انسانی زندگی میں تعلیم کی اہمیت


انسانی زندگی میں تعلیم کی اہمیت| غریب نواز چشتی عبیدی


انسانی زندگی میں تعلیم کی اہمیت 

از قلم: محمد غریب نواز چشتی عبیدی 

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

انسانی زندگی کی کامیابی، عروج،ترقی، اور نجات کا سب سے روشن ذریعہ تعلیم ہے۔ تعلیم وہ روحانی مشعل ہے جو جہالت کی تاریکیوں کو علم کی روشنی سے منور کرتی ہے۔ یہی وہ نعمتِ عظمیٰ ہے جس نے انسان کو حیوانی جبلت اور درندگی خصلت سے نکال کر تہذیب و ثقافت ،اخلاق و کردار، اور فہم و شعور کے منازل سے ہمکنار کیا۔ تعلیم نہ صرف عقل کو جِلا بخشتی ہے، بلکہ روح کو تسکین،جسم کو تنظیف معاشرے کو ترتیب، اور اقوام کو تقویت عطا کرتی ہے۔قرآنِ مقدس کی ابتدائی وحی "اِقْرَأْ" — پڑھ! — سے اس حقیقت کی واضح دلیل ملتی ہے کہ اسلام کا آغاز ہی علم و ادب کے پیغام سے ہوا۔ علم کا درجہ اس قدر بلند و بالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کو فرشتوں پر فضیلت عطا کی، اور نبی کریم ﷺ کو "معلّمِ انسانیت" کا پیکرِ کامل بنا کر اس دار گیتی میں مبعوث فرمایا۔ تعلیم محض الفاظ و عبارات اور زیر و زبر کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی فکری و اخلاقی تربیت ہے جو انسان کو اپنی حقیقت، اپنی ذمہ داری، اور اپنے مقصدِ حیات کا شعور عطا کرتی ہے۔دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر وہ قوم جو تعلیم سے وابستہ ہوئی، تعظیم وتکریم اور قیادت وسیادت کے منصب پرفائز ہوئی؛ اور ہر وہ قوم جو تعلیم سے محروم رہی، ذلت و رسوائی،شکستگی و پسماندگی اور غلامی کا شکار ہوئی۔ تعلیم انسان کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو روح جسم کے لیے۔ اس کے بغیر انسان نہ اپنی ذات کی معرفت حاصل کرسکتا ہے، نہ اپنے خالق سے رابطہ قائم کر سکتا ہے، اور نہ ہی اپنی نسل کو تہذیب و تمدن کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔آج جب دنیا ٹیکنالوجی، سائنس، اور معاشیاتی ترقی میں آگے بڑھ رہی ہے، تو اس کی پشت پر وہ علمی بنیادیں ہیں جنہیں اقوام نے صدیوں کے غور و خوض ، تفکر و تدبر اور علمی تجربات سے حاصل کیا۔ مگر اس کا آغاز کہاں سے ہوا؟ علم و ہنر کی قندیل سب سے پہلے کہاں فروزاں ہوئی؟ اور انسان نے تعلیم کی کرنوں کو پہلی بار کب محسوس کیا؟ انہی سوالات کا جواب ہمیں انسانی تاریخ کے اوراق میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے،جس کے ذریعے ہم تعلیم کی افادیت کو محسوس کر سکتےہیں اور علم کی حقیقت کو پہچان سکتےہیں۔تو آئیے سب سے پہلے ہم تاریخی تناظر میں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتےہیں۔

انسانی فطرت وجبلت کا ایک بنیادی تقاضا علم کا حصول ہے۔ جب انسان نے غاروں سے نکل کر تہذیب و ثقافت کی دنیا میں قدم رکھا، تو اس کے اندر تجسس و تفحص ،تلاش و جستجو اور فہم کی روشنی پیدا ہونے لگی۔ یہیں سے تعلیم کا پہلا چراغ روشن ہوا۔ تاریخِ عالم کی پہلی باقاعدہ علمی و تہذیبی کوششوں کا سراغ ہمیں ایران اور روم کی قدیم سلطنتوں میں ملتا ہے۔ایران، جسے فارس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، تاریخِ انسانی کا ایک قدیم علمی مرکز رہا ہے۔ زرتشتی تعلیمات، حکمتِ فارس، دارا و کوروش کے عدالتی و انتظامی نظام ، سب اس بات کے گواہ ہیں کہ اہلِ ایران نے علم و حکمت کو صرف مذہبی دائرۂ کار تک محدود نہ رکھا بلکہ طبی، فلسفی، منطقی اور عدالتی میدانوں میں بھی زبردست پیش رفت کی۔ایران میں تعلیم کا آغاز ملی اور مذہبی ادارہ جات سے ہوا، جہاں ”آویستا“ جیسے متون کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس کے بعد بادشاہوں نے علمی مراکز،ادبی دبستانات ،کتب خانے اور طبی ادارے قائم کیے۔ ایرانیوں کے ہاں نجوم، طب، منطق اور فلسفہ جیسے علوم کو عزت دی جاتی تھی۔ "گندھیشاپور" کا طبی مدرسہ ،جو بعد میں اسلامی دنیا میں بھی مشہور ہوا — ایران کی علمی عظمت کا نمونہ تھا۔دوسری جانب رومی سلطنت جو یورپ، افریقہ اور ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی، علم و فن، فلسفہ و سیاست اور قانون و اخلاقیات کی امین رہی ہے۔ رومیوں نے یونانی فلسفے کو جذب کیا، اور سقراط، افلاطون، ارسطو اور جالینوس جیسے مفکرین کی تعلیمات کو ادارہ جاتی سطح پر عام کیا۔رومی تعلیم کا مقصد نہ صرف علم کا حصول تھا بلکہ عملی زندگی کی تربیت بھی تھی۔ ان کی جامعات، لائبریریاں اور علمی مجالس، انسانی ذہن کو فکر و تدبر کی جانب مائل کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ رومی سلطنت میں تعلیم یافتہ طبقہ نہ صرف حکومتی انتظام چلاتا تھا بلکہ معاشرتی زندگی کی اقدار کو بھی مرتب کرتا تھا۔یہ ایران و روم ہی تھے جن سے علم کی خوشبو عرب کی سرزمین میں پہنچی ۔ عرب، جو اس وقت ایک غیر منظم، قبائلی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ علاقہ تھا، وہاں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ مکہ و مدینہ جیسے مرکزی شہروں میں بھی پڑھے لکھے افراد نایاب تھے۔ مگر جو چند افراد تعلیم سے آشنا تھے، ان کی علمی نسبت کہیں نہ کہیں ایران یا روم سے جا ملتی تھی۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ قبل از اسلام، جزیرہ نمائے عرب میں علم و ادب اور تعلیم و تعلم کی باقاعدہ روایت نہیں تھی، مگر آس پاس کی تہذیبوں کا اثر وہاں تک پہنچ چکا تھا۔ایران و روم کی تہذیبوں نے تعلیم کو ایک باقاعدہ سماجی و تہذیبی فریضہ بنایا، اور ان کے اداروں نے انسانیت کو پہلی بار سوچنے،سمجھنے، لکھنے،پڑھنے اور سیکھنے کی آزادی عطا کی۔ یہی ابتدائی تعلیم کی روایت بعد میں اسلام کے زیر سایہ ایک انقلابی تعلیمی نظام کی صورت اختیار کرتی ہے، جس کا آغاز اب ہم "اسلام کے تصورِ تعلیم" سے کرتے ہیں۔

جب ہم تاریخِ انسانی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے کئی ادوار اور تصورات نظر آتے ہیں، لیکن اسلام کا تصورِ تعلیم سب سے زیادہ ہمہ گیر، جامع اور انقلاب آفریں نظر آتا ہے۔ وہ دین جس کی پہلی وحی ہی "اِقْرَأْ" یعنی "پڑھ!" کے لفظ سے شروع ہوئی ہو، اس کا مزاج علم و ادب سے کتنا گہرا تعلق رکھتا ہے، اس کا اندازہ قرآن و احادیث کے ذخیرے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلی وحی "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" (العلق: 1) نازل ہوئی، جو تعلیم کی اولین بنیاد ہے۔ قرآن پاک میں تقریباً 750 سے زائد مقامات پر علم،شعور،حکمت،بصیرت، تدبر،تفکر،تعقل،تأمل اور تفقہ کی دعوت دی گئی ہے۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کا علم سے کیا تعلق ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ"ترجمہ: "کہہ دیجیے، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (الزمر: 9) دوسری جگہ ارشاد فرمایا ہے فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اہل علم سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ہو۔مذکورہ آیتیں اس بات کی عقدہ کشائی کررہی ہیں کہ تعلیم وتعلم کے ساتھ انسانی زندگی کا ناطہ آج سے نہیں بلکہ روز اول سے ہی ہے۔اس ربط کا مطلب ہی یہ اشارہ کر رہاہے کہ انسانی زندگی میں تعلیم کی اہمیت و افادیت مسلم ہے،جس کا انکار نہیں کیا جاسکتاہے۔

اسلام کے علم دوست مزاج کی سب سے انقلابی مثال ہمیں غزوۂ بدر کے بعد ملتی ہے۔ جب کفارِ مکہ کے 70 قیدی مدینہ لائے گئے تو ان میں بعض ایسے افراد بھی تھے جو پڑھے لکھے تھے، مگر فدیہ دینے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے ایک ایسا فیصلہ فرمایا جو تاریخِ انسانی میں تعلیم کی توقیر کا بے مثال نمونہ ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا: "جو قیدی مسلمانوں کے دس بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے، وہ آزاد کر دیا جائے گا۔“ یہ تعلیم ہی کا اعزاز تھا کہ مالی معاوضے کے بجائے علمی خدمات کو فدیہ قرار دیا گیا۔ اس وقت مدینہ منورہ میں تعلیمی وسائل محدود تھے، مسلمان نووارد تھے، جنگی خطرات لاحق تھے، اور مالِ غنیمت کی اشد ضرورت تھی۔ اس کے باوجود اسلام نے تعلیم کو مال و زر پر ترجیح دی۔یہ فیصلہ صرف ایک حکمتِ عملی نہ تھا بلکہ ایک فکری اعلان تھا کہ اسلام کی بنیاد علمی،ادبی اور فکری عمارت پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صرف قرآن نہیں سکھایا، بلکہ دنیا کو تحمل وبردباری ،عدل و انصاف تحقیق و تدقیق، تربیت و نگہداشت اور تہذیب بھی عطا کی۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "طلب العلم فریضة علیٰ کل مسلم و مسلمۃ“ترجمہ: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔"یہ حدیث تعلیم کے دائرے کو صرف مردوں تک محدود نہیں کرتی، بلکہ خواتین کو بھی برابر کاشریک بناتی ہے۔ یہ بات اس وقت کہی جا رہی تھی جب دنیا کے بڑے بڑے مہذب معاشرے عورت کو تعلیم کے قابل ہی نہیں سمجھتے تھے۔ایسے وقت میں بھی تعلیم کی طرف تلقین فرمانا اس بات کا غماز ہے کہ تعلیم کے بغیر انسانی زندگی ادھوری اور نامکمل ہے۔

جنگِ بدر کے واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ اسلام میں تعلیم صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ ترجیح اول ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب قومیں اپنے نونہالوں کو زیورِ علم اور نگینہاے فن سے آراستہ کرتی ہیں تو دراصل وہ مستقبل کی فکری قیادت تیار کر رہی ہوتی ہیں۔ تعلیم ہی وہ اسلحہ ہے جس سے مسلمان نہ صرف جہالت کا مقابلہ کرتے ہیں بلکہ تہذیبی بقا، اخلاقی اصلاح اور تمدنی ترقی کے قلعے بھی فتح کرتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد جب خلافتِ راشدہ کا آغاز ہوا، تو یہ وہ دور تھا جس میں اسلام کو نہ صرف سیاسی استحکام حاصل ہوا بلکہ علمی بنیادوں پر بھی ایک بھرپور تمدنی سفر کا آغاز ہوا۔ خلفائے راشدین نے جس حکمت، بصیرت اور دوراندیشی سے اسلام کی علمی میراث کو محفوظ کیا، وہ آج تک اہلِ علم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران جنگِ یمامہ میں جب بڑی تعداد میں قرآن کے حافظ صحابہ شہید ہو گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے سے قرآن کریم کو باقاعدہ ایک مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ ایک تاریخی علمی اقدام تھا جس کی قیادت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کی۔یہ فیصلہ اُس وقت کیا گیا جب نہ کوئی یونیورسٹی تھی، نہ کوئی اکیڈمی، اور نہ ہی کوئی ڈیجیٹل نظام، مگر اس علم کو نسلوں تک پہنچانے کے لیے اس کے تحفظ کو اولین فریضہ سمجھا گیا۔ اس سے اسلام کے علم پرور مزاج کی بنیاد مضبوط ہوئی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا دور کہلاتا ہے۔ جہاں سیاسی و انتظامی توسیع ہوئی، وہیں تعلیم و تربیت کے ادارے بھی قائم ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے:مختلف علاقوں میں قاضی اور معلمین مقرر کیے؛مساجد کو تعلیمی مراکز کا درجہ دیا؛باقاعدہ دیوانی نظام میں تعلیم یافتہ افراد کو ذمہ داریاں دیں؛مدینہ منورہ میں تعلیم کے اوقات اور اصول مقرر کیے۔حضرت عمر کا فرمان تھا:"جو شخص دین کا علم نہ رکھتا ہو، وہ ہمارے فیصلوں میں شریک نہیں ہو سکتا۔"اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کا انتظامی ڈھانچہ بھی علم کی بنیاد پر تشکیل پاتا تھا۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فتوحات کے نتیجے میں اسلامی سلطنت کا دائرہ وسیع ہوا، تو مختلف علاقوں میں قرآن کے تلفظ اور قراءت میں اختلاف پیدا ہونے لگا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے:حضرت زید بن ثابت اور دیگر صحابہ کی نگرانی میں سرکاری نسخۂ قرآن تیار کروایا؛دیگر تمام غیر مستند نسخے تلف کرا دیے؛ایک مرکزی تعلیمی اور تلاوتی معیار قائم کیا۔یہ کارنامہ اسلامی تعلیمات کے اتحاد، بقاء، اور عالمگیریت کی ضمانت ہے۔اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں سیاسی فتنوں کی شدت تھی، لیکن ان کی شخصیت علمی و فکری عظمت کا پیکر تھی۔ آپ نے:کوفہ کو ایک علمی مرکز بنایا؛خطابت، فقہ، قضا اور حدیث میں بے مثال مہارت کے نمونے چھوڑے؛طلبا و علما کی سرپرستی فرمائی؛اور خود قرآن و حدیث کے ایسے گہرے معانی بیان کیے کہ آپ کو باب العلم کا لقب دیا گیا ۔خلفائے راشدین کا دور علمی شعور، تعلیمت ترویج، اور اسلامی میراث کے تحفظ کا وہ سنہرا باب ہے، جس نے نہ صرف مسلمانوں کی فکری بنیاد رکھی، بلکہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک عملی تعلیمی نظام بھی تشکیل دیا۔ ان خلفا نے یہ ثابت کیا کہ اسلامی حکومت کی اصل روح عدل، علم، اور تربیت ہے۔


خلافتِ راشدہ کے بعد جب خلافت، بنو اُمیہ کے ہاتھ میں آئی تو مسلم دنیا کے سیاسی اور جغرافیائی دائرۂ کار میں غیر معمولی وسعت پیدا ہوئی۔ یہ وسعت محض عسکری فتوحات تک محدود نہ رہی، بلکہ علم، ثقافت اور تمدن کے میدان میں بھی ایک نیا باب رقم ہوا۔ بنو اُمیہ کے حکمرانوں نے اپنے عہد میں علمی مراکز کی سرپرستی، کتب و تدوین، اور اہلِ علم کی عزت افزائی کو حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا۔بنو اُمیہ کا عہد 661ء تا 750ء تک قائم رہا، جس میں:فتوحاتِ اسلامی اسپین (اندلس)، شمالی افریقہ، ماوراء النہر اور ہندوستان تک پھیلیں؛ہر نئی قوم کے ساتھ نئے علوم و افکار اسلامی تہذیب میں شامل ہوئے؛کثیر اللسان اور کثیر التہذیب کے ذریعے امتِ مسلمہ میں علمی ہم آہنگی کی کوششیں کی گئیں۔یہ وہ وقت تھا جب اسلام ایک مذہب سے بڑھ کر تہذیب، ریاست، اور عالمی نظام کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔بنو اُمیہ کے کئی خلفا نے علمی خدمات انجام دیں، جن میں عبدالملک بن مروان، ولید بن عبدالملک، اور عمر بن عبدالعزیز کے ادوار نمایاں ہیں۔ عبدالملک بن مروان خود ایک جید عالم اور فاضل جلیل شخص تھے؛ جنھوں نے عربی کو سرکاری زبان بنایا،دیوانی نظام کو تحریری و دفتری شکل دی؛مسجدوں میں تعلیم و تدریس کا باقاعدہ اہتمام کیا۔ولید بن عبدالملک:طب، تعمیرات اور تعلیم میں ترقی کے خواہاں تھے؛ہسپتالوں (بیمارستان) کا قیام کیا؛معذوروں، نابیناؤں اور مریضوں کے لیے وظائف مقرر کیے؛ان اداروں سے تعلیم یافتہ معالج، معلم اور خطیب پیدا ہوئے۔عمر بن عبدالعزیز:بنو اُمیہ کے سب سے عادل اور علم دوست خلیفہ تھے؛آپ نےحدیثِ نبوی کی سرکاری سطح پر تدوین کا آغاز فرمایا؛امام ابن شہاب الزہری جیسے محدثین کو باقاعدہ تحریری حدیث جمع کرنے کا حکم دیا؛مکاتب، مدرسے اور تعلیمی نظام کو ریاستی سطح پر منظم کیا؛آپ نے فرمایا"علم کو بغیر سند کے نقل نہ کیا جائے، اور ہر راوی کی دیانت و امانت کو جانچنے کا اہتمام کیا جائے۔"بنو اُمیہ کے دور میں اسلامی دنیا میں:خطاطی، لغت، شعر، تاریخ، سیرت، فقہ اور حدیث جیسے علوم کی بنیادیں مضبوط ہوئیں؛ادب، بلاغت، اور خطابت کو فروغ ملا؛تاریخ نگاری کی ابتداء ہوئی؛اور غیر مسلم مفکرین کے ساتھ علمی مکالمات کا آغاز ہوا۔دمشق بنو اُمیہ کا دارالحکومت تھا، جو علم، ادب اور فن کا مرکز بن گیا؛مدینہ و کوفہ میں حدیث و فقہ کی درسگاہیں جاری رہیں،اندلس (اسپین) میں تعلیم و تربیت کی جڑیں نمودار ہو رہی تھیں،ہر طرف علمی غلغلے اور ادبی طنطنے کا دور دورہ تھا۔

بنو اُمیہ کا دور، اگرچہ بعض سیاسی تنازعات کا شکار بھی رہا، مگر علمی پالیسیوں اور ریاستی ادارہ سازی کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس عہد میں علم کو پہلی بار ایک منظم ریاستی نظام کے تحت فروغ دیا گیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے علم کو سیاسی وحدت، تہذیبی ہم آہنگی اور دینی تفہیم کا ذریعہ بنایا اور اس پر حتی الوسع عمل پیرا رہا۔

بنو عباس کا سنہرا عہد

اگر بنو اُمیہ کا دور علم کے بیج بونے کا زمانہ تھا تو بنو عباس کا دور ان بیجوں کے برگ و بار لانے کا عہد تھا۔ 750ء سے شروع ہونے والی عباسی خلافت نے نہ صرف اسلام کو سیاسی استحکام بخشا بلکہ علم و فن کے ہر شعبے میں ایک ہمہ گیر و ہمہ جہت انقلاب برپا کیا۔ عباسی دور کو بجا طور پر اسلامی نشاۃالثانیہ کا زمانہ کہا جاتا ہے، خصوصاً جب ہم بیت الحکمت جیسے اداروں کی روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔خلیفہ منصور،جسے مؤسسِ بغداد کہا جاتاہے؛علمِ فلکیات، ریاضی، اور طب سے خاص دلچسپی رکھتے تھے،دیگر ممالک کی کتابیں جو مختلف زبانوں میں تھیں ان کے تراجم کا اہتمام کیا؛ہندوستانی کتاب "سِدھّانت" کا عربی ترجمہ "السندہند" کے نام سے ہوا۔ہارون الرشید جو ایک جلیل القدر فاضل، عظیم ادیب، اور علم پرور خلیفہ تھے؛انھوں نے دارالحکمت کی بنیاد رکھی؛یورپ، ہندوستان، چین اور روم سے علماء، اور مترجمین کو بلاکر ان سے ترجمہ نگاری اور تدوین و تخریج کا فریضہ انجام لیا،اہلِ علم کو وظائف، اقامت، کتب خانے، تجربہ گاہیں اور ہر طرح کی سہولت مہیا کی گئی۔خلیفہ مامون الرشید: علمی رواداری، مناظرات، اور تحقیقی اداروں کے بانی اور سرپرست تھے۔انھوں نے بیت الحکمت کو عالمی تحقیقی مرکز میں بدل دیا؛اہلِ یونان، ایران، اور ہندوستان کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کروایا؛فلسفہ، منطق، طب، کیمیا، ہندسہ، علم النجوم میں زبردست ترقی ہوئی۔بغداد میں قائم ہونے والا یہ ادارہ: بیک وقت کتب خانہ، ترجمہ خانہ، مشاہدہ گاہ، اور علمی مجلس سب کچھ تھا۔ہزاروں نادر کتابیں جنہیں یونانی، سریانی، سنسکرت، عبرانی زبانوں سے عربی میں منتقل کیا گیا۔یہاں اہلِ یہود، نصاریٰ، مجوس اور مسلمان علماء ایک ساتھ کام کرتے تھے۔امام یعقوب الکندی، ابو نصر فارابی، جابر بن حیان، حنین بن اسحاق جیسے علما اسی کے فیض یافتہ تھے؛بیت الحکمت نے یورپ کے نشاۃ الثانیہ کو جنم دیا، کیونکہ بعد میں انہی تراجم کو یورپ نے لاطینی میں ترجمہ کیا۔ابو بکر الرازی اور ابن سینا نے عباسی دور میں اپنے عظیم طبی انسائیکلوپیڈیا لکھے۔"القانون فی الطب" (ابن سینا) آج بھی عالمی طب میں حوالہ جاتی حیثیت رکھتا ہے۔الخوارزمی نے "الجبرا" کی بنیاد رکھی (کتاب: "الکتاب المختصر فی حساب الجبر و المقابلہ")؛آج لفظ "Algorithm" انہی کے نام سے منسوب ہے۔البیرونی، الفزاری، اور دیگر علما نے فلکی علوم میں تحقیق کی؛زمین کے قطر، چاند کی گردش، اور سال کے حسابات طے کیے۔یونانی فلسفے کی اسلامی تعبیر پیش کی گئی؛فارابی، کندی، اور ابن رشد نے عقل و وحی کے مابین ربط پیدا کیا۔امام جاحظ، ابن قتیبہ، ابن ہشام، بلاذری، طبری جیسے ادباء اور مؤرخین نے تاریخ، سیرت، ادب، اور تذکرہ نگاری کو عروج دیا۔جب 1258ء میں ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو یہ سنہری دور اپنے اختتام کو پہنچا۔بیت الحکمت کی ہزاروں کتابیں دجلہ میں پھینک دی گئیں۔کہا جاتا ہے: "دریائے دجلہ کا پانی سیاہی کی کثرت سے سرخ ہو گیا تھا!"یہ ایک ایسی سانحاتی علمی داستان ہے جو آج بھی اہلِ علم کے دلوں کو زخمی کرتی ہے۔عباسی دور نے تعلیم کو محض عبادت یا مذہبی فریضہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے ریاستی ترقی، تہذیبی بالیدگی، اور انسانی فلاح کا ذریعہ بنایا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد دنیا کا علمی دارالحکومت تھا، اور مسلمانوں کے علم سے ہی یورپ کو روشنی ملی۔

اسلامی تاریخ کا ہر دور علم کے فروغ میں کسی نہ کسی پہلو سے نمایاں رہا ہے، لیکن اندلس (اسپین) اور نظام‌الملک طوسی کا کردار ادارہ جاتی تعلیم کی بنیاد رکھنے اور مربوط علمی نظام کی تشکیل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علم صرف انفرادی کاوش نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں قائم اداروں کے ذریعے پھیلایا جانے لگا۔711ء میں طارق بن زیاد کی قیادت میں اسپین (اندلس) فتح ہوا۔ اس کے بعد وہاں جو مسلم حکومت قائم ہوئی، اس نے علم و ادب اور تہذیب و تمدن میں ایسی ترقی کی کہ قرطبہ، غرناطہ، طلیطلہ اور اشبیلیہ جیسے شہر دنیا کے عظیم علمی مراکز بن گئے۔قرطبہ کی جامع مسجد نہ صرف عبادت گاہ تھی بلکہ ایک عظیم دانش گاہ تھی جہاں سے علم کی کرنیں پھوٹتی تھیں اور پوری دنیا کو تابناک کرتی تھیں ۔70 سے زائد لائبریریاں صرف قرطبہ میں موجود تھیں۔کتب خانوں، ترجمہ مراکز، تحقیقاتی ادارے،ہر مسجد میں مکتب، ہر مکتب میں درسِ قرآن، حدیث، منطق، طب، فلکیات، ادب اور فلسفہ کا اہتمام تھا۔ان تعلیمی اداروں سے ایسے ایسے جواہر پارے نکلتے تھے جو بین الاقوامی سطح پر اپنا علمی اور فکری علم نصب کرتے تھے ۔ابنِ رشد فلسفہ اور طب میں ماہر تھے۔ابنِ زہرکو جراحت اور ادویہ میں مہارت حاصل تھی۔القرطبی، ابن حزم، ابن خلدون تاریخ نگاری ، فقہ، سماجیات اور دیگر علوم و فنون میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے جس کی مثال دنیا پیش کررہی ہے۔

اندلس سے یورپ میں نشاۃ الثانیہ کی بنیاد پڑی۔لاطینی زبان میں عربی علوم کے تراجم ہوئے۔یونیورسٹی آف پادوا، سالرنو، اور پیرس کی بنیاد مذہبی علوم پر رکھی گئی۔نظام‌الملک طوسی (وفات: 1092ء) سلجوقی سلطنت کے وزیر اعظم تھے، اور ان کا شمار تاریخ اسلام کے عظیم منتظمین و سرپرستوں میں ہوتا ہے۔ ان کا سب سے عظیم کارنامہ " مدرسہ نظامیہ کا قیام ہے “ جس میں فقہ، اصول، کلام، منطق، فلسفہ، ادب، اور علومِ عقلی و نقلی کی تعلیم دی جاتی تھی؛مشاہیر اساتذہ میں امام غزالی رحمتہ اللّہ علیہ جیسے نابغۂ روزگار شامل تھے۔طلبہ کو وظائف، رہائش، خوراک، کتب تک مہیا کی جاتی تھیں۔نظام‌الملک فرمایا کرتے تھے:میں ایک ایسی فوج تیار کرنا چاہتا ہوں جو آسمانوں میں کمند ڈالے، اور وہ فوج علم سے بنے گی نہ کہ تلوار سے!"یہ قول ان کی علم دوستی اور ریاستی وژن کو آشکار کرتا ہے۔نظام‌الملک نے مدارس کو صرف تعلیم کا ادارہ نہیں بنایا بلکہ مذہبی تربیت، سماجی اصلاح، اور فکری رہنمائی کا مرکز بنایا۔طلبہ، اساتذہ، قاضی، مفکر، خطیب سب اسی نظامیہ سے نکل کر پورے عالمِ اسلام کی فکری قائد بنے۔اندلس اور نظام‌الملک طوسی کے ادوار نے ادارہ جاتی تعلیم کی بنیاد رکھی، جس میں تعلیم کو نہ صرف ایک عبادت سمجھا گیا بلکہ ریاست کی بقا، تہذیب کی تشکیل، اور امت کی فکری قیادت کا ستون بھی بنایا گیا۔ ان اداروں نے ایسی جامع شخصیات پیدا کیں جنہوں نے نہ صرف اسلام کو زندہ رکھا بلکہ یورپ کی اندھیر نگری کو علم کی شعاعوں سے میں روشن و منور کردیا ۔


عہدِ بنو عباس کے بعد مسلم علاقوں میں قائم ہونے والی مختلف خودمختار حکومتوں نے بھی علمی خدمات کا تسلسل قائم رکھا۔ فاطمی خلافت، جس نے مصر میں سیاسی و دینی اقتدار حاصل کیا، جامعہ ازہر جیسے عظیم ادارے کی بنیاد رکھی، جو آج بھی دینی و عصری تعلیم کا بین الاقوامی مرکز ہے۔ برامکہ خاندان، جو بنو عباس کے دور میں وزیرانہ اقتدار تک پہنچا،علم و فن کا سب سے بڑا سرپرست رہا۔ اسی طرح غزنوی سلطنت، ایوبی حکومت، اور نورالدین زنگی و عمادالدین زنگی کی قیادت میں مدارس، کتب خانے، اور علمی حلقے قائم کیے گئے، جنہوں نے فلسفہ، کلام، ریاضی، اور سائنس جیسے مضامین میں درجنوں جلیل القدر علما پیدا کیے۔ فارابی، ابن رشد، ابن سینا، ابن الہیثم، امام غزالی، اور نصیرالدین طوسی جیسے مفکرین نے ایسی تحقیقی بنیادیں فراہم کیں، جن پر بعد میں مغرب کی علمی اور ادبی عمارت قائم ہوئی۔ مگر مغرب نے ان علمی تراث کو خالص اسلامی نسبت سے الگ کر کے، اپنے علمی ورثے کے طور پر پیش کیا، یہاں تک کہ آج مسلم ذہن بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ سائنس، فلسفہ اور ترقی صرف مغرب کا عطیہ ہیں۔ درحقیقت، مغرب کی موجودہ علمی ترقی کی جڑیں مسلم مفکرین، مترجمین، اور سائنس دانوں کے ان کارناموں میں پیوست ہیں جنہوں نے نہ صرف علم کو محفوظ رکھا بلکہ اسے تجرباتی، نظریاتی اور ادارہ جاتی سطح پر منظم بھی کیا۔ یہی وہ میراث ہے جسے آج مسلم دنیا کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اپنی علمی اور تہذیبی شناخت کو ازسرنو حاصل کریں۔


تاریخِ انسانی کی ورق گردانی سے یہ ناقابلِ تردید حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ ہر وہ قوم جو علم، فن، تہذیب اور تعلیم سے وابستہ رہی، وہ نہ صرف اقوامِ عالم کی صف میں ممتاز رہی بلکہ فکری قیادت، تمدنی ارتقاء اور اخلاقی برتری کی حامل بنی؛ اور ہر وہ قوم جس نے تعلیم کی قدرو منزلت نہ پہچانی، یا اسے محض رسمی اور ظاہری مظہر سمجھا، وہ بالآخر ضلالت وگمراہی،ذلت و رسوائی اور فکری غلامی کے تاریک کھنڈرات میں جا گری۔ تعلیم، انسانی زندگی کی روحانی و عقلی تکمیل کا ذریعہ ہے؛ یہ انسان کو محض معلومات کا مجموعہ نہیں بناتی بلکہ اسے شعور، ادراک، بصیرت، تمییز اور فہمِ کائنات عطا کرتی ہے۔ یہی وہ اثاثہ ہے جو انسان کو حیوانی جبلّت سے نکال کر اشرف المخلوقات کے مقام تک لے جاتا ہے۔ تعلیم وہ شعاعِ نور ہے جس کے بغیر نہ فرد کی شخصیت مکمل ہو سکتی ہے، نہ معاشرہ معتدل ہو سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی قوم پائیدار ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ قرآنِ کریم کی سب سے پہلی آیت سے لے کر تاریخِ اسلام کی عظیم الشان علمی تحریکوں تک، ہر مرحلہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام کا مزاج سراسر علم دوست، اور اس کی فکری عمارت تعلیم و تعلم کی بنیاد پر استوار ہے۔اسلامی تعلیمات کا مرکز و محور علم ہی ہے — اور یہ علم محض الفاظ و عبارات کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا نورِ بصیرت ہے جو دل و دماغ کو جِلا بخشتا ہے۔ قرآن، حدیث، فقہ، علمِ کلام، منطق، فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا اور طبیعیات — یہ تمام علوم اسلامی تمدن کے وہ ستون ہیں جنہوں نے انسانیت کو جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر حکمت و دانش کے روشن آفاق سے روشناس کیا۔ علمِ قرآن انسان کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے، اُس کی بندگی کا شعور عطا کرتا ہے، اور کائناتی نظام کی حکمت سے آشنا کرتا ہے۔ علمِ حدیث نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو آئینہ بنا کر ہمارے اخلاق، عادات، معاشرت اور عبادات کو سنوارتا ہے۔علمِ فقہ ہمیں عملی زندگی کے مسائل میں شرعی رہنمائی دیتا ہے؛ علمِ کلام عقائد کی حفاظت کرتا ہے، اور فکری انحرافات سے امت کو بچاتا ہے۔ منطق و فلسفہ فکر کو گہرائی، دلیل کو مضبوطی اور ذہن کو تہذیب عطا کرتے ہیں۔ یہی وہ علوم ہیں جنہوں نے فارابی، ابن رشد، کندی، غزالی، رازی، ابنِ خلدون، اور ابنِ سینا جیسے نابغۂ روزگار پیدا کیے۔ جب ان علوم کو تعلیم کے نظام میں مرکزی حیثیت حاصل رہی تو مسلمانوں نے نہ صرف علم و فن میں دنیا کی قیادت کی، بلکہ یورپ کی تاریک صدیوں میں چراغِ راہ بنے۔یہی تعلیم جب تجرباتی علوم — یعنی سائنس، طب، فلکیات، انجینئرنگ — کے ساتھ ہم آہنگ ہوئی، تو اسلامی تہذیب ایک ایسی ہمہ گیر تمدن میں ڈھل گئی جو روحانیت، عقل، تجربہ، اور تہذیب کا حسین امتزاج بن گئی۔ علمِ طب نے انسانی جسم کی باریکیوں کو سمجھا، بیماریوں کے علاج دریافت کیے؛ علمِ فلکیات نے وقت، تقویم، قبلہ، اور سمندری راستوں کی تعیین کو ممکن بنایا؛ علمِ کیمیا و طبیعیات نے مادے کی فطرت کو جانا اور صنعت و حرفت کو جِلا بخشی۔ تعلیم کا یہی وہ جادوئی اثر ہے جس نے انسان کی زندگی کو ترتیب، جسم کو صحت، روح کو اطمینان، اور اقوام کو نظم و انصاف عطا کیا۔ تعلیم ہی وہ آلہ ہے جس سے جہالت کی زنجیریں توڑی جاتی ہیں، ظلمتوں کے قفل کھلتے ہیں، اور ایک نیا انسان جنم لیتا ہے — جو باکردار، بافکر، اور باعمل ہوتا ہے۔


پس تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت نظامِ تربیت ہے جو فرد کی شخصیت سے لے کر اقوام کی تعمیر تک ہر سطح پر اپنا اثر دکھاتا ہے۔ یہ وہ چشمۂ حیات ہے جس سے روحانی بالیدگی، عقلی پختگی، فکری آزادی، اور تمدنی شائستگی حاصل ہوتی ہے۔ اگر آج مسلم دنیا کو اپنی کھوئی ہوئی عظمت، قیادت اور تہذیبی مرکزیت کو بحال کرنا ہے تو اسے تعلیم ہی کو زینہ بنانا ہوگا۔ جدید تعلیم کے ساتھ دینی علوم کا امتزاج، ادارہ جاتی اصلاحات، تحقیق و تنقید کی راہیں، اور نوجوان نسل میں تعلیمی شعور کا بیدار ہونا — یہی وہ راستے ہیں جو امت کو پھر سے وہ مقام عطا کر سکتے ہیں جو اس کا مقدر تھا۔ تعلیم ایک مسلسل بیداری ہے، ایک انقلاب ہے، ایک فریضہ ہے — اور یہی فریضہ اگر اپنی روح، مشن، اور عظمت کے ساتھ ادا ہو تو انسانیت کے افق پر پھر وہی روشن صبح نمودار ہو سکتی ہے، جس کا سورج "اقْرَأْ" کی کرنوں سے طلوع ہوا تھا۔


تعلیم انسانیت کا وہ مقدس امان ہے جو ازل کی وحی سے لے کر ابد کے افق تک بشریت کی رہنمائی کا نشانِ تاباں رہی ہے۔ یہ صرف حروف و الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ وہ ربانی نور ہے جس نے خاک کو افلاک کا ہمدوش بنایا، اور اقوامِ عالم کو جہالت کے گہن سے نکال کر تہذیب کے آفتاب سے آشنا کیا۔تاریخِ اسلامی کا ہر ورق اس حقیقت کا گواہ ہے کہ علم صرف انفرادی ارتقاء کا زینہ نہیں، بلکہ اجتماعی فلاح، تمدنی نشاۃِ ثانیہ، اور اُمت کی بقا کا محور و مرکز ہے۔ یہی تعلیم تھی جس نے صحراؤں میں مکتبِ نبوت کی بنیاد رکھی، حرا کی خلوت کو جہانِ بشریت کا منارۂ ہدایت بنایا، اور جس کی پہلی صدا "اقْرَأْ" نے ایسے انقلاب کی بنیاد ڈالی جس کی روشنی قرونِ وسطیٰ کے اندھیروں کو چیر کر بغداد، قرطبہ، نیشاپور اور سمرقند کے گلی کوچوں تک جا پہنچی۔یہی وہ سرچشمہ ہے جس سے نظامیہ جیسے علمی مراکز نے غزالی و رازی جیسے فکری پہاڑ تراشے، اور یہی وہ فکری مشعل ہے جس کے سائے میں ابنِ رشد و ابنِ سینا جیسے دانشور پروان چڑھے۔ اگر آج مسلم دنیا کو اپنے کھوئے ہوئے وقار، وحدت، اور عالمی قیادت کی بازیافت مطلوب ہے تو اُسے پھر اسی درِ علم پر سرِ نیاز خم کرنا ہوگا — جہاں سے حکمت کی صدائیں بلند ہوئیں اور عقل و وحی کے سنگم پر تمدن کی نئی صبحیں طلوع ہوئیں۔علم محض ماضی کی عظمت کا نوحہ نہیں، بلکہ مستقبل کی تعمیر کا پیمبر ہے۔ یہی شعور، یہی بیداری، اور یہی فکری استقامت وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم نہ صرف اپنی شناخت کی بازیافت کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کو بھی نئی جہاتِ فکر و عمل سے روشناس کرا سکتے ہیں — کیونکہ تعلیم ہی وہ چراغ ہے جس کی لو سے ماضی کے قافلے فروزاں ہوئے تھے، اور جس کی روشنی آج بھی ہماری راہوں کو منور کر سکتی ہے۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

خوشحال سماج کے لیے مطلوب دینی نظام، ضرورت اور افادیت یہاں کلک کریں 


انسانی معاشرے میں فلم، ڈرامے کے پراگندہ اثرات یہاں کلک کریں 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.