بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
✦ مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی ✦
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

کیا دوسرے راستے سے 92 کلومیٹر سے زائد سفر کرنے والا شخص شرعاً مسافر ہوگا؟


ایک جگہ کی مسافت 90 کلومیٹر ہے، اگر کوئی شخص اس مقام پر دوسرے راستے سے جائے تو 92 کلومیٹر سے زیادہ ہے تو کیا وہ مسافر ہوگا یا نہیں؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


کسی جگہ جانے کے دو راستے ہیں ایک سے مسافتِ سفرہے دوسرے سے نہیں، تو جس راستہ سے یہ جائے گا اس کا اعتبار ہے، نزدیک والے راستے سے گیا تو مسافر نہیں اور دور والے سے گیا تو ہے، اگرچہ اس راستہ کے اختیار کرنے میں اس کی کوئی غرضِ صحیح نہ ہو۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں وہ شخص اس راستے سے جائے گا جس کی مسافت 92 کلومیٹر سے زائد ہے تو وہ شرعی مسافر ہو گا۔

”در مختار“ میں ہے:”ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني.“ یعنی اور اگر کسی جگہ جانے کے لیے دو راستے ہوں، ایک راستہ سفر کی مسافت والا ہو اور دوسرا اس سے کم مسافت والا ہو، تو پہلے والے راستے میں قصر کرے گا، دوسرے والے میں نہیں۔

اس کے تحت ”رد المحتار“ میں ہے:”أي ولو كان اختار السلوك فيه بلا غرض صحيح.“ یعنی اگرچہ اس نے بغیر کسی صحیح غرض کے اسی لمبے راستے میں چلنا اختیار کیا ہو۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، الجزء الثاني، صفحة:603، مطبوعہ دار عالم الكتب، رياض)

”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه كذا في البحر الرائق، فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان أحدهما مسيرة ثلاث أيام وليليها والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافراً عندنا هكذا في فتاوى قاضي خان، وإن سلك الأقصر يتم كذا في البحر الرائق.“ یعنی اور جس راستے کو اختیار کرے اسی کے اعتبار سے سفر کی مدت کا اعتبار ہوگا، جیسا کہ 'البحر الرائق' میں ہے۔ پس اگر کوئی شخص کسی شہر کا قصد کرے اور اس کے مقصد تک جانے کے لیے دو راستے ہوں، ایک راستہ تین دن اور تین راتوں کی مسافت کا ہو اور دوسرا اس سے کم ہو، پھر اس نے لمبا راستہ اختیار کر لیا تو ہمارے نزدیک وہ مسافر ہے۔ ایسا ہی 'فتاویٰ قاضی خان' میں ہے۔ اور اگر اس نے چھوٹا راستہ اختیار کیا تو وہ اتمام کرے گا۔ ایسا ہی 'البحر الرائق' میں ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، الجزء الأول، صفحة:153، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
نوٹ: موجودہ دور میں مسافتِ سفر 92 KM ہے۔ (نزهة القاری شرحِ صحیح البخاری، جلد:2، صفحہ:535)

وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

كتبه: محمد اُویس العطاری المصباحی

0 Response to "کیا دوسرے راستے سے 92 کلومیٹر سے زائد سفر کرنے والا شخص شرعاً مسافر ہوگا؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->