مزاق کرنے کے بارے میں شرعی حُکم کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
جائز ہنسی مزاق کرنا جس میں نہ جھوٹ بولا جائے، نہ کسی مسلم کی ایذارسانی ہو، نہ کسی کو ذلیل کیا جائے، بیہودہ باتیں یا گالی گلوچ نہ ہو محض پُر لطف اور دل خوش کُن باتیں ہوں جن سے اہلِ مجلس کو ہنسی آئے اور خوش ہوں، اس میں حرج نہیں۔ ہر وقت نہ ہو کہ حد سے زیادہ مزاح کرنے میں خرابی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مُردہ ہو جاتا ہے، بعض اوقات دل میں بُغض پیدا ہو جاتا ہے اور ہَیبَت و وقار ختم ہو جاتا ہے، لہذا جو مزاح ان اُمور سے خالی ہو وہ قابلِ مذمّت نہیں، اسی لیے کبھی کبھی شاذ ونادر ہی چاہیے۔ بلکہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنت بھی ہے۔
کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنّت ہے، چنانچہ ”حدیث پاک“ میں ہے:”عن أنس بن مالك، أن رجلاً استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:إني حاملك على ولد الناقة، فقال:يا رسول الله، ما أصنع بولد الناقة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”وهل تلد الإبل إلا النوق.“ یعنی حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ایک شخض نے رسولُ اللہﷺ سے سواری مانگی تو ارشاد فرمایا:’’ ہم تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے عرض کی: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اونٹ کو اونٹنی ہی تو جنم دیتی ہے۔“ (ترمذی، کتاب البرّ والصّلة، باب ما جاء في المزاح، 3/399، الحدیث:1999)
عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لامراة عجوز: إنه لا تدخل الجنة عجوز فقالت: وما لهن؟ وكانت تقرا القران. فقال لها: أما تقرىين القران؟ (اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا).“ یعنی انہیں (یعنی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت ہے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایا :”جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہ جائے گی۔ انہوں نے (پریشان ہو کر) عرض کی: تو پھر ان کا کیا بنے گا؟ (حالانکہ) وہ عورت قرآن پڑھا کرتی تھی۔ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم نے قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ ’’اِنَّاۤ اَنْشَاْۙ(۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا‘‘(واقعہ:۳۵،۳۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا۔ توہم نے انہیں کنواریاں بنایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب المزاح، الفصل الثانی، 2/200، الحدیث:4888)
ہنسی مزاق کرنے کے متعلق ”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”لا بأس بالمزاح بعد أن لا يتكلم الإنسان فيه بكلام يأثم به أو يقصد به إضحاك جلسائه كذا في الظهيرية.“ یعنی ایسی مزاق کرنے میں کوئی حرج نہیں جس میں انسان بےہودہ کلام نہ کرے یا اس کے ذریعے اہلِ مجلس کو ہنسانے کا ارادہ کرے ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية، الباب السابع عشر في الغناء واللهو... إلخ، الجزء الخامس، صفحة:431، دار الكتب العلمية بيروت)
امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ جس پر نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ قادر تھے کہ مزاح (یعنی خوش طبعی) کرتے وقت صرف حق بات کہو، کسی کے دل کو اَذِیَّت نہ پہنچاؤ، حد سے نہ بڑھو اور کبھی کبھی مزاح کرو تو تمہارے لئے بھی کوئی حرج نہیں لیکن مزاح کو پیشہ بنا لینا بہت بڑی غلطی ہے۔“ (احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللّسان، الآفة العاشرۃ المزاح، 3 /159)
مزید فرماتے ہیں:وہ مزاح ممنوع ہے جو حد سے زیادہ کیا جائے اور ہمیشہ اسی میں مصروف رہا جائے اور جہاں تک ہمیشہ مزاح کرنے کا تعلق ہے تو اس میں خرابی یہ ہے کہ یہ کھیل کود اور غیر سنجیدگی ہے، کھیل اگرچہ (بعض صورتوں میں) جائز ہے لیکن ہمیشہ اسی کام میں لگ جانا مذموم ہے اور حد سے زیادہ مزاح کرنے میں خرابی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مُردہ ہو جاتا ہے، بعض اوقات دل میں بغض پیدا ہو جاتا ہے اور ہَیبَت و وقار ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا جو مزاح ان اُمور سے خالی ہو وہ قابلِ مذمت نہیں، جیسا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک میں بھی مزاح کرتا ہوں اور میں (خوش طبعی میں) سچی بات ہی کہتا ہوں۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمه: احمد، 1 /283، الحدیث:995)
لیکن یہ بات تو آپ کے ساتھ خاص تھی کہ مزاح بھی فرماتے اور جھوٹ بھی نہ ہوتا لیکن جہاں تک دوسرے لوگوں کا تعلق ہے تو وہ مزاح اسی لئے کرتے ہیں کہ لوگوں کو ہنسائیں خواہ جس طرح بھی ہو، اور (اس کی وعید بیان کرتے ہوئے) نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ہم مجلس لوگوں کو ہنساتا ہے، اس کی وجہ سے ثُرَیّا ستارے سے بھی زیادہ دور تک جہنم میں گرتا ہے۔ (مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ، 3 /366، الحدیث:9231، احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الآفة العاشرۃ المزاح، 3 /158)
ایسی مزاق کرنا جائز نہیں جس میں جھوٹ شامل ہو، کہ مزاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہ ہے، چنانچہ امام احمد و ترمذی و ابو داؤد و دارمی نے بروایت بہز بن حکیم عن أبيه عن جدہ روایت کی، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ويل لمن يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له.“ یعنی ہلاکت ہے اس کے لیے جو بات کرتا ہے اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔ (سنن الترمذی، کتاب الزهد، باب ما جاء من تكلم بالكلمة ليضحك الناس، الحديث: 2322، جلد:4، صفحة:142)
ایسی ہنسی مزاق جس میں مسلمان کی ایذارسانی ہو جائز نہیں کہ مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے، چنانچہ اللہ پاک فرمان ہے؛ ”﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔ (القرآن الكريم، سورة الْأَحْزَاب، آيت:58)
امامِ اَجل رافعی نے سیّدنا علی کَرَّمَ اللہ وَجْهَهٗ سے روایت کی، مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا اَوْضَرَّہٗ اَوْمَاکَرَہٗ.‘‘ یعنی وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے یا تکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر کرے۔ (کنزالعمال، کتاب الأخلاق، قسم الاقوال، حرف المیم، المکر والخدیعة، 2/218، الحدیث:7822، الجزء الثالث)
اہانت اور تحقیر کیلئے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اور دکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے کثیر اَحادیث میں اس فعل سے ممانعت اور اس کی شدید مذمت اور شناعت بیان کی گئی ہے، جیسا کہ حضرت عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو، نہ اس کا مذاق اڑائو، نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو۔ (ترمذی، کتاب البرّ والصّلة، باب ما جاء في المرائ، 3 /400، الحدیث:2002)
حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ قیامت کے دن لوگوں کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ، تو وہ بہت ہی بے چینی اور غم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی وہ دروازے کے پاس پہنچے گا وہ دروازہ بند ہو جائے گا، پھر ایک دوسرا جنت کا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گا: آؤ یہاں آؤ، چنانچہ یہ بے چینی اور رنج وغم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا، اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہو تا رہے گا یہاں تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکار پڑے گی تو وہ ناامیدی کی وجہ سے نہیں جائے گا۔ (اس طرح وہ جنت میں داخل ہونے سے محروم رہے گا)۔ (موسوعة ابن ابی دنیا، الصّمت وآداب اللّسان، باب ما نهی عنه العباد ان یسخر... إلخ، 7 /173، الحدیث:287)
بے ہودہ اور بے فائدہ کام کرنا انسان کے اسلام ہونے کے حسن کے خلاف ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه.“ یعنی انسان کے اسلام ہونے کا حُسن یہ ہے کہ وہ بے فائدہ کاموں کو ترک کر دے۔ (أخرجه الترمذي، الحديث:2317)
ایسی مزاق جس میں مسلمان کو گالی دی جائے جائز نہیں بلکہ گناہ ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”سباب المسلم فسوق.“ یعنی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔ (مسلم، بخاری)
اللہ تعالیٰ ہمیں جائز خوش طبعی کرنے اور ناجائز خوش طبعی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
والله تعالیٰ أعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

