بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

نماز میں "بسم اللہ" کتنی بار اور کہاں کہاں پڑھی جاتی ہے؟


نماز میں "بسم اللہ" کتنی بار اور کہاں کہاں پڑھی جاتی ہے؟

نماز میں "بسم اللہ" کتنی بار اور کہاں کہاں پڑھی جاتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے اور اس کے بعد پڑھی جانے والی ہر سورت کے شروع میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھنا مطلقاً مستحب و مستحسن ہے۔ البتہ رکوع، سجدہ اور قعدہ وغیرہ میں بسم اللہ نہیں پڑھی جائے گی۔ نیز نماز سری ہو یا جہری، بسم اللہ آہستہ ہی پڑھی جائے گی۔

سورۂ فاتحہ اور سورہ کے درمیان "بسم اللہ" پڑھنا مستحسن ہے، چنانچہ ”در مختار“ میں ہے:”(لا) تسن (بين الفاتحة والسورة مطلقاً) ولو سرية، ولا تكره اتفاقاً.“ یعنی فاتحہ اور سورت کے درمیان مطلقاً بسم اللہ پڑھنا سنت نہیں ہے، چاہے نماز سری ہو۔ اور نہ اتفاقاً مکروہ ہے۔

اس کے تحت ”علامہ احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوي“ (المتوفی:1231ھ) لکھتے ہیں:”قوله: (ولا تكره اتفاقاً) بل لا خلاف في أنه لو سمي لكان حسناً نهر.“ یعنی مصنف کا قول کہ ”بالاتفاق مکروہ نہیں“ بلکہ اگر بسم اللّٰہ پڑھی تو اس کے حسن ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، نہر۔ (حاشية الطحطاوي على الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، الجزء الثاني، صفحة:175، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

”اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ (المتوفی:1340ھ) رقمطراز ہیں:”ہمارے علمائے محققین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی علیہم اجمعین کتب معتمدہ میں روشن تصریحیں فرما رہے ہیں کہ ابتدائے سورت پر بھی بسم ﷲ شریف پڑھنی چاہئے مطلقًا مستحب و مستحسن ہے، خواہ نماز سِریہ ہو یا جہریہ۔ اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کا ناجائز ہونا درکنار ہمارے ائمہ مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں کوئی اس کی کراہت کا بھی قائل نہیں بلکہ سب ائمہ کرام بالاتفاق اسے خوب بہتر جانتے ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:6، صفحہ:160، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی


0 Response to "نماز میں "بسم اللہ" کتنی بار اور کہاں کہاں پڑھی جاتی ہے؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->