میلادِ مصطفیٰ ﷺ کہاں سے ثابت ہے؟
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کہاں سے ثابت ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
اللہ پاک نے ہم پر بےشمار احسانات اور انعامات ہیں انہیں میں سے ایک عظیم نعمت حضور ﷺ ہیں۔ اور نعمت کے ملنے پر چرچہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت پر خوشی منانا قرآن پاک سے ثابت ہے۔ اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانا بھی شکرِ خدا اور حکمِ قرآنی پر عمل ہے۔ خود درکارِ دوعالم ﷺ نے پیر شریف کو روزہ رکھ کر میلاد منایا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مجلس میں حضور ﷺ کے اوصافِ جمیلہ و اخلاقِ جمیلہ کا ذکر کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے۔ اور علمائے کرام نے محفلِ میلاد النبی ﷺ کے فوائد و منافع بیان فرمائے ہیں اور باضابطہ کتابیں تحریر فرمائی ہیں، تجربہ کیا گیا ہے کہ محفل میلاد کی بدولت تمام سال خیرو برکت وسلامت و عافیت، رزق میں فراخی، مال ودولت میں زیادتی، شہروں میں امن و امان اور گھروں میں چین وسکون حاصل ہوتا ہے۔
اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں لہذا اسے منانا حرام ہے تو ہم کہیں گے کہ قرآن وحدیث سے جس چیز کی بھلائی یا برائی ثابت ہو وہ بھلی یا بری ہے اور جس کی نسبت کچھ ثبوت نہ ہو وہ معاف وجائز ومباح وروا ہے، کیوں کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے یعنی جب تک دلائل شرعیہ سے کسی شے کی حرمت و ممانعت ثابت نہ ہو،حلال وجائز رہتی ہے،استعمال کرنے والے پر شرعاً کوئی گرفت نہیں کہ وہ معاف ہے۔ اس کو حرام و گناہ ونادرست وممنوع کہنا شریعتِ مطہرہ پر افتراء ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ”محفلِ میلاد النبی ﷺ حضور ﷺ کے دور میں نہیں تھا لہذا بدعت ہوا اور حدیث پاک میں ہے:كل بدعة ضلالة“ تو ہم کہیں گے کہ یہاں بدعت سے بدعت سیئہ ہے یعنی وہ بدعت جو سنت کو مٹانے والی ہو کہ بدعت کی ابتداءً دو بنیادی قسمیں ہیں ایک بدعت حسنہ اور دوسری بدعت سیئہ، اور محفلِ میلاد النبی ﷺ پہلی قسم یعنی بدعت حسنہ میں داخل ہے۔
لہذا ذکرِ ولادتِ باسعادت، ومعراج وہجرت، ونزولِ وحی دحصولِ مرتبۂ رسالت ونبوت حضور کے اِرہاص ومعجزات، وخصائص وکمالات، واَخلاق وعادات، وحسنِ صورت وسیرت، وفضائل وعظمت بیان کرنا، اور اِن اَذکار شریفہ ومَحامِد جلیلہ کو کمالِ رغبت وشوق کے ساتھ بکثرت وبار بار سننا سنانا، اور ایسی مجلس میں بطلب وبلا طلب حاضر ہونا، اور اُس سے دل کا سرور، جگر کی ٹھنڈک، جان کا آرام، آنکھوں کا نور حاصل کرنا، سب کمالِ ایمان ومحبتِ سرورِ دو جہان ﷺ کا مقتضی ہے۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانے کے ثبوت کے متعلق قرآن وحدیث اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں ایسی دلائلِ قاطعہ اور براہینِ ساطعہ بیان کریں گے جن سے محفلِ میلاد النبی ﷺ منانا روزِ روشن کے مانند ظاہر وباہر ہو جائے گا۔ (أقول وبالله التوفيق)
یاد رہے! اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک میلاد شریف منانا فقط ایک مستحب اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے، شرعاً واجب و ضروری نہیں، تو پھر قرآن و سنت سے اس کے وجوب کی دلیل کا مطالبہ کرنا، بلا جواز اور علمی اعتبار سے درست نہیں۔ ہم فقط میلاد النبی ﷺ کے ثبوت کو ثابت کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے عظیم احسان فرمایا کہ ہمیں اپنا سب سے عظیم رسول عطا فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ (القرآن المجید، سورۃ آل عمران، آیت:164)
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ (القرآن المجید، سورۃ الانبیاء، آیت:107)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:’’عالَم ماسوائے اللہ کو کہتے ہیں جس میں انبیاء وملائکہ سب داخل ہیں۔ تو لاجَرم (یعنی لازمی طور پر) حضور پُر نور، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان سب پر رحمت و نعمت ِربُّ الارباب ہوئے، اور وہ سب حضور کی سرکارِ عالی مدار سے بہرہ مند وفیضیاب۔ اسی لئے اولیائے کاملین وعلمائے عاملین تصریحیں فرماتے ہیں کہ ’’ازل سے ابد تک، ارض وسماء میں، اُولیٰ وآخرت میں، دین ودنیا میں، روح وجسم میں، چھوٹی یا بڑی، بہت یا تھوڑی، جو نعمت و دولت کسی کو ملی یا اب ملتی ہے یا آئندہ ملے گی سب حضور کی بارگاہ ِجہاں پناہ سے بٹی اور بٹتی ہے اور ہمیشہ بٹے گی۔“ (فتاوی رضویہ، رسالہ: تجلی الیقین، جلد:30، صفحہ:141،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
اور فرماتا ہے:”﴿وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ (القرآن المجید، سورۃ الانفال، آیت:33)
اور فرماتا ہے:”﴿لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔ (القرآن المجید، سورۃ التوبة، آیت:128)
اس آیتِ کریمہ میں سیِّد عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری یعنی آپ کے میلادِ مبارک کا بیان ہے۔ ترمذی کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی پیدائش کا بیان قیام کرکے فرمایا۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، 96 -باب، 5 / 314، الحدیث: 3543) اس سے معلوم ہوا کہ محفلِ میلاد مبارک کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ (صراط الجنان، سورۃ التوبة، تحت الآیة: 128)
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا اور چرچے کرنا نہایت پسندیدہ عمل ہے، چنان اللہ پاک نے نعمتوں کا چرچا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا:”﴿وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (القرآن المجید، سورۃ الضّحیٰ، آیت:11)
اللہ پاک کے فضل اور رحمت پر خوشی کرنے کا حکم ہے، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:”﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔ (القرآن المجید، سورۃ یونس، آیت:58)
بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کی، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:”التحدث بنعمة الله شكر، وتركها كفر.“ یعنی اللہ عزوجل کی نعمت کو بیان کرنا شکر ہے اور اُس کا ترک کفر ہے۔ (شعب الإيمان، باب في رد السلام، رقم:9119، 6/ 3021 بتغير)
نبی کریم ﷺ نے ہر پیر کے دن روزہ رکھ کر بھی اپنا میلاد منایا، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:حضرت ابو قتادہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:”سئل رسول الله عن صوم الاثنين فقال فيه ولدت وفيه أنزل علي.“ یعنی رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو جواباً ارشاد فرمایا:اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ (مسلم شریف، جلد:1، صفحہ:365)
حضور ﷺ کا صحابہ کرام کی موجودگی میں اپنی ولادت، نسب اور اپنے کمالات کا تذکرہ کرنا ثابت ہے، چنانچہ ”ترمذی شریف“ میں ہے:”عن المطلب بن أبي وداعة قال جاء العباس الى رسول الله صلى الله تعالى عليه و سلم فكأنه سمع شيئا فقام النبي صلى الله تعالى عليه و سلم على المنبر فقال: من أنا فقالوا أنت رسول الله عليك السلام، قال: أنا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب، ان الله خلق الخلق فجعلني في خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خيرهم فرقة ثم جعلهم قبائل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعلهم بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا وخيرهم نفسا“ یعنی حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، تو شاید سرکارِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے نسب کے بارے میں کوئی بات سنی تھی، چنانچہ سرکارِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منبرِ شریف پر جلوہ گر ہوئے اور ارشاد فرمایا: میں کون ہوں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: آپ اللہ عزوجل کے رسول ہیں، آپ پر سلام ہو۔ فرمایا: میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، بے شک اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور ان میں اچھوں میں مجھے رکھا، پھر ان اچھوں کی دو جماعتیں کیں، تو مجھے ان میں سے اچھی جماعت میں بنایا، پھر ان اچھوں کے کئی قبیلے کیے، تو مجھے اچھے قبیلے میں بنایا، پھر ان اچھوں کے گھر بنائے، تو مجھے اچھے گھر والوں میں اور اچھے نفس والوں میں بنایا۔"(ترمذی شریف، جلد: 2، صفحہ: 201)
صحابہ کرام کا مجلس میں جمع ہو کر انبیائے کرام کے فضائل ذکر کرنا، اور حضورِ والا کا مجلسِ صحابہ میں اپنے مَحامدِ جلیلہ و فضائلِ فخیمہ بیان فرمانا حدیث شریف سے ثابت ہے، چنانچہ حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے:”جلس ناس من أصحاب رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، فخرج حتى إذا دنا منهم سمعهم يتذاكرون قال بعضهم: إن الله اتخذ ابراهيم خليلا وقال آخر:موسى كلمه الله تكليما وقال آخر: فعيسى كلمة الله وروحه. وقال آخر: آدم اصطفاه الله فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: «قد سمعت كلامكم وعجبكم إن ابراهيم خليل الله وهو كذلك وموسى نجي الله وهو كذلك وآدم اصطفاه الله وهو كذلك ألا وأنا حبيب الله ولا فخر وأنا حامل لواء الحمد يوم القيامة تحته آدم فمن دونه ولا فخر وأنا أول شافع وأول مشفع يوم القيامة ولا فخر وأنا أول من يحرك حلق الجنة فيفتح الله لي فيدخلنيها ومعي فقراء المومنين ولا فخر وغانا أكرم الأولين والآخرين على الله ولا فخر».“ یعنی صحابہ کرام ایک مجلس میں جمع تھے، سید عالم ﷺ تشریف لائے، جب نزدیک آئے سنا کہ باہم انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا ذکر کر رہے ہیں، ایک نے کہا:اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا، دوسرے صاحب بولے کہ الله نے حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا ایک اور صاحب بولے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام الله کا کلمہ اس کی روح ہیں ایک دوسرے نے کہا آدم کو الله نے برگزیدہ کرلیا تب ان کے پاس رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ہم نے تمہاری گفتگو اور تمہارا تعجب کرنا سنا یقینًا ابراہیم الله کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام راز کی بات کرنے والے ہیں واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام الله کی روح اور کلمہ وہ ایسے ہی ہیں،آدم کو الله نے چن لیا واقعی وہ ایسے ہی ہیں مگر خیال رکھو کہ میں الله کا محبوب ہوں فخریہ نہیں کہتا قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میں ہی اٹھائے ہوں گا جس کے نیچے آدم اور ان کے سواء ہوں گے فخریہ نہیں کہتا میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا مقبول الشفاعت قیامت کے دن میں ہوں فخریہ نہیں کہتا میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کی زنجیر ہلائے گا تب الله کھولے گا پھر اس میں مجھے داخل کرے گا میرے ساتھ فقراء مسلمان ہوں گے فخریہ نہیں کہتا میں سارے اگلے پچھلوں میں الله پر زیادہ عزت والا ہوں فخریہ نہیں کہتا۔ (جامع الترمذي، كتاب المناقب، باب سلوا الله لي الوسيلة، الحديث:3616، صفحة:824)
یوں ہی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے بھی نبی کریم ﷺ کی ولادت کے تذکرے کے لیے جمع ہونا اور آپ ﷺ کو مبعوث فرما اللہ تعالیٰ نے جو ہم پر احسان عظیم فرمایا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور پھر نبی کریم ﷺ کا اس پر خوش ہونا اور ان کو خوشخبری سنانا ثابت ہے، چنانچہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے:”إن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم خرج على حلقة يعني من أصحابه فقال:ما أجلسكم قالوا:جلسنا ندعو الله ونحمده على ما هدانا لدينه ومن علينا بك، قال:أ لله ما أجلسكم إلا ذلك قالوا:ألله ما أجلسنا إلا ذلك، قال:أما أني لم أستخلفكم تهمة لكم وإنما أتانى جبرئيل عليه السلام فأخبرني أن الله عزوجل يباهي بكم الملائكة.“ یعنی بے شک نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کی ایک محفل میں تشریف لائے اور فرمایا:کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھایا ہے؟ انہوں نے عرض کی:ہم یہاں اسی لیے بیٹھے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں دین اسلام کی دولت عطا فرمائی ہے اور آپ کو بھیج کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے، اس کا ذکر کریں، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ کی اس پر حمد بجا لائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی قسم تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو؟ عرض کی:ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں، تو ارشاد فرمایا:میں نے تم سے اس لیے قسم نہیں لی کہ مجھے تم پر شک ہے، بلکہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے خبر دی کہ بے شک تمہارے اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرشتوں پر فخر فرما رہا ہے۔ (سنن النسائي، جلد:2، صفحة:310)
سرکارِ دوعالمــــــــــمﷺ کا اپنے ذکرِ جمیل کے لیے مجلس کرنا، اور حضرت حسان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے منبر رکھنا، اور اُن کا سرِ منبر کھڑے ہو کر حضور کے لیے مَحامد و مَناقب بیان کرنا، اور دشمنوں کو حضور کی طرف سے جواب دینا، اور شعرائے کفار کے مطاعِن حضور سے دفع کرنا، اور خود بدولت کا اُس مجلس میں تشریف رکھنا، اور قصائدِ حسّان کا سننا اور خوش ہونا، اور اُنہیں خدا کی عنایت اور جبریلِ امین کی تائید واِعانت کے ساتھ بشارت دینا، صراحت کے ساتھ مذکور ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع لحسان بن ثابت منبراً في المسجد يقوم عليه قائماً يفاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أو ينافح، ويقول رسول الله صلى الله عليه وسلم:«إن الله تعالى يؤيد حسان بروح القدس ما نافح أو فاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم».“ یعنی حضورﷺ حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے مسجدِ نبوی میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر حضور کی جانب سے مفاخَرت ومدافَعت کرتے، اور حضور فرماتے:بے شک اللہ تعالیٰ حساب کی مدد جبریل سے فرماتا ہے جب تک وہ رسولِ خدا ﷺ کی طرف سے مدافَعت یا مفاخَرت کرتا ہے۔ (المستدرك، كتاب معرفة الصحابة، ذكر مناقب حسان... إلخ، الحديث:6058، 6/ 2192)
”دلائل الخیرات“ میں ہے:”ووي عن بعض الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين أنه قال:«ما من مجلس يصلي فيه على محمد صلى الله تعالى عليه وسلم إلا قامت منه رائحة طيبة حتى تبلغ عنان السماء، فتقول الملائكة:هذا مجلس صلى فيه على محمد صلى الله تعالى عليه وسلم».“ یعنی بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے، فرمایا:جس مجلس میں محمد ﷺ پر درود پڑھا جاتا ہے اُس سے خشبو کی مہک اُٹھ کر آسمان تک پہنچتی ہے، فرشتے اُس خوشبو کو پہچان کر کہتے ہیں:یہ وہ مجلد ہے جس میں محمد ﷺ پر درود بھیجی گئی۔ (دلائل الخيرات، فضائل الصلاة، صفحة:22)
نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی میں ابو لہب نے اپنی لونڈی "ثوبیہ" کو آزاد کیا، تو اس کو بھی اس کی وجہ سے فائدہ پہنچا، چنانچہ یہ مشہور واقعہ ”بخاری شریف“ میں اس طرح ہے:”فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله بشر حيبة، قال له:ماذا لقيت قال أبو لهب:لم ألق بعدكم غير أني سقيت في هذه يعاتقني ثوبية.“ یعنی جب ابو لہب مر گیا، تو اس کے بعض گھر والوں نے اسے خواب میں برے حال میں دیکھا، پوچھا گیا کیا گزری؟ ابو لہب بولا تم سے جدا ہو کر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوئی، ہاں مجھے اس کلمے کی انگلی سے پانی ملتا ہے، کیونکہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔ (صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب وأمهاتكم اللاتى ارضعنكم، الحديث:5101، جلد:3، صفحة:432)
اس موقع پر خاتم المحققین حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:1052ھ) نے ایک بہت ہی فکر انگیز اور اور بصیرت افروز بات تحریر فرمائی ہے جو اہلِ محبت کے لیے نہایت ہی لذت بخش ہے، چنانچہ آپ لکھتے ہیں:”اس حدیث میں میلاد شریف پڑھواتے والوں کے لیے حجت ہے کہ حضور ﷺ کی ولادت کی رات میں خوشی ومسرت کا اظہار کریں اور خوب مال وزر خرچ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ باوجودیکہ ابو لہب کافر تھا اور اس کی مذمت قرآن کریم میں نازل ہو چکی ہے جب اس نے حضور کی میلاد کی خوشی کی اور اس نے اپنی باندی کو دودھ پلانے کی خاطر آزاد کر دیا۔ تو حضور ﷺ کی طرف سے حق تعالیٰ نے اسے اس کا بدلہ عنایت فرمایا۔ (مدارج النبوت، قسمِ دوم باب اول، ذکر نسب و حمل ولادت، جلد:2، صفحہ:35)
آپ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ اپنی دوسری کتاب ”ما ثبت بالسنة“ میں لکھتے ہیں:”قال ابن الجزري:فإذا كان هذا أبو لهب الكافر، الذي نزل القرآن بذمه جوزي في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلى الله عليه وسلم به، فما حال المسلم من أمته يسر بمولده، ويبذل ما تصل إليه قدرته في محبته صلى الله عليه وسلم، لعمري إنما كان جزاؤه من الله الكريم أن يدخله بفضله العميم جنات النعيم.“ (ما ثبت بالسنة في أيام السنة، شهر ربيع الأول، صفحة:107، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
امام حافظ ابو الخير محمد بن محمد بن الجزري رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:833ھ) لکھتے ہیں:”وكان مولده ﷺ بالشعب، وهو مكان معروف متواتر عند أهل مكة، يخرج أهل مكة كل عام يوم المولد ويحتفلون بذلك أعظم من احتفالهم بيوم العيد وذالك إلى يومنا هذا. وقد زرته وتبركت به عام حجتي سنة اثنين وتسعين وسبعمائة، ورأيته من بركته عظيماً، ثم كررت زيارته في مجاورتي سنة ثلاث وعشرين وثمانمائة، وكان قد تهدم فرممته، وقرىء علي كتابي:التعريف بالمولد الشريف علي وسمعه خلقٌ لا يحصَون، وكان يوماً مشهوداً.“ (عرف التعريف بالمولد الشريف، مكان ولادته ﷺ وبركته، صفحة:23)
شارحِ بخاری شہابُ الدّین ابوالعباس حضرت سیّدُنا امام احمد بن محمد قسطلانی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:923ھ) لکھتے ہیں:”ربیعُ الاوّل چونکہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادتِ باسعادت کا مہینا ہے لہٰذا اس میں تمام اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کی راتوں میں صدقات اور اچّھے اعمال میں کثرت کرتے ہیں۔ خصوصاً ان محافل میں آپ کی میلاد کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرتے ہیں۔ محفلِ میلاد کی یہ برکت مجرّب ہے کہ اس کی وجہ سے یہ سال امن کے ساتھ گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی پر اپنا فضل و احسان کرے جس نے آپ کے میلاد مبارَک کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدّت کی جس کے دل میں مرض ہے۔‘‘ (المواھب اللدنیہ، 1/27)
امام محمد بن یوسف الصالحي الشامى رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفى:942ھ) لکھتے ہیں:”قال الحافظ أبو الخير السخاوى رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ في فتاويه:لا زال أهل الإسلام في سائر الأقطار والمدن الكبار يحتفلون في شهر مولده صلى الله عليه وسلم بعمل الولائم البديعة المشتملة على الأمور البهجة الرفيعة ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور ويزيدون في المبرات ويعتنون بقراءة مولده الكريم ويظهر عليهم من بركاته كل فصل عميم.“ (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، الباب الثالث عشر في أقوال العلماء في عمل المولد الشريف... إلخ، الجزء الأول، صفحة:439، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
”امام حافظ شیخ القراء ابو الخیر بن الجزری“ فرماتے ہیں:”من خواصه أنه أمان في ذلك العام وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام.“ یعنی اس مجلس شریف کے خواص سے ہے کہ وہ تمام سال کے لیے امن وامان ہے اور حصولِ مقصد کے ساتھ بشارتِ عاجلہ ہے۔ (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، الباب الثالث عشر في أقوال العلماء في عمل المولد الشريف... إلخ، الجزء الأول، صفحة:439، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ ابنِ ظفر رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ ”در منظم“ میں فرماتے ہیں:”قد عمل المحبون للنبي صلى الله عليه وسلم فرحاً بمولده الولائم، فمن ذلك ما عمله بالقاهرة المعزية من الولائم الكبار الشيخ أبو الحسن المعروف بابن قفل قدس الله تعالى سره، شيخ شيخنا أبي عبد الله محمد بن النعمان، وعمل ذلك قبل جمال الدين العجمى الهمدانى وممن عمل ذلك على قدر وسعه يوسف الحجار بمصر وقد رأي النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحرض يوسف المذكور على عمل ذلك.“ یعنی میلادِ مبارک کی شادی میں محبانِ رسول اللہ ﷺ نے ولیمے کیے، از انجملہ قاہرہ کے بڑے ولیموں میں سے وہ ولیلہ ہے جو ہمارے استاذ ابو عبد اللہ محمد بن نعمان کے استاذ شیخ ابو الحسن بن قفل قدس سرہ نے کیا، اور ان سے پہلے جمال الدین عجمی ہمدانی نے کیا، اور یوسف حجّار نے مصر میں بقدرِ اپنی وسعت کے ترتیب دیا، اور رسول اللہ ﷺ نے خواب میں اُنہیں اس عملِ مبارک کی ترغیب وتحریص فرمائی۔ (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، الباب الثالث عشر في أقوال العلماء في عمل المولد الشريف... إلخ، الجزء الأول، صفحة:440، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
امام ابنِ جوزی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”لم يكن في ذلك إلا إرغام الشيطان وإدعام أهل الإيمان.“ یعنی اس فعل میں تذلیلِ شیطان وتقویتِ اہلِ ایمان کے سوا کچھ نہیں۔ (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، الباب الثالث عشر في أقوال العلماء في عمل المولد الشريف... إلخ، الجزء الأول، صفحة:440، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
شیخ جمال الدین بن عبد الرحمٰن بن عبد الملک کتانی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”مولد رسول الله صلى الله عليه وسلم مبجل مكرم، قدس يوم ولادته وشرف وعظم، وكان وجوده صلى الله عليه وسلم مبدأ سبب النجاة لمن اتبعه وتقليل حظ جهنم لمن أعد لها لفرحه بولادته صلى الله عليه وسلم.“ یعنی حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کا دن نہایت ہی معظّم، مقدّس اور محترم و مبارَک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پاک اتّباع کرنے والے کے لئے ذریعۂ نجات ہے جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنے آپ کو جہنّم سے محفوظ کرلیا۔ لہٰذا ایسے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا اور حسبِ توفیق خرچ کرنا نہایت مناسب ہے۔ (سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، الباب الثالث عشر في أقوال العلماء في عمل المولد الشريف... إلخ، الجزء الأول، صفحة:441، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ شیخ علی بن سلطان محمد قاری رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1014ھ) لکھتے ہیں:”مجھے بعض اہلِ نقد وتحریر نے بتایا ہے کہ اہلِ ہند تو اس معاملے میں دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ آگے ہیں۔ باقی رہا دیگر عجم والوں کا معاملہ، تو میں کہتا ہوں کہ جب یہ مبارک مہینہ (ربیع الاوّل) آتا تو اہلِ عجم بھی اس میں بڑی بڑی مجالس ومحافل کا انعقاد کرتے تھے اور ہر عام وخاص کے لیے مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے، تلاوت کلام پاک ختم کیے جاتے، نیز دیگر اذکار کے ورد بھی جاری رہتے، عمدہ قصائد پڑھے جاتے اور مختلف خیر و بھلائی کے امور خوشی وسرور کے ساتھ سرانجام دیتے تھے حتیٰ کہ بعض عمر رسیدہ عورتیں چرخہ کات کر اس کی کمائی جمع کر کے اپنی بساط کے مطابق اکابر واعیان مشائخ وعلماء کرام کو جمع کر کے اُن کی دعوت وضیافت کا اہتمام کیا کرتیں اور شبِ میلاد کی تعظیم وتوقیر کے پیشِ نظر مشائخ کرام وعلماء عظام میں سے کوئی بھی محافلِ میلاد میں حاضر ہونے سے انکار نہ کرتا تھا بلکہ اس محفل کے انوار وسرور سے فیضیاب ہونے کی امید رکھتے ہوئے حاضر ہوتا تھا۔“ (المورد الروی فی المولد النبوی مترجم، صفحہ:28)
ایک اور مقام پر آپ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ لکھتے ہیں:” "اربل" کا بادشاہ "مظفر" انتہائی عنایات و اہتمامات کے ساتھ شایان شان طریقے پر محافلِ میلاد النبی ﷺ کا انعقاد کرتا تھا، اس کے بارے میں امام نووی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ کے شیخ، صاحبِ استقامت، امام ابو شامہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ نے اپنی کتاب (الباعث علی انکار البدع والحوادث) میں اس کی تعریف بیان کی ہے اور کہا ہے کہ محافل میلاد ایک عمدہ و مستحب کام ہے، لہذا اس کے کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے اور اس کام پر اس کی تعریف بیان کی جائے گی۔“ (المورد الروی فی المولد النبوی مترجم، صفحہ:32)
علامہ امام شیخ اسماعیل حقی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1137ھ) لکھتے ہیں:”ومن تعظيمه عمل المولد إذا لم يكن فيه منكر قال الإمام السيوطي قدس سره: يستحب لنا إظهار الشكر لمولده عليه السلام... وقد قال ابن حجر الهيتمي أن البدعة الحسنة متفق على ندبها وعمل المولد واجتماع الناس له كذلك أي بدعة حسنة... قال ابن الجوزي:من خواصه أنه أمان في ذلك العام.“ (تفسير روح البيان، الجزء 26، الفتح، تحت الآية:29، جلد:9 صفحة:56-57، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت، ملتقطاً)
شیخ الإسلام الحافظ أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفی:852ھ) لکھتے ہیں:”يستحب لنا أيضاً إظهار الشكر بمولده صلى الله تعالى عليه وسلم بالاجتماع وإطْعام الطعام ونحو ذلك من القربات وإظهار المسرات.“ (الحاوي للفتاوى، كتاب الصداق، ضمن رسالة حسن المقصد في عمل المولد، 1/ 230)
امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:911ھ) لکھتے ہیں:”وأما ما يعمل فيه فينبغي أن يقتصر فيه على ما يفهم الشكر لله تعالى من نحو ما تقدم ذكره من التلاوة، والإطْعام، والصدقة، وإنشاء شيء من المدائح النبوية والزهدية المحركة للقلوب إلى فعل الخير، والعمل للآخرة.“ (حسن المقصد في عمل المولد، صفحة:64، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ محمد یوسف بن اسماعيل نبہانی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1350ھ) لکھتے ہیں:”حضرت علامہ امام ابو شامہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ جو امام نووی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ کے استاذ ہیں وہ فرماتے ہیں ”ہمارے زمانے کی اچھی ایجادوں میں وہ افعال ہیں جو ہر سال میلاد النبی ﷺ کے موقع پر کیے جاتے ہیں یعنی صدقات، بھلائی کے کام، خوشی اور زینت کا اظہار۔“ اس میں فقراء پر احسان کرنے کے علاوہ اس بات کا بھی شعور ملتا ہے کہ میلاد کرنے والے کے دل میں نبی کریم ﷺ کی محبت اور تعظیم موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس شکریہ کو ادا کر رہا ہے جو اس نے رحمۃ للعالمین کو پیدا فرما کر ہم پر احسان فرمایا ہے۔ (حجة الله على العالمين في معجزات سيد المرسلين مترجم، فصل: میلاد النبی ﷺ کے منانے میں لوگوں کا اجماع، صفحہ:378، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور)
والدِ اعلیٰ حضرت، رئیس المتکلمین، علامہ مولانا نقی علی خان (المتوفی:1297ھ) لکھتے ہیں:”حقیقت اس کی یہ ہے کہ ایک شخص یا چند آدمی شریک ہو کر بخلوصِ عقیدت ومحبت حضرتِ رسالت علیہ الصلاۃ والتحیۃ ولادتِ اقدس کی خوشی، اور اس نعمتِ عظمٰی اعظم نعمِ الٰہیہ کے شکر میں ذکر شریف کے لیے مجلس منعقد کریں، اور حالاتِ ولادت باسعادت ورضاعت وکیفیتِ نزولِ وحی، وحصولِ مرتبۂ رسالت، واحوالِ معراج وہجرت، وارہاصات ومعجزات واخلاق وعاداتِ آنحضرتﷺ، اور حضور کی بڑائی اور عظمت کہ خدائے تعالٰی نے عنایت فرمائی، اور حضور کی تعظیم وتوقیر کی تاکید، اور وہ خاص معاملات وفضائل وکمالات جن سے حضرت اَحدیت جَلَّ جلالہٗ نے اپنے حبیب ﷺ کو مخصوص اور تمام مخلوق سے ممتاز فرمایا، اور اسی قسم کے حالات وواقعاتِ احادیث وآثارِ صحابہ و کتبِ معتبرہ سے مجمع میں بیان کئے جائیں، اور اَثنائے بیان میں کتاب خواں وواعظ درود پڑھتا جائے، اور سامعین وحاضرین بھی درود پڑھیں، بعد ازاں ما حضر تقسیم کریں، یہ سب امور مستحسن ومندوب ہیں، اور ان کی خوبی دلائلِ قاطعہ وبراہینِ ساطعہ سے ثابت۔“ (إذاقة الأثام لمانعي عمل المولد والقيام، صفحة:93، ناشر:ادارۂ اہلِ سنت، کراچی)
اعلی حضرت امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1340ھ) لکھتے ہیں:”ذکر حضورسیدالمحبوبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نورایمان وسرورجان ہے ان کا ذکر بعینہ ذکررحمن ہے۔قال تعالٰی:" وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ؕ" ( یعنی اے حبیب! ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیاہے۔) حدیث میں ہے:اس آیہ کریمہ کے نزول کے بعد سیدنا جبرائیل علیہ الصلٰوۃ والسلام حاضربارگاہ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہوئے اور عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے:اتدری کیف رفعت لک ذکرک۔ کیاتم جانتے ہو میں نے کیسے بلند کیا تمہارے لئے تمہارا ذکر۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرض کی:اﷲ اعلم(اﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔ت)ارشاد ہوا: جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنی۔ اے محبوب! میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یاد کیا کہ جس نے تمہارا ذکرکیا بیشک اس نے میرا ذکرکیا۔ اور ماہ ربیع الاول شریف اس کے لئے زیادہ مناسب، جیسے دورقرآن وختم قرآن کے لئے ماہ رمضان کہ اسی مہینے میں اترا، "شَهرُ رَمَضَانَ الّذى اُنزِلَ فیه القرآن" یعنی ماہ رمضان شریف وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں قرآن مجید اتارا گیا (ت)
یہاں اس عالم میں حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کارونق افروز ہونا ماہ ربیع الاول میں ہوا ولہٰذا حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم روزجان افروز دوشنبہ کو روزہ شکر کے لئے خاص فرماتے اور اس کی وجہ یوں ارشاد فرماتے کہ فیہ ولدت وفیہ انزل علیّ (یعنی اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر کتاب اُتری۔ یہ تخصیصات بوجہ مناسبات ہیں تو اُن پر طعن جہل ہے بلا مناسبت تخصیص کو تو فرمایا گیا صوم یوم السبت لالک ولا علیک یعنی روزہ کے لئے روزشنبہ کی تخصیص نہ تجھے نافع نہ مضر، تو مناسبات جلیلہ کے باعث تخصیص پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ہاں تخصیص بمعنی توقف کہ اوروں ہو ہی نہ سکے یابمعنی وجوب شرعی کہ اس دن ہونا شرعاً لازم اور دوسرے دن ناجائز ہوضرورباطل ہے مگروہ ہرگز کسی کے ذہن میں نہیں کوئی جاہل سا جاہل بھی ایسا خیال نہیں کرتا ولکن الوھابیۃ قوم لایعلمون (یعنی وہابی ایسے لوگ ہیں جوکچھ نہیں جانتے۔ت) یہی حال یازدہم ودوازدہم وتواریخ وصال محبوبان ذوالجلال کا ہے اور اوقات فاضلہ میں تکثیر اعمال صالحہ بلاشبہ مطلوب ومندوب ہے جس پر قرآن عظیم واحادیث کثیرہ ناطق ان من افضل ایامکم الجمعۃ فاکثروا فیھا من الصلٰوۃ علیّ (بلاشبہ تمہارے ہفتہ کے تمام دنوں میں سے سب سے افضل دن روزجمعہ ہے،لہٰذا اس دن سب دنوں سے زیادہ مجھ پر درودتشریف پڑھو۔ت) درودخوانی وتلاوت قرآن مجید واطعام طعام وصدقات ومبرات کی خوبیاں ضروریات دین سے ہیں محتاج بیان نہیں اور شیرینی کی تخصیص میں فوائد عدیدہ ہیں، ایک تو یہ کہ قلب المؤمن حلو یحب الحُلْوَ مسلمان کادل میٹھا ہے مٹھاس کو دوست رکھتاہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:23، صفحہ:753-754، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:1391ھ) لکھتے ہیں:”ربیع الاوّل بارہویں تاریخ حضور انور ﷺ کی ولادتِ پاک کی خوشی میں روزہ رکھنا ثواب ہے مگر بہتر ہے کہ دو روزے رکھیں اور اس مہینہ میں محفلِ میلاد شریف کرنے سے تمام سال گھر میں برکتیں اور ہر طرح کا امن رہتا ہے۔ (روح البیان زیرِ آیت محمد رسول اللہ) اس بات کا بہت تجربہ کیا گیا ہے اور گیارہویں، بارہویں تاریخوں کی درمیانی رات کو تمام رات جاگے، اس رات میں غسل کرے، نئے کپڑے بدلے، خوشبو لگائے، ولادتِ پاک کی خوشی کرے اور بالکل ٹھیک صبح صادق کے وقت قیام اور سلام کرے۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جو بھی نیک دعا مانگے قبول ہوگی، بہت ہی مجرب ہے اعتقاد شرط ہے۔ لادوا مریض اور بہت مصیبت زدوں پر آزمایا گیا درست پایا مگر قیام اور سلام کا وقت نہایت صحیح ہو۔ (اسلامی زندگی، صفحہ:132، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)
”شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ (المتوفی: 1406ھ) لکھتے ہیں:”جس مقدس مکان میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، تاریخ اسلام میں اس مقام کا نام ” مولد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم “ (نبی کی پیدائش کی جگہ ) ہے، یہ بہت ہی متبرک مقام ہے۔ سلاطین اسلام نے اس مبارک یادگار پر بہت ہی شاندار عمارت بنا دی تھی، جہاں اہل حرمین شریفین اور تمام دنیا سے آنے والے مسلمان دن رات محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب ”فیوض الحرمین“ میں تحریر فرمایا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس محفل میلاد شریف میں حاضر ہوا، جو مکہ مکرمہ میں بارہویں ربیع الاول کو ”مولد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم“ میں منعقد ہوئی تھی جس وقت ولادت کا ذکر پڑھا جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ یکبارگی اس مجلس سے کچھ انوار بلند ہوئے، میں نے ان انوار پر غور کیا تھا معلوم ہوا کہ وہ رحمتِ الہٰی اور ان فرشتوں کے انوار تھے جو ایسی محفلوں میں حاضر ہوا کرتے ہیں۔ (سیرتِ مصطفیٰ ﷺ، صفحہ:72-73، مطبوعہ مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)
علمائے متقدمین ومتأخرین نے خاص اس باب میں بہت رسائل تصنیف فرمائے، چنانچہ ”شیخ علمائے مکۂ معظمہ علامہ سید احمد زینی دحلان مکی قدس سرہ الملکی فرماتے ہیں:”وقد أفردت مسألة المولد وما يتعلق بها بالتأليف، واعتنى بذلك كثير من العلماء فألفوا في ذلك مصنفات مشينة بالأدلة والبراهين.“ یعنی مجلسِ میلادِ مبارک اور اس کے متعلقات کے بارے میں مستقل تالیفیں ہوئی ہیں، بکثرت علماء نے اس کی طرف کامل توجہ کی، اور دلائل وبراہیں سے لبریز تصنیفیں اس کے ثبوت میں لکھیں۔ (الدرر السنية في الرد على الوهابية، واجب تعظيم النبي ﷺ، صفحة:50)
جن باتوں کا ذکر قرآن وحدیث میں نہ نکلے وہ ہرگز منع نہیں بلکہ اللہ کی معافی ہیں کیونکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے یعنی جس امر کی شریعت میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح و جائز ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں توتمہیں بُری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھوگے کہ قرآن اُتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرما چکا ہے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔ (القرآن المجید، سورۃ المائدۃ، آیت:101)
ترمذی وابن ماجہ وحاکم سیدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی، حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں:”الحلال ما أحل اللہ في كتابه والحرام ما حرم اللہ في کتابه و ما سکت عنه فھو مما عفي عنه.‘‘ یعنی حلال وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرما دیا اور حرام وہ ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام فرما دیا اور جس پر خاموشی فرمائی وہ معاف ہے۔ (ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء، جلد:3، صفحة:280، الحدیث:1732)
فقہ کا قاعدہ ہے:”الأصل في الأشياء الإباحة“ یعنی اشیاء میں اصل جائز ومُباح ہونا ہے۔ (الأشباه والنظائر،صفحة:56، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت) یعنی جب تک دلائل شرعیہ سے کسی شے کی حرمت و ممانعت ثابت نہ ہو،حلال وجائز رہتی ہے،استعمال کرنے والے پر شرعاً کوئی گرفت نہیں کہ وہ معاف ہے۔
رہا میلاد النبی ﷺ کے عدمِ جواز پر "کل بدعة ضلالة" والی حدیث پیش کرنا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بدعت کی ابتداءً دو قسمیں ہیں:بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعتِ حسنہ وہ نیا کام ہے، جو کسی سنّت کے خلاف نہ ہو جیسے مَوْلِد شریف کے موقع پر محافلِ میلاد، جلوس،سالانہ قراءَت کی محافل کے پروگرام، ختم بخاری کی محافل وغیرہ۔بدعتِ سیّئہ وہ ہے جو کسی سنّت کے خلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہوجیسے غیرِ عربی میں خُطبۂ جُمعہ و عیدین۔
نئی اور اچھی چیز ایجاد کرنے والے کو تو ثواب کی بشارت ہے۔چنانچہ مسلم شریف میں ہے: ”مَنْ سَنَّ في الإسلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أجْرُهَا، وَأجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيرِ أنْ يَّنْقُصَ مِنْ أُجُورهمْ شَيءٌ، وَمَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيهِ وِزْرُهَا، وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْم بَعْدِهِ، مِنْ غَيرِ أنْ يَّنْقُصَ مِنْ أوْزَارِهمْ شَيءٌ.‘‘ یعنی جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے تمام کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا اور ا ن کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اور جو شخص اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے گناہ ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی گناہ ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔ (مسلم، صفحہ: 394، الحدیث:1017)
بری بدعت کے متعلق ”حدیث پاک“ میں ہے:”عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهدى هدى محمد، وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة.“ یعنی روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حمد و صلوۃ کے بعد یقینًا بہترین بات الله کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمدمصطفےٰ کا طریقہ ہے اور بدترین چیز دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (مشكوة المصابيح، كتاب الإيمان، باب الإعتصام بالكتاب والسنة، الفصل الأول، صفحة:27، الحديث:141، مطبوعہ مجلس البركات، الهند)
اس حدیث پاک کی شرح میں ”علامہ شیخ علی بن سلطان محمد قاری رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ لکھتے ہیں:”قَالَ النَّووی البِدعة کلّ شیئٍ عمل علی غیر مثال سبق، وفی الشرع إحدَاثُ ما لم یَکنْ فی عھدِ رسولِ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالی علیہ وسلَّم وقوله کُلُّ بِدْعَة ضَلَالَة عامٌ مخصوصٌ قال الشیخُ عزّالدین بن عبد السلام فِی آخرِ ’’کتابِ القواعد‘‘ اَلبدعَة إِمّا وَاجبة کتعلّمِ النحوِ لِفَھم کلام الله ورسولِه وکتدویْنِ أُصُولِ الْفقة والکَلام فِی الجَرح والتَّعدیلِ وَإِمّا محرَّمة کمذهب الجبریَّة والقَدریَّة وَالمرجئیَّة والمجسِّمة والردُّ علی ھؤلاء من البِدَعِ الواجبة لأنَّ حفظَ الشَّریْعة مِن ھذہ البِدَعِ فرضُ کفایة وَإِمَّا مَندُوبَة کَإِحْدَاث الربطِ والمدارسِ وکلّ احسان لَمْ یَعْھَد فِی الصَّدر الْأوَّل وَکالتَّرَاویح أَیْ بِالجَمَاعَة الْعَامَّة والکلامِ فِی دقائق الصوفیَّة۔ وَإِمَّا مَکْرُوْھَة کَزَخرَفة المَسَاجدِ وتزویق المصاحفِ یعنی عند الشافعیَّة وإما عِندَ الحنفیَّة فمباحٌ وَإِمَّا مُبَاحَة کَالمُصَافَحَة عَقیبَ الصُّبْح وَالْعصرِأَیْ عندَ الشَافعِیَّة أَیضاً وَإِلَّا فَعِند الحَنفِیَّة مکروہ وَالتَّوسعُ فِی لذَائذِ المآکلِ وَالمشارِبِ وَالمَسَاکِینِ وَتوسِیع الأَکمَامِ وَقَدْ اختلف فِی کراھَة بعض ذلک أَیْ کَمَا قَدَّمْنا قَالَ الشَّافعی رحمه الله ما أحدث ممَّا یخَالفُ الکتاب أَوِالسنَّۃ أَوِالأثر أَوِالاجْمَاع فھو ضَلالة وَمَا أحدَثَ من الخیر ممَّا لَایخالف شیئاً مِنْ ذَلِکَ فَلیس بمذمومٍ.“ یعنی امام نووی رحمة الله علیه نے فرمایا کہ ایسا کام جس کی مثال زمانہ سابق میں نہ ہو ( لغت میں) اس کو بدعت کہتے ہیں۔ اور شرع میں بدعت یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کا ایجاد کرنا جو رسول ﷺ وسلم کے ظاہری زمانہ میں نہ تھی۔ اور حضور ﷺ کا قول ’’کُلُّ بِدْعَة ضَلَالَة‘‘ عام مخصوص ہے۔ (یعنی بدعت سے مراد بدعت سیّئہ ہے) حضرت شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے ’’کتاب القواعد‘‘ کے آخر میں فرمایا کہ بدعت یا تو واجب ہے جیسے الله اور اس کے رسول کے کلام کو سمجھنے کے لیے علمِ نحو سیکھنا اور جیسے اصولِ فقہ اور اسماء الرجال کے فن کو مرتب کرنا۔ اور بدعت یا تو حرام ہے جیسے جبریہ، قدریہ، مرجئہ اور مجسمہ کا مذہب، اور ان بدمذہبوں کا رد کرنا بدعتِ واجبہ سے ہے اس لیے کہ ان کے عقائدِ باطلہ سے شریعت کی حفاظت فرض کفایہ ہے اور بدعت یا تو مستحب ہے جیسے مسافر خانوں اور مدرسوں کی تعمیر اور ہر وہ نیک کام جس کا رواج ابتدائی زمانہ میں نہیں تھا اور جماعت کے ساتھ تراویح اور صوفیائے کرام کے دقیق اور باریک مسائل میں گفتگو۔ اور بدعت یا تو مکروہ ہے جیسے شافعیہ کے نزدیک قرآن مجید کی تزئین اور مساجدکا نقش و نگار اور یہ حنفیہ کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے۔ اور بدعت یا تو مباح ہے جیسے شافعیہ کے نزدیک صبح اور عصر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا ورنہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے (تحقیق یہ ہے کہ بلا کراہت جائز ہے اسی کتاب میں مصافحہ کا بیان دیکھیے) اور لذیذ کھانے پینے اور رہنے کی جگہوں میں کشادگی اختیارکرنا اور کُرتے کی آستینوں کو لمبی رکھنا۔ اس میں سے بعض کی کراہت میں لوگوں نے اختلاف کیاہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا امام شافعی رحمة الله تعالیٰ علیه نے فرمایا کہ ایسی چیز ایجاد کرنا جو قرآن مجید، حدیث شریف، آثارِ صحابہ یا اجماع کے خلاف ہو تو وہ گمراہی ہے اور ایسی اچھی بات ایجاد کرنا جو ان میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہ بری نہیں ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب الإيمان، باب الإعتصام بالكتاب والسنة، الفصل الأول، الجزء الأول، صفحة:337-338، تحت الحديث:141، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی بخاری رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ اسی حدیث شريف کی شرح میں فرماتے ہیں:”بدانکہ ہر چہ پیدا شدہ بعد از پیغمبر صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بدعت ست ازانچہ موافق اصول وقواعد سنت اوست وقیاس کردہ شدہ برآں آں را بدعت حسنہ گویند۔ وآنچہ مخالف آں باشد بدعتِ ضلالت گویند وکلیت’’کُلُّ بِدْعَة ضَلَالَةٌ‘‘ محمول بر این ست۔“ یعنی جاننا چاہیے کہ وہ چیز جو حضورصَلَّی الله تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِه وَسَلَّمَ کے ظاہری زمانہ کے بعد ہوئی بدعت ہے۔ لیکن ان میں سے جو کچھ حضور کی سنت کے اصول و قواعد کے مطابق ہے اور اسی پر قیاس کیا گیا ہے اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں اور ان میں جو چیز سنت کے مخالف ہو اسے بدعت ضلالت کہتے ہیں اور ’’کُلُّ بِدْعَة ضَلالَةٌ‘‘ (ہر بدعت گمراہی ہے) کی کلیت بدعت کی اسی قسم پر محمول ہے یعنی ہر بدعت سے مراد صرف وہی بدعت ہے جو سنت نبوی کی مخالف ہو۔ (أشعة اللمعات، کتاب الإیمان، باب الاعتصام با لکتاب والسنة، جلد:1، صفحة:135)
شيخ محمد طاهر الصديقي الهندي الفتني رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (المتوفی:986ھ) لکھتے ہیں :”البدعة نوعان:بدعة هدى وبدعة ضلالة، فمن الأول ما كان تحت عموم ما ندب إليه الشارع وخص عليه، فلا يذم لوعد الأجر عليه بحديث:«من سن سنة حسنة».“ (مجمع بحار الأنوار في غرائب التنزيل ولطائف الأخبار، جلد:1 صفحة:148)
ان تمام شواہد سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ میلاد النبی ﷺ منانا بلا شبہ جائز ومستحسن ہے۔ اللہ پاک ہمیں حضورﷺ سے سچی پکی محبت عطا فرمائے اور شریعت میں رہتے ہوئے محفلِ میلاد منانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

0 Response to " میلادِ مصطفیٰ ﷺ کہاں سے ثابت ہے؟ "
Post a Comment