بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

جس امام کے والد ناراض ہوں تو ان کو امام بنانا کیسا ہے


جس امام کے والد ناراض ہوں تو ان کو امام بنانا کیسا ہے
جس امام کے والد ناراض ہوں تو ان کو امام بنانا کیسا ہے 

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضرت ایک مسئلہ عرض کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے کہ جس کے والد اس سے ناراض ہوں اور ناراضگی کا سبب معلوم نا ہو..؟ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
محمد زید رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

اگر امام صاحب کے والد بغیر وجہِ شرعی کے ناراض ہوں تب تو کوئی حرج نہیں اور نہ ہی ان کی امامت میں فرق آئے گا۔ اور اگر کسی شرعی بنیاد پر ناراض ہوں تو فاسق ہوئے اور فاسق (معلن) کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ناراضگی کا اصل سبب معلوم نہیں لہذا ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے،کیونکہ مومن کے بارے میں بہتر گُمان رکھنا چاہئے۔

فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے، جیسا کہ ”غنیة المستملی“ میں ہے:قدموا فاسقا یاثمون، بناء علی ان کراھة تقدیمه کراھة تحریم.“ یعنی لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گناہ گار ہوں گے کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (غنیة المستملی شرح منیۃ المصلی، صفحة:442)

کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کے متعلق ”در مختار“ میں ہے:” كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها.“ یعنی ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو، اس کا اعادہ واجب ہے۔ (مختار مع رد المحتار، کتاب الصلوٰۃ، واجبات الصلوٰۃ، جلد:2، صفحہ:182)

بدگمانی کے متعلق ”قرآن پاک“ میں ہے:”﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے۔ (القرآن الکریم، سورۃ الْحُجُرٰت، آیت:12)

”اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہ تَعَالٰی عَلَيْهِ“ فرماتے ہیں:”مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تک ثبوتِ شرعی نہ ہو۔“ (فتاوی رضویہ، 6/486)

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:”مسلمانوں پر بدگمانی حرام اور حتّی الامکان اس کے قول وفعل کو وجہِ صحیح پر حمل واجب ہے۔“ (فتاوی رضویہ، 20/278)

والله تعالیٰ اعلم باالصواب 
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 

0 Response to "جس امام کے والد ناراض ہوں تو ان کو امام بنانا کیسا ہے"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->