کہنا مکروہ ہے اگر کہ دے تو اذان کا اعادہ کرنا مستحب ہے اور اقامت کو دوبارہ کہنے کی حاجت نہیں کیونکہ اَذان کی تکرار مشروع ہے اور اقامت دوبار نہیں۔ اور امامت کرنا مکروہِ تحریمی ہے یعنی اگر کسی نے پڑھ لی تو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ البتہ اگر وہ سچی توبہ کر لے یعنی اپنے اس فعل پر نادم ہو کر آئندہ کبھی نہ کرنے کا عزم کرے اور اللہ پاک سے توبہ کرے تب اس کا اذان، اقامت اور امامت کرنا شرعاً جائز ہو جائے گا کہ سچی توبہ کرنے سے سابق گناہ مٹا دیا جاتا ہے، جبکہ اس کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو۔
مُثلہ اللہ پاک کی پیدا کی ہوئی چیز میں خلاف شرع تبدیلی کرنا ہے، جو حرام وگناہ اور شیطانی کام ہے۔ اس بارے میں قرآن پاک میں ہے:﴿وَلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنْعامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ.﴾ ترجمہ کنز الایمان:(شیطان نے کہا) قسم ہے میں ضرور بہکا دوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے۔ (القرآن المجید، سورۃ النساء، آیت: 119)
اور حضور ﷺ نے مُثلہ کرنے سے منع فرمایا، چنانچہ ”بخاری شریف“ میں ہے:”عن النبي صلى اللہ عليه و سلم:أنه نهى عن النهبة و المثلة.“ یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ سےمنع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الذبائح و الصید، باب ما یکرہ من المثلہ۔۔۔، جلد:7، صفحة:94، دار طوق النجاۃ)
مُثلہ کی وضاحت کے بارے میں ”البنایہ شرحِ ہدایہ“ میں ہے:’’و المثلة بضم الميم ما يتمثل منه فی تبديل خلقه وبتغير هيئته سواء كان بقطع عضو او تسويد وجه وتغيره، هكذا فسره الاكمل اخذه من الدراية وقال تاج الشريعة: المثلة ما يتمثل فيه فی القبح، قال الاترازی نحوه وزاد: واصلها قطع الاعضاء ويريد الوجه، قلت: المثلة: اسم لمصدر المثل بفتح الميم وسكون الثاء،يقال مثلت بالحيوان امثل مثلاً:اذا قطعت اطرافه وشوهت به ومثلت بالعبد اذا جدعت انفه او اذنه او مذاكيره او شيئاً من اطرافه.‘‘ یعنی اور مُثلہ میم کے ضمہ(پیش) کے ساتھ ہے، جوکسی کی فطرت کو تبدیل کرنے اور اس کی ہیئت کو بدلنےکی صورت میں کیا جاتا ہے ،اب برابر ہے کہ یہ کسی عضو کو کاٹنے کے سبب ہو یا چہرے کو سیاہ اور اسے تبدیل کرنے کے سبب ہو۔ ایسے ہی اکمل نے درایہ سے نقل کرتے ہوئے تفسیر بیان کی ہے اور تاج الشریعہ نے فرمایا:مثلہ وہ ہے جو بد نمائی کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ اترازی نے اسی کی مثل بیان کیا ہے اور یہ الفاظ زیادہ کیے کہ مثلہ کی اصل اعضاء کاٹنا ہے اور وہ اس سے مراد چہرہ لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مثلہ مثل مصدر (جو میم کے فتحہ یعنی زبر اور ثاء کے سکون کے ساتھ ہے،اس) کا اسم ہے، کہا جاتا ہے کہ میں نے حیوان کا مثلہ کیا (یہ اس وقت بولا جاتا ہے) جب اس کے اعضاء کاٹ دیے جائیں اور اسے بدشکل بنا دیا جائے اور (کہا جاتا ہےکہ ) میں نے غلام کا مثلہ کیا جب اس کی ناک یا کان یا شرمگاہ یا دیگر اعضا میں سے کوئی چیز کاٹ دی جائے۔ (البنایة شرح ھدایة جلد:1، صفحة:527، مطبوعہ دار الکتب العلمیة، بیروت)
نسبندی کروانے کے متعلق ”فتاویٰ بحر العلوم“ میں ہے:”نس بندی کسی صورت جائز نہیں، یہ ناجائزو حرام ہے۔ البتہ ضبط تولید کے اور طریقے جیسے کنڈوم لگانے یا کھانے کی مانع حمل دوائیں صحیح عقیدہ کے ساتھ یعنی یہ عقیدہ رکھتے ہوئے یہ طریقے اسباب و علاج ہیں، مؤثر حقیقی اللہ تعالی ہے، جائز ہے۔“ (فتاوی بحرالعلوم، جلد:2، صفحہ:608)
”فتاویٰ مرکزِ تربیت افتاء“ میں ہے:”نسبندی کروانا شرعاً ناجائز وحرام ہے کہ اس میں اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنا ہے جس کی حرمت نص قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اللہ تبارک وتعالی کا ارشادِ گرامی ہے:”والامرنہم فالیغیرن خلق الله.“ ١ھ یعنی شیطان بولا کہ میں ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز بدل دیں گے۔ (سورۂ نساء آیت:١١٩) تفسیر صاوی میں ہے:”من ذلک تغییر الجسم.“ اور اسی میں سے جسم کا بدلنا ہے (ج١، ص٢٣١) بخاری ومسلم ”کتاب اللباس“ میں ہے:”لعن الله المغیرات خلق الله“ یعنی اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیز کو بدلنے والی ہیں۔ لہذا نسبندی کرانے والا سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے ایسا شخص جب تک توبہ نہ کر لے اس سے قطع تعلق رکھا جائے۔“ (فتاویٰ مرکزِ تربیت افتاء، کتاب الحظر والإباحة، جلد:دوم، صفحہ:391، مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھاگنج بستی)
فاسق کا اَذان کہنا مکروہ ہے، جیسا کہ ”فتاویٰ عالمگیری اور تنویر الابصار“ میں ہے:”ويكره أذان الفاسق.“ یعنی فاسق کی اذان مکروہ ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثاني في الأذان، الفصل الأول في صفته، الجزء الأول، صفحة:60، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
فاسق کی اَذان کا اعادہ کرنا مستحب ہے، چنانچہ ”البحر الرائق“ میں ہے:”لكن في القهستاني: إعلم أن إعادة أذان الجنب والمرأة والمجنون والسكران والصبي والفاجر والراكب والقاعد والماشي والمنحرف عن القبلة واجبة لأنه غير معتد به، وقيل مستحبة فإنه معتد به إلا أنه ناقص وهو الأصح كما في التمرتاشي.“ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب الأذان، الجزء الأول، صفحة:460، دار الكتب العلمية، بيروت)
اقامت کا اعادہ نہیں ہے، چنانچہ ”مراقی الفلاح“ میں ہے:”(ويستحب إعادته) أي الأذان... لأن تكراره مشروع كما في الجمعة (دون الإقامة).“ یعنی اذان کا اعادہ کرنا مستحب ہے کیونکہ اذان کی تکرار مشروع ہے جیسا کہ جمعہ میں ہے اقامت کا اعادہ نہیں ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الصلاة، باب الأذان، صفحة:200، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
”بہارِ شریعت“ میں ہے:”خنثیٰ و فاسِق اگرچہ عالِم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچّے اور جنب کی اَذان مکروہ ہے، ان سب کی اَذان کا اعادہ کیا جائے۔“ (بہار شریعت، جلد:1، حصہ سوم، صفحہ:466، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)
اسی میں ہے:”اَذان کی تکرار مشروع ہے اور اِقامت دوبار نہیں۔“ (بہارشریعت، جلد:1، صفحہ:471، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)
فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے، جیسا کہ ”غنیة المستملی“ میں ہے:”قدموا فاسقا یاثمون، بناء علی ان کراھة تقدیمه کراھة تحریم.“ یعنی لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گناہ گار ہوں گے کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (غنیة المستملی شرح منیۃ المصلی، صفحة:442)
کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کے متعلق ”در مختار“ میں ہے:” كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها.“ یعنی ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو، اس کا اعادہ واجب ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلوٰۃ، واجبات الصلوٰۃ، جلد:2، صفحہ:182)
توبہ کے متعلق سرورِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:” اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّاذَنْبَ لَهٗ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ (السنن الکبری للبیہقی، کتاب الشهادات، باب شهادۃ القاذف، جلد:10، صفحة:259، الحدیث:20561)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "نس بندی کرانے والی کی اقامت و امامت کا حکم کیا ہے"
Post a Comment