مذہبی معاملات اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں | محمد کونین صدیقی مصباحی
Wednesday, 19 August 2026
Add Comment
مذہبی معاملات اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں
از قلم: محمد کونین صدیقی مصباحی
سیاسی نقطۂ نظر سے جو ہماری وراثت تھی جس کے بارے معلم انسانیت ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے سارے انبیا سیاسی تھے، مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہم کو ان کا سیاسی نمائندہ ہونا چاہیے تھا اس معاملے میں اس قدر پس پشت ہیں جس کا جواب نہیں، جس کا ثمرہ دھیرے دھیرے ہماری ساری وراثت و ریاستوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، خواہ مسجد بابری، این-آر-سی، سی-اے-اے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عرض کہ اس طرح کے جتنے معاملات ہیں سب پر ہمیں دوسرے فریق کے ماہر قانونی نمائندے اپنے قانونی و آئینی وسائل کو پوری قوت سے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم نے ان میدانوں میں مطلوبہ تیاری مذہبی لحاظ سے نہیں کی۔
حال ہی میں وقف بیل کا مدعا ہو بہت سے ایسے مسائل ہیں جہاں ہمیں ہزیمت مل رہی ہے، کہاں ہیں مسلم سوسائٹی کے اتنے سارے اسکول میں اعلیٰ دنیوی تعلیم یافتہ وکیل حضرات کہاں منھ چھپائے قلع بند ہیں کیا وہ مغز خالی، کور نظر نہیں دیکھتے کہ ہمارے مذہبی عقائد و نظریات پر سرعام ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور وہ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں کیا ان پر کچھ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، آپ وکیل حضرات دین کے اچھے ترجمان ہیں وکالت کی نہج پر امانت داری کے ساتھ بہترین کام کر سکتے ہیں ہمارے ہندوستان میں اتنے اعلیٰ پیمانے پر مسلم وکلا ہونے کے باوجود غیر مسلم وکیل "کپل سبل" (Kapil Sibal) بابری مسجد اور طلاق ثلاثہ جیسے اہم مقدمات لڑے اور ہار گئے ان کو کیا فرق پڑتا، اگر یہی کیس ان کی جگہ کوئی مسلم وکیل ہوتے تو جان نچھاور کر دیتے اور اس کو لڑنے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کرتا انھیں مدعوں کو دیکھتے ہوئے سیدی مرشدی حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا:
"اولاً باستثناء ان معدود باتوں کے جن میں حکومت کی دست اندازی ہو اپنے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے، اپنے سب مقدمات اپنے آپ فیصل کرتے، یہ کروڑوں روپے جو اسٹامپ و وکالت میں گھسے جاتے ہیں گھر کے گھر تباہ ہو گئے اور ہوئے جاتے ہیں محفوظ رہتے۔"
کتنی اچھی ترغیب دی گئی ہے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ اپنے معاملات و مقدمات کی پاسداری کریں، مگر خیر کی باتیں کن کو پسند سوائے کڑواہٹ کے، کچھ کرنے کے لیے سوچنے سے پہلے الٹا آواز اٹھانے والوں کو ہی دبا دیا جاتا ہے، انھیں پر بے سر و پا اعتراض عائد کرتے ہیں۔
اور اگر ذہن کے دریچے میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہو کہ اتنا ضروری ہے تو آپ مولانا لوگ خود کیوں اس امر کا ارتکاب نہیں کرتے، تو آپ کے اس وہم کے ازالے کے لیے میں اپنے پرنسپل صاحب کا قول بتا دوں، جامع معقولات و منقولات بدر الفقہا مفتی بدر عالم مصباحی صاحب جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دورے میں تھے تو انھوں نے اسی طرح سوال کا بہترین جواب دیا کہ
"یہ تو وہی بات ہو گئی کہ آپ کسی کپڑے کی دکان میں جائیں اور ان سے سبزیوں کا مطالبہ کریں"
یعنی کپڑے کی دکان میں صرف کپڑا ملتا ہے، یوں ہی چپل، پرفیوم، سبزی اور کاسمیٹک میں جنرل چیزیں ملتی ہیں غرض کہ جتنی ضروریات کی اشیا ہیں ہر ایک کی منفرد اور متفاوت جنرل اسٹور ہیں، ایک ہی دکان میں ساری حاجتوں کا متلاشی ہونا حماقت پسندی ہے، یوں ہی ایک مولانا جو دین کا رہبر ہے ان سے آپ کے سارے توقعات حد سے بڑھ کر ہے تو یہ بے وقوفی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کو اپنے اپنے میدان کے ماہر افراد تیار کرنے اور اپنے اجتماعی، قانونی و ملی معاملات میں سنجیدہ کردار ادا کرنے کی خلوص و للہیت کے ساتھ پائے تکمیل پہنچائے، اس بات کی ضرورت ہے۔
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "مذہبی معاملات اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں | محمد کونین صدیقی مصباحی"
Post a Comment