بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

نسبت مصطفیٰ ﷺ اور شرف کائنات | محمد کونین صدیقی


نسبت مصطفیٰ ﷺ اور شرف کائنات

نسبت مصطفیٰ ﷺ اور شرف کائنات

از قلم: محمد کونین صدیقی مصباحی

قادر مطلق ﷻ نے کل کائنات کی تخلیقات سے پیشتر حضور مجلئ نگار خانۂ کونین ﷺ کے نور کو ابداع و اختراع فرمایا، جس کی تجلی سے انواع مخلوقات کو پردۂ عدم سے وجود بخشا، اسی لیے "وجہ تخلیق کائنات" کا اصح و کامل خطاب دیا گیا جو اسم با مسمٰی ہے، اس انفرادی وجود ہستی کا تعارف گویا آفتاب کو چراغ دکھانا ہوگا۔
"مخزن اجناس عالیہﷺ" کی تشریف آوری سے انسانیت کو اشرف المخلوقات کا اعزاز نصیب ہوا،

آئینۂ جمال خوبروئی ﷺ کا جس شہر نے قدم کے آثار کو محفوظ کیا وہ "مکہ مکرمہ" کہلایا، جس وادی نے پرورش دیکھی وہ "ام القریٰ" کہلائی اور جس گھر کی تطہیر و تعمیر میں شرکت ہوئی وہ "کعبۂ معظمہ" ہے۔

جس شہر نے اپنے دامن میں جگہ دی وہ "مدینۃ الرسول ﷺ" کہلایا، جس سرزمین نے مسجد کو اپنے اندر سمویا اسے "مسجدِ نبوی ﷺ" کا شرف حاصل ہوا اور جس خاک نے اپنے اندر آرام دیا وہ "روضۂ اقدس" کی نسبت سے اہلِ محبت کا قبلۂ عقیدت بن گئی۔

جلوۂ انوار ہدایت ﷺ نے جس مسجد میں نماز ادا فرمائی اسے "مسجدِ نبوی ﷺ" ہونے کا شرف ملا، جس منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا وہ "منبرِ رسول ﷺ" کہلایا، اور جس مقام کو اپنے وجودِ اقدس سے مشرف فرمایا، وہ "ریاض الجنۃ" کے نام سے امت کے دلوں میں محبوب ہوگیا۔

"کعبۂ اربابِ حلم و صفا ﷺ" جس خطۂ عرب میں جلوہ گر ہوئے، اس سرزمین کو اقوامِ عالم، بالخصوص عجم، پر ایک ممتاز شرف و امتیاز حاصل ہوا۔

"ربیعُ فصلِ دوراں ﷺ" جس ماہِ مبارک میں طلوع ہوا، اس ماہ کو میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی نسبت سے امتِ مسلمہ کے قلوب میں ایک منفرد مقام حاصل ہوا۔

جس شب "اقصی معراج اصحاب کمالات ﷺ" کی پیدائش ہوئی وہ ہزاروں مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر سے فوقیت رکھتا ہے،

وہ آمنہ خاتون جن کے آغوشِ محبت میں "چہرہ افروز ہلال عید ﷺ" نے آنکھ کھولی، ان کی نسبتِ مادری نے انہیں تاریخِ انسانیت میں وہ امتیاز عطا کیا جس کی مثال نہیں۔

سیارۂ فضائے قاب قوسین ﷺ کی حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ عنہ نے تصدیق کو اپنا شعار بنایا، صدیق کہلائے، وہ حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ جن کی نسبت سے حق و باطل کے درمیان امتیاز نمایاں ہوا فاروق کہلائے، وہ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ جنھیں دامادیِ مصطفیٰ ﷺ کے دوہرے شرف نے ممتاز کیا ذوالنورین کہلائے، اور وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ جنہیں قرابت و دامادیِ نبوی ﷺ دونوں نسبتیں نصیب ہوئیں، شیرِ خدا کے لقب سے معروف ہوئے۔

قوت دلہاے ناتواںﷺ کی نسبی نسبت ملی وہ اہلِ بیت کہلائے، جن کے گھرانے میں نسلِ رسول ﷺ آگے بڑھی، وہ گھرانہ امت کے لیے محبت و تعظیم کا مرکز بن گیا۔
"امین وحی الٰہی ﷺ" پر جو کتاب نازل ہوئی وہ تمام صحیفہ و کتبِ سماویہ پر فضیلت و برتری رکھتی ہے۔
واقف خزائن اسرار ﷺ کی امت گزشتہ جملہ امتوں میں رفیع الدرجات کی حیثیت رکھتی ہے۔
افق مبین انوار شمسیہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو قرآن مقدس میں خالق کل کائنات ﷻ نے "انک لعلی خلق عظیم" کہہ کر مہر مستقر لگا دی۔
غرض کہ من کل جہات حضور خلاصۂ مدارک ظاہرہ و باطنہ ﷺ سے جڑی ہر شئی کو بالاتر کرنے کا "وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک" سے اعلان عام کیا۔

یہ تو ان اشیا کا حال ہے جنھیں محض نسبتِ داناے رموز حقیقت ﷺ نے ممتاز کیا، پھر اس ذاتِ سراپا اقدس ﷺ کی عظمت کا احاطہ کون کرسکتا ہے جو خود ان تمام نسبتوں کا مرکز و محور ہے، جسے محض سیدی مرشدی حضور اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کے تین شعر پہ اختتام پذیر کرتا ہوں۔

فرماتے ہیں:
کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
پامال جلوۂ کفِ پا ہے جمَالِ گل

کہہ لے گی سب کچھ اُن کے ثناخواں کی خامُشی
چپ ہو رہا ہے کہہ کے میں کیا کیاکہوں تجھے

لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالِق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے۔


0 Response to "نسبت مصطفیٰ ﷺ اور شرف کائنات | محمد کونین صدیقی "

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->