بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
مصافحہ کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے اس طرح کیا جائے کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے دہنے سے اور بایاں بائیں سے ملائے اور درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے، اور ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف وغیرہ میں عبدﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ ’’حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا دستِ مبارک ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا۔‘‘ یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو۔
دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے، چنانچہ ”خاتم المحققین شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہر دو دست بود‘‘ یعنی ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور دونوں ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ (أشعة اللمعات، کتاب الآداب، باب المصافحة والمعانقة، جلد:4، صفحة:22)
”در مختار“ میں ہے:”السنة في المصافحة بكلتا يديه.“ یعنی دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنّت ہے۔ (الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، الجزء التاسع، صفحة:548، دار عالم الكتب رياض)
اس کے تحت ”رد المحتار“ میں ہے:”وهي إلصاق صفحة الكف بالكف وإقبال الوجه بالوجه فأخذ الأصابع ليس بمصافحة خلافاً للروافض، والسنة أن تكون بكلتا يديه، وبغير حائل ثوب أو غيره، وعند اللقاء بعد السلام، و أن يأخذ الإبهام فإن فيه عرقاً ينبت المحبة. كذا جاء في الحديث.“ یعنی مصافحہ یہ ہے کہ ہتھیلی آپس میں مل جائے فقط انگلیوں کا چھونا مصافحہ نہیں، بر خلاف روافض کے، اور سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے ہو، کوئی کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو، اور (مصافحہ) ملاقات کے وقت سلام کے بعد ہے، اور یہ کہ انگوٹھے کو دبائے کیونکہ اس میں ایک رگ ہوتی ہے جس سے محبت پیدا ہوتی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، الجزء التاسع، صفحة:548، دار عالم الكتب رياض)
”بہارِ شریعت“ میں ہے:”مصافحہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف وغیرہ میں عبدﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ ’’حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا دستِ مبارک ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا۔‘‘ یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو۔ دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا اور اس کی نسبت بھی وہ کہتے ہیں کہ حدیث سے ثابت ہے، وہ یہ کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے دہنے سے اور بایاں ائیں سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:471، مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
مزید پڑھیں 👇🏻
سلام و مصافحہ کرتے وقت جھکانا کیسا ہے؟

