کیا دس محرم تک نکاح اور خانے پینے میں پابندیاں ضروری ہے؟
Friday, 25 September 2026
Add Comment
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل عوام میں یہ مسائل ترقی پذیر ہو رہے ہیں کہ 1 سے 10 محرم تک شادی بیاہ نہیں کر سکتے، ارہر کی دال اور مچھلی انڈا نہیں کھا سکتے اور جب محرم کی 10 تاریخ آتی ہے تو اس تاریخ میں جب تک تعزیہ چوک سے اٹھ نہیں جاتاہے اس وقت تک عورتیں جھاڑو نہیں لگاتی ہیں اور اس دن شام میں دال چاول نہیں بناتی ہیں۔ ان تمام کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ باتیں سوگ کے زمرے میں آتی ہیں اور سوگ حرام ہے۔ اسلام میں سوگ صرف تین دن تک جائز ہے صرف وہ عورت جس کا شوہر فوت ہو جائے تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے جس میں سوگ لازم ہے۔ ان تمام خرافات اور توہمات سے ہرگز سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خوش نہیں ہوں گے تم خود غور کرو کہ انہوں نے احیائے دین و سنت کے لیے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اللہ اس کو بدعات کا ذریعہ بنا لیا۔ لہذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان خرافات سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے اللہ عزوجل اور رسول ﷺ راضی ہوں کہ یہی نجات کا ذریعہ ہے۔
سوگ تین دن تک جائز ہے مگر جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی، چنانچہ ”صحیحین“ میں ہے:”عن أم حبيبة وزينب بنت جحش عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال، إلا على زوج اربعة أشهر وعشرا.“ یعنی اُمّ المومنین اُمّ حبیبہ و اُمّ المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اللہ عزوجل اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اُسے یہ حلال نہیں کہ کسی میّت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، مگر شوہر پر کہ چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب حد المرأۃ علی غیر زوجھا، الحدیث:1281، 1282، جلد:1، صفحہ:433)
اس حدیث پاک کی شرح میں ”حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ تحریر فرماتے ہیں:”یعنی عورت کسی عزیز و قرابتدار کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے باپ بیٹا بھائی کوئی بھی فوت ہوجائے اس پر تین دن تک سوگ یعنی ترک زینت کرسکتی ہے مگر خاوند کی موت پر پوری عدت کے زمانہ میں سوگ کرے کہ نہ خوشبو لگائے نہ زینت کا لباس پہنے یہ مدت غیر حاملہ کے لیے ہے حاملہ کی عدت تو حمل جن دینا ہے وہ اس وقت تک سوگ کرے۔ اس حدیث سے ان نادان سنیوں کو عبرت لینی چاہیے جو محرم میں دس دن کوٹتے پیٹتے ہیں چار پائی پر نہیں سوتے اچھا لباس نہیں پہنتے کالے کپڑے پہنتے ہیں یہ سب حرام ہے اور روافض کی پیروی حضرات اہل بیت اطہار نے کبھی نہ کئے۔“ (مرآۃ المناجیح شرحِ مشکوٰۃ المصابیح، نکاح کا بیان، باب:عدت کا بیان، جلد:5، تحت الحدیث:3330)
”اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ سے سوال ہوا کہ (۱) بعض سنت جماعت عشرہ ۱۰محرم الحرام کونہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ (۲) ان دس دن میں کپڑے نہیں اُتارتے ہیں۔ (3) ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:”پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:24، صفحہ:489، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "کیا دس محرم تک نکاح اور خانے پینے میں پابندیاں ضروری ہے؟"
Post a Comment