بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو کیا اس کا نکاح باقی رہتا ہے نیز کیا اس کی بیوی عدت گزارے گی؟


اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو کیا اس کا نکاح باقی رہتا ہے نیز کیا اس کی بیوی عدت گزارے گی؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


مرتد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امر کا انکار کرے جو ضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے کلمۂ کفر بکے جس میں تاویلِ صحیح کی گنجائش نہ ہو۔ یوں ہی بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہو جاتا ہے مثلاً بت کو سجدہ کرنا۔ مصحف شریف کو نجاست کی جگہ پھینک دینا۔ جو بطورِ تمسخر اور ٹھٹھے کے کفر کرے گا وہ بھی مرتد ہے اگرچہ کہتا ہے کہ ایسا اعتقاد نہیں رکھتا۔

لہذا اگر کوئی شخص معاذَ اللہ مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح باطل ہو جائے گا۔ عورت کو جیسے ہی خبر ملے تو وہ عدت گزارے گی۔ عدت گزارنے کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اور اس صورت میں عِدَّت کی وُہی تفصیل ہوگی جو مُطَلَّقہ عورت کی عِدّت کی ہے یعنی اگروہ عورت حامِلہ ہو تو وَضعِ حمل(یعنی بچّہ کی ولادت ہو جانا) اور اگر عورت، نابالِغہ یا آئِسہ یعنی پچپن سالہ یا اس سے زائد عمر کی ہے تو اُس کی عدّت ہِجری سِن کے حساب سے تین مہینہ ہوگی ورنہ حَیض والی ہو تو تین حیض ہوگی۔

”مرتد“ کی تعریف کے متعلق "تنویر الأبصار" میں ہے:”الراجع عن دين الإسلام. وركنها إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد الإيمان.“ یعنی مرتد وہ ہے جو اسلام کے دین سے پلٹ جائے۔ اور اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد زبان سے کلمہ کفر جاری کرے۔ (تنوير الأبصار، كتاب الجهاد، باب المرتد، الجزء السادس، صفحة:354، مطبوعہ دار عالم الكتب رياض)

"بدائع الصنائع" میں ہے:”أما ركنها:فهو إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد وجود الإيمان، إذ الردة عبارة عن الرجوع عن الإيمان، فالرجوع عن الإيمان يسمى ردة في عرف الشرع.“ یعنی رہی اس کی بنیادی شرط، تو وہ یہ ہے کہ ایمان کے وجود کے بعد زبان سے کفر کا کلمہ جاری کیا جائے۔ کیونکہ ردہ کا مطلب ہی ایمان سے پھر جانا ہے، پس ایمان سے پھر جانے کو شریعت کی اصطلاح میں 'ردہ' کہا جاتا ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب السير، فصل في أحكام المرتدين، جلد:9، صفحة:437، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)

جو شخص معاذَ اللہ مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اُس پر حرام ہو جاتی ہے، چنانچہ ”العقود الدریة“ میں ہے:”وقال في البزازية:ولو ارتد والعياذ بالله تعالى تحرم امرأته ويجدد النكاح بعد إسلامه.“ یعنی اور بزازیہ میں ہے: اگر کوئی شخص معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے اور اس کے اسلام لانے کے بعد نکاح کا اعادہ کرنا ہوگا۔ (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب الردة والتعزير، جلد:1، صفحة:101)

”در مختار“ میں ہے:”ما يكون كفراً اتفاقاً: يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح.“ یعنی جس کے کفر ہونے پر سب کا اتفاق ہے تو وہ عمل کو، نکاح کو باطل کر دیتا ہے اور اس کے (بعد پیدا ہونے والی) اولاد، اولادِ زنا کے حکم میں ہوگی۔ اور جس میں (فقہاء کا) اختلاف ہے، اس میں اسے استغفار اور توبہ (یعنی تجدید اسلام) اور (احتیاطاً) نکاح کے اعادہ کا حکم دیا جائے گا۔ (الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، الجزء السادس، صفحة:390-391، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)

جو بطورِ تمسخر اور ٹھٹھے کے کفر کرے گا وہ بھی کافر و مرتد ہو جائے گا۔ اگرچہ کہتا ہو کہ میں ایسا اعتقاد نہیں رکھتا جیسا کہ ”در مختار“ میں ہے: ’’مَن ھَزَلَ بِلَفْظِ کُفْرٍ اِرْتَدَّ وَ إِنْ لَمْ یَعْْتَقِدْہُ لِلْاِسْتِخْفَافِ.‘‘ یعنی جس نے کفر کے کلمے کے ساتھ مذاق کیا وہ مرتد ہو گیا، اگرچہ اس کا اعتقاد نہ بھی رکھتا ہو، کیونکہ یہ استہزاء کی وجہ سے ہے۔ (الدر المختار، کتاب الجہاد، باب المرتد، الجزء السادس، صفحة:356، مطبوعہ دار عالم الكتب رياض)

عورت کو خبر ملی کہ اس کا شوہر مرتد ہو گیا تو عدت گزار کر نکاح کر سکتی ہے، چنانچہ ”تنوير الأبصار“ میں ہے:”أخبرت بارتداد زوجها فلها التزوج بآخر بعد العدة.“ یعنی اگر عورت کو خبر ملی کہ اس کا شوہر مرتد ہو گیا ہے، تو وہ عدت گزارنے کے بعد دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے۔ (تنوير الأبصار، كتاب الجهاد، باب المرتد، الجزء السادس، صفحة:399، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)

اگر مرتد شخص بعد میں اسلام قبول کر لے اور دونوں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے تجدیدِ نکاح کی جائے گی، جیسا کہ ”رد المحتار“ میں ہے:” ويجدد بينهما النكاح إن رضيت زوجته بالعود إليه وإلا فلا تجبر.“ یعنی اور ان دونوں کے درمیان نکاح کی تجدید کی جائے گی اگر اس کی بیوی اس کی طرف لوٹنے پر راضی ہو، ورنہ اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، الجزء السادس، صفحة:391، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)

وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی

0 Response to "اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے تو کیا اس کا نکاح باقی رہتا ہے نیز کیا اس کی بیوی عدت گزارے گی؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->