تعلیلات کے قواعد| محمد اکمل یزدانی
Friday, 14 August 2026
Add Comment
تعلیلات کے قواعد
از قلم: محمد اکمل یزدانی
تعلیل کی تعریف: تعلیل باب تفعیل کا مصدر ہے،اور "عِلَّة" سے مشتق ہے، علة بیماری کو کہتے ہیں ،
اور اصطلاح میں تعلیل کہتےہیں: کہ حروف علت میں تغیر اور تبدل کو۔
اور بعض علماء کہتے ہیں کہ تعلیل کہتےہیں لفظ کی اصل بتاکر اس میں جاری ہونے والے قواعدی کی نشاندھی کرنا ۔
*تعلیل* فن صرف میں مشکل ترین کام ہے ، اس کے لیے تعلیل کے قواعد، لفظ کی اصل شکل ، اور اس میں واقع تغیرات کو محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے ،اس کےبغیر کوئی شخص تعلیل پر قادر نہیں ہوسکتا۔
*تعلیل کا فائدة* : قرآن وحدیث میں ہزاروں الفاظ ایسے ہیں ، جن میں تغیر و تبدل ہوتا ہے ،وہ اپنی اصلی شکل پر نہیں ہوتے، جب تک ان کی اصل شکل نہ جان لیں ، ان میں واقع تغیرات پر آگاہی حاصل نہ کرلیں ان الفاظ کا معنی جاننا ممکن نہیں ،اور نہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی مراد پر واقفیت حاصل ہوسکتی ہے ۔
مثال سے وضاحت : قرآن کریم کے چوتھے پارہ سورة آل عمران میں ہے :
یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حَقَّ تُقَاتِہِ الآیة
اس میں لفظ " تُقَاتِہِ " ہے، یہ اپنی اصلی شکل پر نہیں ہے،اس میں تغیرات کثیرة ہیں ،جب تک اس لفظ کی آپ اصل معلوم نہ کرلیں ،اس میں ہونے والے تغیرات کی پہچان نہ کرلیں توآپ آیت کریمہ کا درست سے ترجمہ نہیں کرسکتے۔
*تُقَاتِہِ* کی تعلیل : یہ لفظ اصل میں " وُقَیَةُُ " بروزن" فُعَلَة" ہے ، یاءمتحرکہ ماقبل مفتوح کو" قَالَ وبَاعَ " والے قانون سےالف سے تبدیل کردیا تویہ " وُقَاةُُ " ہوگیا ، پھر واؤ کو خلاف قیاس تاء سے تبدیل کردیا جیسے کہ عربی زبان میں یہ بکثرت ہوتاہے جیسے وُرَاثُُ کو تُرَاثُُ کردیتےہیں تویہ " تُقَاةُُ " ہوگیا، پھر اضافت الی الضمیر کی وجہ سے تنوین گر گئی اور " حقَّ " مضاف کامضاف الیہ ہونےکی وجہ سےاس پرجرآٸی تویہ " تُقَاتِہِ " ہوگیا۔
اس لیےتعلیل کےقواعدجاننابہت ضروری ہے ، ہم کوشش کریں گے کہ آپ کوآسان لفظوں میں تعلیل کےقواعدسمجھادیں ، آج ایک قاعدہ ذکرکرتےہیں ۔
قاعدہ : ہروہ کلمہ جوتین حرفی ہو ،پہلاحرف مکسورہو، دوسرامفتوح غیرمشددہواورتیسری جگہ تاءمدورة(گول تاء) ہو ، تووہ مثال واوی کاکلمہ ہو، وہ بروزن " فِعلُُ یا فِعلَة" ہوگا۔اس کی اصل نکالنےکاطریقہ یہ ہےکہ آپ آخرسے گول تاءگراکرشروع میں واٶمکسور لےآٶ،واٶکےبعدوالےحرف کوساکن کردو،اورتیسرےحرف پرتنوین لگادو۔
مثال : عِدَةُُ ، زِنَة وغیرہ ۔
*تعلیل: عِدَةُُ اصل میں وِعدُُ تھا ، اور زِنَةاصل میں وِزنُُ تھا ، یہ دونوں باب ضرب یضرب ازمثال واوی کےمصدرہیں :
وَعَدَیَعِدُ عِدَةً ، اور وَزَنَ یَزِنُ زِنَةً ۔
واٶکی کسرہ کو" عِدَةُُ والےقانون" سےنقل کرکےبعدوالےحرف کودی ،اورواٶکوحذف کردیا، پھر اس واٶمحذوفہ کےعوض " اِقَامَةُُ اِستِقَامَةُُ والےقانون سےآخرمیں گول تاءلائے تویہ " عِدَةُُ اور زِنَةُُ " ہوگٸے ۔
*عِدَةُُ والاقانون* : ہروہ واٶجواس مصدرکافاءکلمہ ہوجومصدر" فِعلُُ یا فِعلَةُُ " کےوزن پرہےتواس واٶکوحذف کرناواجب ہے ۔جیسے" وِعدُُ سےعِدَةُُ " وغیرہ۔
*اِقَامَةُُ والاقانون* : ہروہ حرف جومصدرسےتنوین کےساتھ التقاٸےساکنین کےعلاوہ دوسرے حرف کےساتھ دوساکن حرف جمع ہونےکی وجہ سےگرجاٸے تواس محذوف حرف کےعوض مصدرکےآخرمیں میں گول تاءلاناواجب ہے ۔جیسے " اِقوَامُُ " سے" اِقَامَةُُ "
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "تعلیلات کے قواعد| محمد اکمل یزدانی"
Post a Comment