حضرت نمازِ عصر پڑھنے کے بعد قضاء نماز پڑھ سکتے ہیں؟
Sunday, 30 August 2026
Add Comment
حضرت نمازِ عصر پڑھنے کے بعد قضاء نماز پڑھ سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
جی ہاں! نمازِ عصر پڑھنے کے بعد غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے قضاء نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اوقاتِ مکروہہ یعنی طلوع، غروب اور زوال کے علاوہ کسی بھی وقت قضاء نماز پڑھ سکتے ہیں کہ قضاء نمازوں کی ادائیگی کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ قضاء نمازوں کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل کی جگہ قضاء نماز پڑھے۔ کیونکہ زندگی کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ کب یہ زندگی کی ڈور ٹوٹ جائے اور آخرت میں خسارہ اٹھانا پڑے۔
تین اوقاتِ مکروہہ کے علاوہ کسی بھی وقت میں قضا نماز ادا کی جا سکتی ہے، چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے:’’ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب، هكذا في فتاوى قاضي خان۔۔۔ ولا يجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها كالوتر، هكذا في المستصفى والكافي.‘‘ یعنی تین اوقات ایسے ہیں کہ جن میں فرض نماز، نمازِ جنازہ، سجدہ تلاوت کی ادائیگی جائز نہیں جب سورج طلوع ہو یہاں تک کہ بلند ہوجائے، ضحوہ کبریٰ کے وقت یہاں تک کہ سورج زائل ہوجائے اور سورج کے سرخ ہونے کے وقت یہاں تک کہ وہ غروب ہوجائے مگر یہ کہ اسی دن کی عصر کی نماز سورج غروب ہوتے وقت بھی ادا کرنا شرعاً جائز ہے، جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان میں مذکور ہے۔۔۔ فرائض کی قضاء اور واجب نماز جو اپنے وقت سے فوت ہوچکی ہے جیسا کہ وتر ان نمازوں کی ادائیگی بھی اوقاتِ مکروہہ میں جائز نہیں، جیسا کہ مستصفی اور کافی میں مذکور ہے۔ (الفتاوٰی الهندية، کتاب الصلاۃ، الباب الأول في المواقيت وما يتصل بها، الفصل الثالث في بيان الأوقات التي ...إلخ، الجزء الأول، صفحة:58، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت
بہارِ شریعت میں ہے:”قضا کے لیے کوئی وقت معین نہیں عمر میں جب پڑھے گا برئ الذمہ ہو جائے گا مگر طلوع و غروب اور زوال کے وقت کہ ان وقتوں میں نماز جائز نہیں۔“ (بہارِ شریعت، قضا نماز کا بیان، جلد:1، حصہ چہارم، صفحہ:702، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)
نوافل کی جگہ قضاء نمازوں کو پڑھنا اہم ہے لیکن سنتِ مؤکدہ اور تراویح کو نہ چھوڑے، چنانچہ ”رد المحتار“ میں ہے:”الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة.“ یعنی قضاء نمازوں کی ادائیگی میں مشغول ہونا نوافل سے زیادہ بہتر اور اہم ہے سوائے فرضوں کی (مؤکدہ) سنتوں کے۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، مطلب في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل، الجزء الثاني، صفحة:536، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "حضرت نمازِ عصر پڑھنے کے بعد قضاء نماز پڑھ سکتے ہیں؟"
Post a Comment