سلام و مصافحہ کرتے وقت جھکانا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
------------------------------------------------
سلام ومصافحہ کے وقت حدِ رکوع (یعنی اگر ہاتھ بڑھائے تو گھٹنوں تک پہنچ جائیں ) تك جھكنا حرام ہے اور اس سے کم ہو،تو مکروہ ہے۔ البتہ والدین یا دینی معظم شخصیت کا ہاتھ چومنے کےلیے جھک جانا بلا کراہت جائز ہے، صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اس میں مقصود جھکنا نہیں ،بلکہ ہاتھ چومنا ہے۔
حدیث شریف میں ہے:”الحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد ان رجلا اتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ علمنی شیئا ازداد بہ یقینا فقال اذھب الی تلک الشجرۃ فادعھا فذہب الیھا فقال ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یدعوک فجاءت حتی سلمت علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم قال لھا ارجعی فرجعت قال ثم اذن لہ فقبل“
ترجمہ :حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:اے اﷲ تعالی کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤ جس سے میرے یقین میں اضافہ ہو۔ارشاد فرمایا:اس درخت کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ تمھیں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلاتے ہیں:وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلا رہے ہیں وہ درخت اسی وقت بار گاہ اقدس میں حاضر ہوگیا اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ واپس اپنی جگہ پرچلے جاؤ۔چنانچہ وہ درخت واپس چلا گیا۔اس صحابی نے آپ کے سر مبارک اور مبارک و مقدس پاؤں کو بوسہ دینے کی اجازت چاہی توآپ نے اجازت دے دی،اور اس نے بوسہ دیا۔حاکم نے المستدرک میں روایت کی اور فرمایا اس کی سند صحیح ہے [1]
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسی طرح کے جواب میں فرماتے ہیں: ہاں (کسی عالم یا کسی دوسرے بزرگ کا ہاتھ چومنا) جائز ہے بلکہ مستحب و مندوب و مسنون ومحبوب ہے جب کہ بہ نیت صالحہ محمودہ ہو،امام بخاری ادب مفرد میں اور ابوداؤد و بیہقی زارع بن عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورجلہ ۔ پھر ہم جلدی کرنے لگے تاکہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ کر ان کے ہاتھ اور پاؤں چومیں۔
تنویر الابصار و درمختار میں ہے: لاباس بتقبیل ید الرجل العالم والمتورع علی سبیل التبرک درر ونقل المصنف عن الجامع انہ لا باس بتقبیل یدالحاکم المتدین و السلطان العادل وقیل سنۃ مجتبٰی ۔ کسی عالم اور پارسا شخص کے بطور تبرک ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں(درر)مصنف نے الجامع سے نقل فرمایا کہ دیندار حاکم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بھی بوسہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ سنت ہے(مجتبٰی)۔ *[2]*
تعظیم کے لیے جھکنا منع ہے، لیکن مصافحہ کے لیے جھکنا منع نہیں، چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”خیال رہے کہ جھکنا جب ممنوع ہے جب کہ تعظیم کے لیے ہو،اگر جھکنا کسی اور کام کے لیے ہو اور وہ کام تعظیم کے لیے ہو تو جائز جیسے کسی کے جوتے سیدھے کرنے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں چومنے کے لیے جھکنا ممنوع نہیں کہ یہ جھکنا اور کاموں کے لیے ہے“۔ [3]
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جھک کر سلام کرنے کے متعلق فرماتے ہیں : اسی طرح جھک کر سلام کرنا منع ہے چنانچہ امام ترمذی نے حضرت انس رضی ﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے یہ حدیث روایت کی ہے،انھوں نے استفسار کیا کیا اس کے آگے جھک جائے،ارشاد فرمایا:نہیں،مگر واضح رہے کہ ان میں سے کوئی کام بھی کفرو شرک نہیں ہو سکتا۔یہ گمراہ کرنے والے وہابیوں کا غلو ہے۔جہاں تک اولیاے کرام اور علماے عظام کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینے کا تعلق ہے تویہ عمل ہر گز منع نہیں بلکہ جائز اور ثابت ہے،چنانچہ وفد عبد القیس رضی ﷲ تعالٰی عنہم کے حضور پر نور سید عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچنے کے بارے میں یہ روایت مذکور ہے کہ جب دور سے ان کی نگاہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے جمال جہاں پر پڑی تو وہ بے تاب ہوکر اپنی اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور دوڑ کر بارگاہ اقدس میں پہنچے اور آپ کے مبارک ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا اورحضو ر علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کو منع نہیں فرمایا (جو بلا شبہ دلیل جواز ہے)[4]
دست بوسی کے متعلق دوسری جگہ فرماتے ہیں:”بزرگانِ دین مثل پیر مہتدی وعالم سنی کے ہاتھ چومنا جائز بلکہ مستحب بلکہ سنت ہے ہاں کسی دنیادار کا ہاتھ دنیا کےلئے چومنا منع ہے۔در مختار میں ہے:
لاباس بتقبیل یدالعالم والمتورع علی سبیل التبرک ۔ کچھ حرج نہیں کہ کسی عالم اور زاہد کے ہاتھوں کو حصول برکت کے لئے بوسہ دیا جائے“۔ [5]
بہار شریعت میں ہے: ”عالم دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے، بلکہ اس کے قدم چومنا بھی جائز ہے۔ بلکہ اگر کسی نے عالم دین سے یہ خواہش کی کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجیے کہ میں بوسہ دوں تو اس کے کہنے کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کے لیے اس کی طرف بڑھا سکتا ہے“۔ [6
استاذ اور والدین میں کون افضل ہے جب کہ استاذ کے متعلق قرآن میں کہیں صراحتاً ذکر نہیں مکمل ضرور پڑھیں 👇
https://sadaeqalb1.blogspot.com/2025/07/blog-post_14.html
__________________________________
[1] `المستدرک للحاکم`، جلد:4، صفحہ:172.
[2]`فتاویٰ رضویہ`، جلد:22، صفحہ:330.
[3] `مرآۃ المناجیح حدیث نمبر :4680، جلد:6.
[4] `فتاویٰ رضویہ`، جلد:22، صفحہ:318.
[5] `المرجع السابق`، صفحہ:318.
[6] `بہار شریعت`، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:472.
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
والله تعالیٰ اعلم بالصواب

.png)