امت مسلمہ کی معاشی بیداری کا وقت | محمد کونین صدیقی مصباحی
Monday, 17 August 2026
Add Comment
امت مسلمہ کی معاشی بیداری کا وقت
از قلم: محمد کونین صدیقی مصباحی
تاریخ شاہد ہےکہ آج تک مسلمانوں کے خلاف سارے ادیان باطلہ اس مہم میں معاون و مجتمع ہیں کہ مذہب اسلام کو ہر جگہ سے نست و نابود کیا جائے، حال ہی میں وہ حمایت پسندی فلسطین پر قاتلانہ تشدد، مسلمانانِ برما پر ناقابل برداشت حالت، مسلمانانِ ہند پر گاہ بگاہ ظلم و ستم کا پہاڑ ہو ان جیسے سینکڑوں مثالیں ہیں جہاں صرف مسلم کہہ کر مار کاٹ کے مناظر دیکھنے کو ملے، اور عالمی سیاسی و ابلاغی حلقوں نے مسلمانوں کو دہشت گرد کا فرضی خطاب دے کر رسوا کیا اور ان کی طاقت و توانائی کو بر سرعام ہیچ کیا، جس کا واضح ثبوت آج تک سارے اقوامِ باطلہ باہم معاون و مددگار ہیں۔
ان ظالموں نے عالمی سطح پر خفیہ طریقے سے مذہب اسلام کی اصل ریڑھ کی ہڈی خلافت کو منہدم کیا، اور کمزور پڑنے کی صورت میں ان سے جنگ کرکے ان کو للکارا اور شکست دے کر بہت سی وراثت ہڑپ لی، یہ ہم لوگوں کی کمی کی وجہ سے ہے،جب کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ " وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور مسلمانوں کی مدد کرناہمارے ذمہ ٔکرم پر ہے) اور دوسری جگہ فرمایا: " وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ" (اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے) مثل نیم روز کی طرح عیاں ہے کہ اللہ ہی مددگار ہے اور فتح بھی تمھاری ہی ہوگی یہ اس وقت ہوگا جب کہ ایمان کی حلاوت تم میں زندگی ہو، مگر ہم کوسوں دور ہیں۔
غیر مسلموں کی تدبیریں ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کو مالیاتی فنڈ میں مضبوطی نہ دی جائے، تاکہ ہمارے مدمقابل آ ہی نہ سکے، اسی لیے بہت سے حیلے اپنائے گئے، انھیں لوگوں کی جانب سے دیا گیا قول "ہندو مسلم بھائی بھائی" نام ہی کا رہ گیا اور ہمارے مذہب کے کچھ کج روی اختیار کرنے والوں کے لیے بہترین نعرہ ہو گیا مگر دھوکہ دینا جو ان کی خصوصیت ہے اسی لیے تو اپنی کسی بھی چیز میں شمولیت نہیں دیتے خواہ سیاسی ہو یا مالی، تب ہی تو 13 جنوری 2025ء سے 26 فروری تک "مھا کمبھ" کا میلہ لگا اور ہندو مذہب کے لیڈران کہتے نہیں تھکے کہ مسلمانوں سے خرید و فروخت نہ کیا جائے نہ ان کی دکانیں لگنے پائے، بلکہ جو گئے ان کی دکانیں بھی توڑ دی گئی صرف اس لیے کہ تم مسلم ہو اب کہاں گئی ساری انسانیت کے پاٹھ پڑھانے والے یہ بغاوت ان کی ہمیشہ سے رہی ہے، اور اس سے کیا بری حالت ہو سکتی ہے، ہم مسلموں میں وہ قوت بھی نہ بچی جو غیر مسلموں سے نظر ملا کے دو ٹوک انداز میں بات کر سکیں اور جیسے وہ چیلینج کرتے ہیں ان کا عملی جواب دے سکیں۔
جب کہ ہمیں علم، صنعت، معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، تجارت اور اجتماعی نظم میں اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کوئی قوم ہمیں معاشی یا سیاسی دباؤ کے ذریعے مرعوب نہ کرسکے، سامنے والا تلوار لائے تو ہم بندوق لے کر کھڑے ہوں، اور اگر وہ بندوق لائے تو ہم بم یا ایم بم سے مقابلہ کریں، غرض کہ سامنے والے کی جو تیاری ہو ہم اس سے سو گنا زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوں، جب کہ پہلے ہم ایسے کی تھے تب ہی تو اپنے زمانے کے سوپر پاور قیصرروم اور کسرہ کو شکست دی اور ہماری حکومت بنگلہ دیش سے مراکش تک رہی لہذا پھر سے ہمیں اپنی بساط کو وسیع ومستحکم بنانا ہوگا، اب پیر کو چادر سے باہر نہیں نکالیں گے بلکہ چادر ہی بڑی لیں گے ۔
اگر کفار ہم مسلمانوں سے خریداری نہیں کرنا چاہتے تو پھر ہم کون سا مجبور ہیں اپنے لوگوں سے ہی بیع کریں، کیوں کہ مسلم جو کسب معاش کریں گے اس کی زکوٰۃ و صدقات نکالیں گے اور کفار و مشرکین اپنے کمائے ہوئے پیسے سے شراب نوشی کریں گے، تو کیوں کسی کے گناہ کا باعث بنیں، اسی لیے ہر تاجروں کو بھی چاہیے کہ اپنے سامان کی قیمت میں میانہ روی اختیار کریں، کم منافع لیں گے تو زیادہ گاہک آئے گا جس سے زیادہ منفعت ہوگی، اپنے آپ کو مالی جہت سے اس قدر استوار کریں کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کی ضرورت نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ سیدی مرشدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمہ نے اپنا رسالہ " تدبیر فلاح و نجات و اصلاح" کو جب خلافت عثمانیہ کے زوال و انہدام کا وقت قریب آیا ایسے وقت میں مسلمانوں کو کیا کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے انقلابی پیغام عام کیا مگر خواب غفلت میں پڑے مسلمان کو کیا خبر کہ کیا کہا مفصلا جواب دیے ہیں، رقمطراز ہیں
" ثانیاً اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدتے کہ گھر کا نفع گھر ہی میں رہتا، اپنی حرفت و تجارت کو ترقی دیتے کر کسی چیز میں کسی دوسری قوم کے محتاج نہ رہتے، یہ نہ ہوتا کہ یورپ و امریکہ والے چھٹانک بھر تانبا کچھ صناعی کی گھڑنت کرکے گھڑی وغیرہ نام رکھ کر آپ کو دے جائیں اور اس کے بدلے پاؤ بھر چاندی آپ سے لے جائیں"
مذکورہ بالا پیراگراف ہماری ضمیر کو جگانے کے لیے کافی ہونی چاہیے کیوں کہ یہی حکمت عملی ہر ترقی یافتہ ممالک اپنائی اور وہ غیر متزلزل ہوئی، خواہ جاپان، چین، جرمن، امریکہ ہو غرض کہ جتنے بھی ممالک ہیں ہر ایک اپنے دیسی چیزوں کو دیگر ممالک کے پروڈکشن پر فوقیت دیا۔
افسوس کا مقام ہے کہ یہی کفایت شعاری ہمارے مقتدر اسلاف کے تھے، جن میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کا نام سر فہرست ہے جنھوں نے مدینہ منورہ میں بازار کا زبردست نظم و ضبط بنایا جہاں سے ہر قسم کے سامان کی آمد و رفت کی جاتی تھی اور رعایا کو بنفس نفیس فائدہ ہوتا تھا، مگر ہم نے اپنی تاریخ کو فراموش کر دیا اور حد تو یہ ہے کہ نہ کوئی اسے پڑھنا سنا چاہتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر جگہ ہمیں ہزیمت مل رہی ہے، خدارا اپنے ضمیر میں عنفوان شباب پیدا کریں، اور حیدری جزبہ کو ظاہر کریں اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، غیبی امداد کے بھروسے نہ بیٹھیں کیا پتہ رب قدیر خود چاہتا ہو کہ تم لڑو میں غلبہ عطا کروں گا۔
جاری................
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "امت مسلمہ کی معاشی بیداری کا وقت | محمد کونین صدیقی مصباحی "
Post a Comment