دو لوگوں کا ایک ساتھ ایک پارے کو ختم کرنا کیسا ہے؟
Tuesday, 29 September 2026
Add Comment
دو لوگوں کا ایک ساتھ ایک پارے کو ختم کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
یاد رہے! قرآن مجید کو ترتیب کے ساتھ پڑھنا واجب ہے اور خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ ہم احناف کے نزدیک سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ہے، مصحفِ عثمانی کو اُسی ترتیب پر مرتب کیا گیا جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِه وَسَلَّم نے بیان فرمائی۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں حکمِ شرع یہ ہے کہ اگر دو لوگ ایک پارے کو اس طرح پڑھیں کہ ایک شخص شروع صفحہ کی آیت سے آخری صفحہ کی آیت تک پڑھے اور دوسرا شخص بھی اسی طرح پڑھے تو اس طرح پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر صفحہ کے بالکل شروع سے آخری صفحہ تک پڑھیں خواہ آیت ہو یا نہ ہو تو اس طرح پڑھنا بہتر نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیتیں ایک دوسرے کے ساتھ معنوی اعتبار سے مربوط ہیں۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ آدھا آدھا پارہ کرکے پڑھ لیا جائے۔
سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے ہے، چنانچہ امام حافظ ابو الفضل عیاض بن موسیٰ بن عیاض مالکی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:544ھ) لکھتے ہیں”ولا خلاف أن تأليف كل سورة وترتيب آياتها توقيف من الله تعالى على ما هي عليه الآن في المصحف، وعلى ذلك نقلته الأئمة عن نبيها عليه السلام.“ (إكمال المعلم بفوائد مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل، الجزء الثالث، صفحة:137، تحت الحديث:204)
نماز کے علاوہ بھی قرآن مجید ترتیب سے پڑھنا واجب ہے، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمشقی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1252ھ) لکھتے ہیں:”نصوا بأن القراءۃ علی الترتیب من واجبات القراءۃ فلو عکسه خارج الصلاۃ یکرہ.‘‘ یعنی فقہائے کرام نے واضح بیان فرمایا ہے کہ ترتیب سے قرآن مجید پڑھنا قراءت کے واجبات میں سے ہے لہٰذا نماز کے باہر اس ترتیب کو تبدیل کرے گا تو مکروہ ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، الجزء الثاني، صفحة:330، مطبوعہ کوئٹہ)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1340) لکھتے ہیں:”نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو دونوں میں لحاظ ترتیب واجب ہے اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔ سیّدنا حضرت عبداﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص خوف نہیں کرتا کہ اﷲ عزوجل اس کا دل اُلٹ دے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:6، صفحہ:236، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "دو لوگوں کا ایک ساتھ ایک پارے کو ختم کرنا کیسا ہے؟"
Post a Comment