بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

ہم سے حبِ وطن کا ثبوت کیوں؟ تاریخِ آزادی کے آئینے میں مسلمان|


ہم سے حبِ وطن کا ثبوت کیوں؟

تاریخِ آزادی کے آئینے میں مسلمان

"ہم سے حبِ وطن کا ثبوت کیوں؟ تاریخِ آزادی کے آئینے میں مسلمان"

از قلم: محمد کونین صدیقی مصباحی


ہمارے معزز و مقتدر اسلاف جنھوں نے ہمارا پیارا وطن عزیز "ہندوستان" کو انگریزوں سے 1857ء سے لیکر 1947ء تک جہد تسلسل کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور 1757ء سے برطانوی حکومت کے مقبوضہ دیش کو 1947ء میں آزادی حاصل کی، جس سے آگاہ کرانا ایک غم انگیز سانحہ ہے کہ ہمارے ملکی قومی نسل نو کو باضابطہ تعلیمی اداروں میں مسلم مجاہدین کے علاوہ سب کو یاد رکھا گیا مگر ہمارے باوقار شخصیات کی قربانیاں فراموش کر دی گئی۔

جنھوں نے برٹش کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے اپنی جان کو نچھاور کیا اور دہلی کی جامع مسجد میں بیٹھ کر علماے ذوی الاحترام نے جہاد کا حکم علی الاعلان کیا، جن کے قائد و رہنما حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی رحمہ اللّٰہ تھے ان کے تائیدین کی ایک بڑی جماعت تھی جن میں سر فہرست مفتی صدر الدین آزردہ، علامہ فیض احمد بدایونی اور مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی وغیرہم تھے، علامہ صاحب کا جہاد پہ فتاویٰ دینے کی وجہ سے کالا پانی کی سزا ہوئی اور اس وقت کا مشہور و معروف جیل جزیرۂ انڈمان بھیجا گیا وہیں 1861ء میں جام فرقت پی چکے۔

اور سید احمد اللہ شاہ مدراسی نے بریلی اور شاہجہان پور کے گرد و نواح میں اخیر دم تک جنگ کی اور فروخ آباد میں 11 اگست 1888ء میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، جسم کو جلا کر راکھ کرکے دریا میں بہا دیا گیا اور سر کو کوتوالی (پولیس چوکی) میں لٹکایا گیا،

یوں ہی مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی بھی الگ داستان ہے ان سب بزرگوں کے کارناموں کو اس مختصر سے مضمون میں جمع کرنا میرے لیے مشکل ہے، ان کے علاوہ عنایت احمد کاکوروی، اشفاق اللہ خان، کفایت علی کافی حسرت علی موہانی، شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان، اور یوں ہی سیدی مرشدی اعلی حضرت علیہ کے دادا محترم امام العلما رضا علی خان بھی انھیں شہدا میں سے ہیں جنھوں نے 1857ء میں بریلی میں انگریزوں کو شکست دی پھر تقریباً ایک سال بعد بریلی میں بھی انگریزوں نے قبضہ کیا جس میں جس میں سیکڑوں لوگوں کو بھانسی دی گئی اور ان کے لاشوں کو درختوں پر لٹکایا گیا وغیرہم.... الغرض دیگر بے شمار علماے حقہ نے وطن کی آزادی کے لیے موت کو گلے لگایا اور اس دیش کو ہم تک منظم و مربوط ہبہ کیا۔

عصری تعلیم یافتہ بچوں کو ان کے نام تک یاد نہیں افسوس بر افسوس یہ ہے کہ ان کو اس بات کی خبر تک نہیں، جس کا نتیجہ یہ ملتا ہے کہ ہمیں حب الوطنی کے اظہار کے لیے گوناگوں الفاظ ادا کروائے جاتے ہیں، چاہے "وندے ماترم" (اے ماں! ہم تیرے پجاری- عبادت کرنے والے- ہیں ) اور "راشٹریہ گان" (جن گن من...) جس کا اگر عام فہم اردو میں ترجمہ کرتے ہیں تو کلمات شرک و کفر ثابت آتا ہے، لہذا ایسے لفظ سے بچنا ضروری ہے، جو ہمارے مذہبی عقائد و نظریات کے بالکل برخلاف ہے۔

اور جرم بالائے جرم ہے کہ طالب محب وطن بھی کون ہے، جس نے گاندھی جی پر گولی چلائی، جو خود اپنے ناگپور ہیڈ کوارٹر پر ملک کی آزادی کے تقریباً 52 سال تک اپنے دفاتر میں ترنگا نہیں لہرایا وہ آر-ایس-ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے غنڈے حرام کے نطفے کے پیداوار کہیں گے کہ "تم دیش کے دشمن ہو" یہ ناجائز کی پیدائش تاریخ ہند کے پس منظر کو میں نہیں بھول سکتا، آج کے "پرائم منسٹر" "نریند مودی" جو 2002ء میں گجرات کے سی-ایم تھے اس زمانے میں مسلمانوں کو سرعام قتل کیا، حاملہ عورتوں کے ساتھ ریپ کروا کے قتل کروایا اور نو مولود بچے کی جو کلی ابھی کِھلی بھی نہیں تھی اس سے پہلے ہی مسل دیا، مسلمانوں کے ساتھ اس قدر قتل و غارتگری کیا کہ پناہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ملی، پورے گاؤں میں آگ لگا دیا ایسے ناجانے کتنے واقعات رونما ہوئے ہوں گے ان بے قصوروں کو ناحق قتل کیا گیا اس کا اکاؤنٹبلٹی کون دے گا، کیا میں ان خوفناک ماضی کو بھول جاؤں ہر گز نہیں، آج بھی "داستانِ ہند" نامی کتاب جن کے مصنف "عزیز برنی صاحب" ہیں، تم سب کے ظلم و جبر کو مہر مستحکم کردیا ہے، تفصیل کے لیے ضرور رجوع کریں۔
جب ملک کی آزادی میں ہر مکاتب فکر و مذاہب نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی تو پھر ہم مسلمانوں سے حب وطنی کا مطالبہ کیوں؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھیم راؤ امبیڈکر، گاندھی جی، سبھاش چندر بوس وغیرہ نے ملک کی آزادی میں کافی دل و جان سے محنت کی جس کا صلہ آج تک گاندھی جیانتی، بھیم راؤ امبیڈکر ڈے وغیرہ کے ذریعے مل رہا ہے، مگر ہمارے  مسلم اسلاف مجاہدین کا دور دور تک کوئی خیال نہیں، ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی، حد تو یہ ہے کہ اس دیوث کو معلوم بھی نہیں کہ مسلم مجاہدین بھی ہیں جنھوں نے خون سے سینچا ہے، یہی صورت حال ہے تب ہی تو
دور حاضر میں بھی یہی آر-ایس-ایس کے لچا موالی یہی نعرہ لگا کر سر بازار گرم کرتے ہیں اور ہم مسلمانوں کو کہتے نہیں تھکے کہ "تم دیش کے غدار ہو" یہی بات اگر ہمارے اسلاف جنھوں نے کالا پانی کا سزا بھکتا، اپنی اولاد سے ہاتھ دھو بیٹھا اپنی زندگی کو حب وطن میں قربان کردی اور اتنا سب کچھ کیا یہ سب کیا ہے، بلکہ حقیقتاً شک تو تمھارے لوگوں میں ہے تم نے کیا کیا آج تک دیش میں بدامنی تمھارے کیے دھرے کا نتیجہ ہے، تم خود سب سے بڑے ہمارے وطن کے نمک حرام اور دیش کے دشمن ہو، جب کبھی تمھارے پردے میں چھپے منھ کو راز فاش کرنے کا موقع میسر آنا نہ؛ قسم اس رب قدیر کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم کو کتا نہیں بنا دیا نہ تو میں بھی ایک مرد نہیں، جب الٹی گنتی شروع ہوگی اس دن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ہم مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو ہمارا اسلام الحمد للّٰہ بنگلہ دیش سے مراکش تک ایک خلیفہ کے تحت چلتا تھا جس میں کہیں بھی دنگا فساد نہیں ہوتا تھا اور ایک تم ہو جہاں رہتے ہو وہیں سرکشی کرتے ہو اس کے لیے ماضی اور حال شاید ہے، جسے دنیا کا کوئی بھی فرد انحراف نہیں کر سکتا۔

جاری.........

0 Response to "ہم سے حبِ وطن کا ثبوت کیوں؟ تاریخِ آزادی کے آئینے میں مسلمان|"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->