کرسمس ڈے منانا کیسا ہے؟


کرسمس ڈے منانا کیسا ہے؟

کرسمس ڈے منانا کیسا ہے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ


كرسمس ڈے (Christmas Day) عیسائیوں کا مذہبی تیوہار ہو یا نہ ہو مگر آج قومی تیوہار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس سے مسلمانوں کو دور رہنا لازم و ضروری ہے۔ مسلمانوں کو اِس دن اُنہیں ہدیہ دینا اور اُن سے تحفہ لینا بھی حرام وممونوع ہے۔ اور اگر کرسمس ڈے کی تعظیم مَقصود ہو تو (معاذ اللہ تعالیٰ) یہ کُفر ہے۔ یوں ہی اِس دن کرسمس ڈے کی مُبارک باد دینا بھی حرام اور اگر تعظیم مَقصود ہو تو کفر ہے۔

کافروں کے مذہبی تیوہار کے موقع پر انہیں تحفہ دینا اُس دن کی تعظیم کے طور پر ہو تو کفر ہے اگر اس نیت سے نہ ہو تو اس پر حکمِ کفر نہیں، چنانچہ ”تنویر الأبصار مع در مختار“ میں ہے:”(الإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام (وإن قصد تعظيمه) كما يعظمه المشركون (يكفر).“ یعنی نیروز اور مہرجان (مجوسیوں کے عیدوں کے نام) کے نام پر عطیہ کا تبادلہ ”یہ کہ کر کہ یہ آج کا ہدیہ ہے“ جائز نہیں۔ یعنی ان دونوں دنوں کے ناموں پر تحفے دینا لینا حرام ہے اور اگر مشرکین مجوسی کی طرح ان کی تعظیم بھی کرے گا تو کفر ہوگا۔ (تنوير الأبصار مع الدر المختار، كتاب الخنشي، مسائل شتى، الجزء العاشر، صفحة:485، دار عالم الكتب رياض)

”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”وبإهدائه ذلك اليوم للمشركين ولو بيضة تعظيماً.“ یعنی مشرکوں کے دن کی تعظیم کے لیے اس روز اُن کو تحفہ دینے سے آدمی کافر ہو جائے گا اگرچہ ایک ہی انڈا ہو۔ (الفتاوى الهندية، كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، الجزء الثاني، صفحة:277)

بحر الرائق، مجمع الأنهر وجامع الفصولين میں ہے:”یکفر بخروجه إلی نیروز المجوس والموافقة معهم فیما یفعلون في ذٰلك الیوم وبشرائه یوم النیروز شیئا لم یکن یشتریه قبل ذٰلك تعظیما للنیروز لا للأکل والشرب وباھدائه ذٰلك الیوم للمشرکین ولو بیضة تعظیما لذلك الیوم.“ یعنی مجوسیوں کے ساتھ نیزوز میں اس طرح نکلنا کہ اس دن وہ جو کریں گے یہ ان کی موافقت کرے تو یہ کفرہے، اسی طرح نیروز کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا مشرکین کو ہدیہ دینے کے لئے کوئی چیز خریدی نہ کہ کھانے پینے کے لئے جبکہ وہ چیز اس سے پہلے نہیں خریدی تھی اگرچہ وہ انڈہ ہی کیوں نہ ہو تو کفر ہوگا۔ (مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر، باب أن الألفاظ الكفر أنواع، 1/698)

مفتی عبد الواجد قادری مفتی اعظم ہالینڈ ”فتاوٰی یورپ“ میں فرماتے ہیں:”عیسائیوں کے یہاں کرسمس ڈے کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے یہ چودہویں صدی عیسوی کا ایک حادث تیوہار ہے۔ لیکن دنیا بھر کے عیسائیوں نے اس اختراعی تیوہار کو اتنی مضبوطی سے تھاما کہ یہ صدیوں سے عیسائیت کی پہچان و شعار بن گیا ہے۔ ہر چرچ اور عیسائی تنظیم گاہیں اس تاریخ میں مزین کی جاتی ہیں اور دنیا کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ گویا یہ مسیحیوں کا عظیم الشان تیوہار ہے، جس میں اربوں ڈالر کی شراب نہ صرف پی جاتی ہے بلکہ لنڈھائی جاتی ہے۔ پھر اربوں ڈالر کی آتشبازی اور آتشی مادّوں سے یورپ و امریکہ کے درو دیوار اور آسمانی فضا تھرا اٹھتی ہے۔ ہفتہ عشرہ تک گندھک کی بدبو سے ملک کا ملک مہکتا رہتا ہے۔

بہر حال کرسمس ڈے ان کا مذہبی تیوہار ہو یا نہ ہو مگر آج قومی تہوار کی حیثیت اختیار کرگیا ہے جس سے مسلمانوں کا دور رہنا لازم و ضروری ہے۔۔۔ مسلمانوں کے لئے حرام ہے کہ ان کے تیوہار میں اپنے گھروں کو انہیں چیزوں سے مزین کریں جن سے وہ لوگ کرتے ہیں۔ پھراس تاریخ میں انہیں ہدیہ دینا اور ان سے تحفہ لینا بھی حرام و ممنوع ہے۔ اور اگر کرسمس ڈے کی تعظیم مقصود ہو تو معاذ اللہ یہ کفر ہے۔“ (فتاوٰی یورپ، صفحہ:540)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.