قبرستان کا گھاس کاٹنا کیسا ہے..؟
Thursday, 27 August 2026
Add Comment
قبرستان کی گھاس اتنی بڑھ گئی ہے کے اس میں موذی جانور کے کاٹنے کا ڈر ہے یا قبرستان کی صفائی کے لیے گھاس کاٹنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
قبر سے تر گھاس کو اُکھاڑنا مکروہ ہے کیونکہ گھاس جب تک تَر رہتی ہے، اللہ پاک کی تسبیح کرتی رہتی ہے، جس سے میت کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور اس کی تسبیح سے رحمت کا نزول ہوتا ہے، لہٰذا اسے صاف کرنے میں میت کے حق کو ضائع کرنا ہے اور اگر گھاس خشک ہو گئی ہو، تو ایسی صورت میں اسے کاٹنے اور صاف کرنے میں حرج نہیں ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں قبرستان کی صفائی کے لیے تر گھاس کو کاٹنے کی اجازت نہیں، لیکن اگر گھاس خشک ہو گئی ہو تو کاٹ سکتے ہیں۔ یوں ہی اگر قبرستان کی گھاس اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس میں موذی جانور کے کاٹنے کا ڈر ہے تو ضرورتاً کاٹ سکتے ہیں۔
قبر سے تر گھاس کاٹنا ممنوع ہے ہاں اگر خشک ہو گئی ہو تو کاٹ سکتے ہیں، جیسا کہ ”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”ويكره قطع الحطب والحشيش من المقبرة فإن كان يابساً لا بأس به كذا في فتاویٰ قاضي خان.“ یعنی قبرستان سے تر لکڑی اور گھاس کاٹنا مکروہ ہے ہاں اگر خشک ہو چکی تھی تو مضائقہ نہیں۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر... إلخ، الجزء الأول، صفحة:183، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
قبر سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے کیونکہ جب تک گھاس تر رہے گی تب تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے گی، جس سے میت کو اُنسیت حاصل ہوگی اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہوگی، چنانچہ ”رد المحتار“ میں ہے:”یکرہ قطع النبات الرطب و الحشیش من المقبرۃ دون الیابس کما فی البحر و الدرر و شرح المنیة، و علله في الإمداد بأنه ما دام رطباً یسبح اللہ تعالیٰ فیؤنس المیت و تنزل بذکرہ الرحمةاھ ، ونحوہ فی الخانیة۔۔۔ لأن فیه تفویت حق المیت.“ یعنی قبر سے تَر پودے اور تر گھاس کو کاٹنا مکروہ ہے، نہ کہ خشک کو جیسا کہ یہ مسئلہ بحر، درر اور شرح منیہ میں مذکور ہے۔ امداد میں اس کی وجہ یوں بیان کی ہے کہ جب تک یہ پودا تر رہے گا، تب تک اللہ پاک کا ذکر کرتا رہے گا، جس سے میت کو اُنسیت حاصل ہو گی اور اس کے ذکر سے رحمت نازل ہو گی اور اسی کی مثل خانیہ میں مذکور ہے، کیونکہ اس(کاٹنے) میں میت کا حق ضائع کرنا ہے۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في وضع الجريد ونحو الآس على القبور، الجزء الثالث، صفحة:184، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض، ملخصاً)
اگر حاجت ہو تو (بقدرِ ضرورت) تر گھاس کاٹنا بھی جائز ہے، چنانچہ ”خلاصة الفتاوى“ میں ہے:”ويكره قلع الحطب والحشيش من المقبرة إلا إذا كان يابساً ولا يستحب قلع الحشيش الرطب من غير حاجة.“ یعنی قبرستان سے لکڑیاں اور گھاس اکھاڑنا مکروہ ہے، سوائے اس کے کہ وہ خشک ہو جائے۔ اور بغیر ضرورت کے تر گھاس اکھاڑنا مستحب نہیں ہے۔ (خلاصة الفتاوى، كتاب الصلاة، الفصل الخامس والعشرون في الجنائز، المجلد الأول، صفحة:227، مطبوعہ كوئٹہ)
وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی
Link will be apear in 60 seconds.
Well done! you have successfully gained access to Decrypted Link.

0 Response to "قبرستان کا گھاس کاٹنا کیسا ہے..؟"
Post a Comment