اگر کوئی مقتدی اپنے امام کی حرکتوں کا مذاق بناے اس کے لیے کیا حکم ہے




اگر کوئی مقتدی اپنے امام کی حرکتوں کا مذاق بناے  اس کے لیے کیا حکم ہے


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کسی مسلمان کی مذاق اُڑانا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے تکلیف ہوتی ہے اور مسلمان کو بلا وجہ شرعی تکلیف دینا ناجائز وحرام ہے۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں جو شخص امام صاحب کی بلا وجہ شرعی مزاق اُڑاتا ہے، تو اسے چاہئے کہ امام صاحب سے معافی مانگے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرے۔ اور اگر پسِ پُشت امام صاحب کے پوشیدہ عُیوب کو برائی کے طور پر ذکر کرتا ہے تو یہ غِیبت ہے اور بِلا حاجتِ شرعی کسی بھی مُسلمان کی غیبت کرنا سخت ناجائز و حرام ہے قرآن و حدیث میں غیبت کی سخت بعیدیں آئی ہیں لہذا اس حرام سے بچنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اس شخص کی امام صاحب کے پیچھے نماز ہو جائے گی جبکہ کوئی وجہ مانع امامت نہ ہو۔

کسی مسلمان کو بلا وجہ شرعی تکلیف دینا جائز نہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:” وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ (58) “ ترجمہ:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔ (القرآن الکریم، الأحزاب، آیت:58)

حدیث پاک میں ہے، حضور ﷺ فرماتے ہیں:”مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَ مَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ‘‘ یعنی جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔(معجم الاوسط، باب السین، من اسمه: سعید، 2/386، الحدیث:3607)

امامِ اَجل رافعی نے سیّدنا علی کَرَّمَ اللہ وَجْہَہٗ سے روایت کی، مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا اَوْ ضَرَّہٗ اَوْ مَاکَرَہٗ‘‘ یعنی وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے یا تکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکرکرے۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف المیم، المکر والخدیعة، 2/218، الحدیث:7822، الجزء الثالث)

غیبت کی مذمَّت کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:” وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(12) “ ترجمہ:اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (القرآن الکریم، ألحجرات، آية:12)

حدیث پاک میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں:عن أبی ہریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال أتدرون ماالغیبة قالوا اللہ ورسولہ أعلم قال ذکرک أخاک بما یکرہ قیل أفرأیت ان کان فی أخی ما أقول قال ان کان فیه ما تقول فقد اغتبته وان لم یکن فیه ما تقول فقد بهته‘‘ یعنی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیاتم جانتے ہوکہ غیبت کیاچیزہے؟ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی زیادہ جانتے ہیں۔ ارشادفرمایا ’’تم اپنے بھائی کاوہ عیب بیان کرو جس کے ذکرکو وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی: اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جسے میں بیان کرتا ہوں۔ ارشاد فرمایا:تم جوعیب بیان کررہے ہو اگروہ اس میں موجود ہوجب ہی تو وہ غیبت ہے اوراگر اس میں وہ عیب نہیں ہے تو پھر وہ بہتان ہے۔ ( مسلم، کتاب البرّ والصّلة والآداب، باب تحریم الغیبة، صفحہ:1397، الحدیث:70(2598)

دوسری حدیث شریف ہے:عن أبی سعید و جابر قالا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الغیبة اشد من الزنا قالوا یارسول اللہ وکیف الغیبة اشد من الزنا قال ان الرجل لیزنی فیتوب فیغفر اللہ له وان صاحب الغیبة لا یغفر له حتی یغفرھا له صاحبه ‘‘ یعنی حضرت ابوسعید اور حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’ غیبت زِنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے۔ لوگوں نے عرض کی، یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، غیبت زنا سے زیادہ سخت کیسے ہے؟ارشاد فرمایا ’’مرد زِنا کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبو ل فرماتا ہے اور غیبت کرنے والے کی تب تک مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے۔( شعب الایمان، الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ، فصل فیما ورد... الخ، 5/306، الحدیث: 6741)

غیبت کی تعریف بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اَعظَمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْه لکھتے ہیں:”غیبت کے یہ معنیٰ ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔“ (بہارِ شریعت، جلد:3، حصہ:16،صفحہ:532، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


گانے کی طرز پر نعت پڑھنا کیسا ہے.؟اس کو ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے  کلک کریں 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.