کیا اسلام میں دشواری ہے؟


کیا اسلام میں دشواری ہے؟

کیا اسلام میں دشواری ہے؟

کیا دین مُشکل ہے؟

الحمد للہ ہمارا پیارا دین متین إسلام مکمل ضابطہ حیات اور آسانی پرور مذہب ہے۔ جو سابقہ اُمَم اور دیگر اَدیَان کے بمقابل سہولیات فراہم کرنے والا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ”دین بہت مُشکل ہے“ جو بے بنیاد اور پروپیگنڈہ ہے۔ آئیے اوّلاً قرآن وحدیث کی طرف نظر کرتے ہیں کہ وہ ہماری کیا رہنمائی کرتے ہیں؟

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”﴿لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ (القرآن الکریم، سُوْرَۃُ الْبَقَرَة، آيت:286)

یعنی اللہ تعالیٰ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، لہٰذا غریب پر زکوٰۃ نہیں، نادار پر حج نہیں، بیمار پر نماز میں قیام فرض نہیں، معذور پر جہاد نہیں الَغَرض اس طرح کے بہت سے اَحکام معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ (صراط الجنان، البقرة، تحت الآية:286)

اور فرماتا ہے:”﴿یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘.﴾ یعنی اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔ (القرآن الکریم، سُوْرَۃُ الْبَقَرَة، آيت:185)

یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت ہم پر فرض فرمائی لیکن اپنی رحمت سے ہم پرتنگی نہیں کی بلکہ آسانی فرماتے ہوئے متبادل بھی عطا فرما دئیے۔ روزہ فرض کیا لیکن رکھنے کی طاقت نہ ہو تو بعد میں رکھنے کی اجازت دیدی، بعض صورتوں میں فدیہ کی اجازت دیدی، کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر ورنہ لیٹ کر اشارے سے پڑھنے کی اجازت دیدی، ایک مہینہ روزہ کا حکم فرمایا تو گیارہ مہینے دن میں کھانے کی اجازت دیدی اور رمضان میں بھی راتوں کو کھانے کی اجازت دی بلکہ سحری و افطاری کے کھانے پر ثواب کا وعدہ فرمایا۔ گنتی کے چند جانوروں کا گوشت حرام قرار دیا تو ہزاروں جانوروں، پرندوں کا گوشت حلال فرما دیا۔ کاروبار کے چند ایک طریقوں سے منع کیا تو ہزاروں طریقوں کی اجازت بھی عطا فرما دی۔ مرد کو ریشمی کپڑے سے منع کیا تو بیسیوں قِسم کے کپڑے پہننے کی اجازت دیدی۔ الغَرَض یوں غور کریں تو آیت کا معنیٰ روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر آسانی چاہتا ہے اور وہ ہم پر تنگی نہیں چاہتا۔ (صِراطُ الجِنَان، البقرة، تحت الآية:185)

اور ارشاد فرماتا ہے:”﴿لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:کچھ زبردستی نہیں دین میں۔ (القرآن الکریم سُوْرَۃُ الْبَقَرَة، آيت:256)

اور فرماتا ہے:”﴿مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ (القرآن الکریم، سُوْرَۃُ الْحَجّ، آيت:78)

یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی بلکہ ضرورت کے موقعوں پر تمہارے لئے سہولت کر دی جیسے کہ سفر میں نماز قَصر کرنے اور روزہ نہ رکھنے کی اجازت دے دی اور پانی نہ پانے یا پانی کے نقصان پہنچانے کی حالت میں غسل اور وضو کی جگہ تیمم کی اجازت دی، تو تم دین کی پیروی کرو۔ (صراط الجنان، الحج، تحت الآية:78)

حدیث پاک میں ہے:”عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال:«إن الدين يسر.»“ یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے روایت ہے، حضور ﷺ نے فرمایا:بے شک دین بہت آسان ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الإيمان، باب الدين يسر، الحديث:39، المجلد الأول، صفحة:20)

اس حدیث پاک کے تحت عمدة القاری“ میں ہے:”لأن الله تعالى رفع عن هذه الأمة الإصر الذي كان على من قبلهم، كعدم جواز الصلاة في المسجد، وعدم الطهارة بالتراب، وقطع الثوب الذي يصيبه النجاسة، وقبول التوبة بقتل أنفسهم ونحو ذلك. فإن الله تعالى من لطفه وكرمه رفع هذا عن هذه الأمة رحمة لهم، قال الله تعالى : ﴿مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ.﴾ [الحج:٧٨].“ یعنی کیونکہ اللہ پاک نے اِس اُمّت سے اس دشواری کو اٹھا لیا جو پچھلی اُمّتوں پر تھی جیسے مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہ ہونا، مٹّی سے پاک نہ ہونا اور اُس کپڑے کو کاٹنا جو ناپاک ہو جائے، اور اپنی جانوں کو قتل کرکے توبہ کا قبول (نہ) ہونا وغیرہ۔ تو اللہ پاک نے اپنے لطف و کرم سے اس اُمَّت پر رحم فرماتے ہوئے اُن تمام سختیوں کو دُور فرما دیا۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب الإيمان، باب الدين يسر، الجزء الأول، صفحة:348، مطبوعة دار الفكر)

دوسری حدیث پاک میں ہے:”عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:«يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا» یعنی آسانیاں پیدا کرو اور تنگی نہ کرو خوشخبری سناؤ اور متنفر نہ کرو۔ (صحیح بخاری)

فقیہِ اعظم ہند، مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَةُ اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ ”بشروا ولا تنفروا “ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”بشارت کے معنی اچھی خبر دینا۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نومسلم ہیں یا جو بچے قریب البلوغ ہیں، انہیں دین کا رفتہ رفتہ پابند بناؤ۔ والیانِ مملکت اور حکام پر لازم ہے کہ لوگوں پر شفقت ومہربانی رکھیں، اُن پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ لوگوں کو اللہ کی رحمت، اُس کے فضل وکرم کی امید دلائیں، لوگوں کے سامنے اُس کے وسعتِ کرم ورحم کو بیان کریں، صرف اُس کی شانِ قہر وجلال نہ بیان کریں، ایسا برتاؤ نہ کریں کہ لوگ بھڑک اٹھیں۔ (نزھة القاری شرح صحیح بخاری، جلد:1، صفحہ:421)


اب آئیے ہم اپنی زندگی کے معاملات میں غور وخوص کرتے ہیں کہ ہم پر کیا کیا دشواریاں عائد ہوتی ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلے بیٹھنا، کھڑا ہونا، چلنا اور دوڑنا سیکھتا ہے پھر چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اسکول جاتا، محنت سے پڑھائی کرتا، اسکول سے واپسی پر ٹیوشن پڑھتا، وہاں یا گھر پر ہوم ورک کرتا، اسباق سمجھتا، یاد کرتا اور دن رات ایک کرکے امتحانات کی تیاری کرتا ہے۔ محنت کا یہ سلسلہ عموماً 12، 14 یا 16 سال جاری رہتا ہے۔ پھر اِس تعلیم میں بھی اگر سائنس، میڈیکل، انجیئنرنگ وغیرہ کے اسٹوڈنٹس کو دیکھیں تو مشقّت کا حقیقی معنی پتہ چل جاتا ہے کہ نہ دن کا پتہ اور نہ رات کی خبر، بندہ ہے اور کتابیں، کالج کی دوڑ ہے اور پاس ہونے کی فریادیں۔ کیا یہ مشقت دین پر عمل کی مشقت سے کم ہے؟ نہیں نہیں، بہت زیادہ ہے۔ اِسی طرح پھر نوکری لگنے کے معاملات، کاروبار کا معاملہ، شادی کو دیکھ لیں، اس وقت کوئی کلام نہیں کرتا جبکہ دینی معاملات کو بہت بڑی مشکل کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے۔


آج کل ہماری بہنیں پردہ کرنے کو کہتی ہیں کہ ہمیں گھر کی چہار دیواری میں قید کر دیا ہے، لیکن اُنہیں معلوم نہیں ہے کہ اس میں اُن کی عِفّت اور حفاظت ہے جو چیز قیمتی ہوتی ہے اسے سرِ عام نہیں بلکہ الماری میں لاک کرکے رکھا جاتا ہے تاکہ وہ چوری سے محفوظ رہے۔

اسلام نے ہمیں جن چیزوں کا حکم دیا ہے وہ ہم پر ظلم نہیں بلکہ اس میں ہماری Safety ہے۔ اسے یوں سمجھیں: جب ہم روڈ پر ڈرائو کرتے ہیں تو ہمیں اس کے قانون کی پاسداری کرنی پڑتی ہے مثلاً اگر ہم کار چلا رہے ہیں تو سیٹ بیلٹ لگانی ہے، اتنی اسپیڈ سے چلانی ہے، اِسموکنگ یا شراب نوشی نہیں کرنی ہے، بائیں سائڈ پر رہنا ہے ہائ وے ٹرافک کو فالو کرنا ہے تو اس میں ہم پر پابندی نہیں بلکہ ہماری سیفٹی ہے۔

اللہ پاک ہمیں حق سننے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین۔

طالبِ دعا:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.