امام احمد رضا: علم و عشق کا ایسا آفتاب جس سے سنیت منور ہے | محمد کونین صدیقی مصباحی
Friday, 7 August 2026
Add Comment
امام احمد رضا: علم و عشق کا ایسا آفتاب جس سے سنیت منور ہے
دیوانۂ رضا: محمد کونین صدیقی مصباحی
ہر دور فتن میں علماے حق نے باطلوں کا قلع قمع کیا اسی طرح اِس زمانے میں علم و عرفان کے سرچشمہ، عقیدۂ حق کا مستحکم مرکز، سنیت کا کروفر، شریعت و طریقت کا پیکر وہ ذات ستودہ صفات جس نے 105 سے زائد علوم و فنون پر تبحر حاصل کرکے سینکڑوں رسائل میں علمی کارناموں کو سپرد قرطاس کیا اور دلائل کی روشنی میں فرقۂ باطلہ کی تردیدکی، جن کے فتاویٰ کی تحقیق و تدقیق اور فقہی استدلال میں وہ باریک بینی ہے، جسے دیکھ کر بڑے بڑے مفکرین و محققین محو حیرت ہیں، وہ منفرد المثال شخصیت جسے زمانہ "سچے عاشق رسول ﷺ، ہادمِ ایوان بدمذہبیت، پاسدار دین و سنیت، حامئ سنت، ماحئ بدعت، قاطع کفر و ضلالت، ماہر علوم و فنون، صوفئ باصفا، امام الھند، سراج الامۃ، ناصرالسنہ، اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملّت، الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان" کے نام سے جانتی اور پہجانتی ہے۔
اعلیٰ حضرت نے کفر و شرک اور بدعت و بدمذہبیت کے ایوانوں میں اس قدر ضرب لگائی، جس کے درد سے آج تک ان گمراہ گستاخوں کی نسلیں کراہ رہی ہیں اور ان گمراہ فرقوں کے سرغنوں کی بدمذہبیت پر کفر کی وہ کیل ٹھوکی جس سے تاقیامت ان کے پیروکاروں کے لیے راہِ فرار نہیں، ان گستاخوں کے وہم و گمان سے بالاتر ہے کہ اعلیٰ حضرت کس بحر ذخار کا نام ہے۔
جنھوں نے بھی اپنی مرضی کا فن اٹھاکر اعلیٰ حضرت کے کسی رسالے یا مقالے یا فتاوے کو عمیق نظری سے مطالعہ کیا ہو، وہ اسے اس علم میں امام احمد رضا کو اس علم کا ماہر و واقف کار پائے گا، یہی وجہ ہے کہ جب علم غیب مصطفیٰ ﷺ پر صحنِ حرم میں آٹھ گھنٹے کی قلیل مدت میں بغیر کسی کتاب یا حوالاجات کی مراجعت کے قلم برداشتہ زبانی یادداشت سے عربی زبان میں ایک مایہ ناز ضخیم کتاب "الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ" تحریر فرماکر منکرین علم غیب کو لاجواب کر دیا، آج تک کسی میں مجال دم زدن نہیں اور سارے اہل باطل مل کر بھی اس کا جواب نہ لا سکے، لہذا اس مسودہ کو علماے حرمین شریفین اور علماے شام و مصر نے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا، اور فراخدلی کا مظاہرہ کرکے اپنی بیش بہا انمول تقاریظ لکھے اور اس کی تائید فرمائی، جسے عصر حاضر میں حرمین شریفین کے قابض گنڈے، دین و ملت کا غدار، منافق، عیاش، اوباش، گستاخِ رسول، حرام نطفے کا پیداوار کیا سمجھ سکے کہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی کس عظیم شخصیت کا نام ہے۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے دین اسلام کی اس قدر پاسبانی کی جس کی کوئی نظیر نہیں، جنھوں نے نوک قلم سے نہ صرف باطلوں کو زیر کیا بلکہ نئے پیدا ہونے والے فتنے کو بھی ابتداے آفرینش سے ہی کچل کر سپردِ خاک کر دیا۔ ندر جمیل نے خوب منظر کشی کی ہے: کہ
الفاظ بہ رہے ہیں دلیلوں کی دھار میں،
چلتا ہوا قلم ہے کہ دھارا رضا کا ہے،
اور کسی نے کیا خوب فرمایا ہے: کہ
مینار قصر رضا تو بلند کافی ہے،
تم اس کے پہلے زینے پہ چڑھ کے دکھلا دو،
فتاویٰ رضویہ لکھنا تو ایک کرامت ہے،
ذرا حدائق بخشش کی پڑھ کے دکھلا دو،
امام عشق و محبت نے ہر اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب دیا، خواہ نبی کریم ﷺ کی حرمت پر یا افضلیت شیخین یا شہادت عثمان ذوالنورین پر ہو یا مولاے کائنات کی شجاعت یا اہل بیت اطہار کی عصمت پر یا کاتب وحی حضرت امیرِ معاویہ رضی ﷲ عنہم کی صحابیت یا دیگر پہلو میں مذہب اسلام پر نکتہ چیں کرنے والوں کی یوں تو بہت سے علماے ذوی الاحترام نے خبر گیری کی اور اس کا احتساب و ازالہ فرمایا مگر امام احمد رضا نے جس قدر پہرے داری کرکے محافظت کی اس کا جواب نہیں۔
اسی کو تو 1982 میں ""پروفیسر جمیل ندر" نے کیا ہی بہترین انداز میں فرمایا کہ:
جلوہ ہے نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے،
تصویر سنیت ہے کہ چہرا رضا کا ہے،
وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا ہے،
جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے،
اگلوں نے بھی لکھا ہے بہت علم دین پر مگر
جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا کا ہے۔
اس دور پر فتن میں ندر خوش عقیدگی
سرکار کا کر ہے وسیلہ رضا کا ہے۔
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "امام احمد رضا: علم و عشق کا ایسا آفتاب جس سے سنیت منور ہے | محمد کونین صدیقی مصباحی "
Post a Comment