اپریل فول (April fool) منانا کیسا ہے؟

اپریل فول (April fool) منانا کیسا ہے؟


اپریل فول (April fool) منانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


اپریل فُول (April Fool) کو ”جُھوٹ کا عالَمی دِن“ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس دن ایک دوسرے کو جھوٹ بول کر بے وَقُوف بنایا جاتا ہے اور اس کو ”اپریل فول“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یاد رہے! یہ ہمارا نہیں بلکہ غیر مسلموں کا تیوہار ہے جنہوں نے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا تھا لیکن افسوس! آج مسلمانوں نے اِسے اپنا تیوہار بنا لیا۔ شریعت میں یہ ناجائز و حرام ہے کیونکہ اس میں جھوٹ بولا جاتا اور جھوٹ بولنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا عَمَل ہے اگرچہ مزاق میں ہو۔ یونہی اس میں مومن کو ڈرایا جاتا ہے جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ اسی طرح اس میں مسلمانوں کو بےوقوف بنا کر دل آزاری کی جاتی ہے جو کہ ناجائز وحرام ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس سے بچنا لازم ہے۔

جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بدترین گناہ ہے۔ قرآنِ مجید میں بہت سی جگہوں پر جھوٹ کی مذمت فرمائی گئی اور جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”﴿اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں۔ (القرآن الکریم، سورۃ النَّحْل، آیت:105)

بکثرت اَحادیث میں بھی جھوٹ کی برائی بیان کی گئی ہے، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے:”إن الكذب يهدى إلى الفجور وإن الفجور يهدى إلى النّار وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذّاباً.“ یعنی بے شک جھوٹ گُناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنّم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (موسوعه ابن أبي الدنيا، ذم الكذب، جلد:5، صفحة:205، رقم:2)

امام مالک و بیہقی نے صفوان بن سلیم سے روایت کی، کہ رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا گیا:”أیکون المؤمن جبانا قال نعم فقیل له أیکون المؤمن بخیلا قال نعم فقیل له أیکون المؤمن کذابا قال لا.‘‘ یعنی کیا مومن بزدل ہوتا ہے؟ حضور نے فرمایا ہاں (ہوسکتا ہے) پھر عرض کیا گیا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ فرمایا ہاں (ہوسکتاہے) پھر پوچھا گیا کیا مومن کذّاب یعنی جھوٹا ہوتا ہے؟ فرمایا نہیں۔ (الموطأ، کتاب الکلام، باب ماجاء في الصدق والکذب، الحدیث:1913، جلد:2، صفحہ:468)

یعنی مسلمان میں بُزدلی یا کنجوسی فِطری طور پر ہو سکتی ہے کہ یہ عُیوب اِیمان کے خِلاف نہیں، لہذا مؤمن میں ہو سکتی ہیں۔ (ہاں!) مگر بڑا جھوٹا، ہمیشہ کا جھوٹا ہونا، جھوٹ کا عادی ہونا مؤمن ہونے کی شان کے خِلاف ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرحِ مشکوٰۃ المصابیح، جلد:6، صفحہ:477، تحت الحدیث:4862)

مزاق میں بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں بلکہ گناہ ہے،چنانچہ امام احمد و ترمذی و ابو داؤد و دارمی نے بروایت بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت کی، کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:’’ويل لمن يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له.“ یعنی ہلاکت ہے اس کے لیے جو بات کرتا ہے اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے۔ (سنن الترمذي، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمة لیضحک الناس، الحدیث:2322، جلد:4، صفحة:142)

بیہقی نے ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:”ان العبد ليقول الكلمة لا يقولها إلا ليضحك به الناس يهوي بها ابعد مما بين السماء والارض وانه ليزل عن لسانه أشد مما يزل عن قدمه.“ یعنی بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی قدم سے لغز ش ہوتی ہے۔ (شعب الإیمان، باب في حفظ اللسان، الحدیث:4832، جلد:4، صفحة:213)

اس حدیث پاک کے تحت ”مرآۃ المناجیح“ میں ہے:”اس فرمان عالی سے آج کل کے ڈوم مراثی مسخرے،بھانڈ بھنڈیلے عبرت پکڑیں جو لوگوں کو ہنسا کر گزارہ کرتے ہیں جن کی کمائی صرف لوگوں کی ہنسائی ہے۔ اس حصۂ حدیث:”زبان کی وجہ سے جتنی لَغْزِش۔۔۔“ کے تحت ہے:”ں کی پھسلن سے زبان کی لغزش زیادہ خطرناک ہے کہ پاؤ ں کی لغزش سے بدن چوٹ کھاتا ہے مگر زبان کی لغزش سے دل، جان، ایمان زخمی ہوتا ہے۔ زبان کی لغزش سے ہی قتل و خون ہوتے ہیں، زبان ہی کی لغزش سے انسان کا فرو بے دین ہو جاتا ہے ابلیس اپنی زبان کی لغزش کی سزا اب تک پا رہا ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:6، صفحہ:463، تحت الحدیث:4835، ملخصاً)

امام احمد نے ابوہریرہ رضی االلہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:’’بندہ پورا مومن نہیں ہوتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ کو نہ چھوڑ دے اور جھگڑا کرنا نہ چھوڑ دے، اگرچہ سچا ہو۔‘‘ (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث:8638، جلد:3، صفحہ:268)

مزاق میں بھی مسلمان کو ڈرانا جائز نہیں، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”عن عبد الرحمٰن بن أبي ليلى، قال:حدثنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم:”أنهم كانوا يسيرون مع النبي صلى الله عليه وسلم، فنام رجل منهم، فانطلق بعضهم إلى حبل معه، فأخذه ففزع، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يحل لمسلم أن يروع مسلماً.“ یعنی عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنهم نے بیان کیا کہ وہ حضرات نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، اس دوران ان میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سو گئے تو ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ ان کے پاس رکھی اپنی ایک رسّی لینے گئے، جس سے وہ گھبرا گئے (یعنی اس سونے والے کے پاس رسّی تھی یا اس جانے والے کے پاس تھی اس نے یہ رسّی سانپ کی طرح اس پر ڈالی وہ سونے والے اسے سانپ سمجھ کر ڈر گئے اور لوگ ہنس پڑے) تو سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا:کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کو ڈرائے۔ (سنن أبي داؤد، كتاب الأدب، باب من يأخذ الشئ من مزاح، جلد:4، صفحة:391، الحديث:5004)

حَکِیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان علیه رحمة الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:”جب رسول اللہ ﷺ نے یہ سُنا تو یہ فرمایا، اس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہَنسی مَزاق میں کسی کو ڈرانا جائز نہیں کہ کبھی اس سے ڈرنے والا مر جاتا ہے یا بیمار پڑ جاتا ہے، خوش طَبْعی وہ چاہئے جس سے سب کا دل خوش ہو جائے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی دل لگی ہنسی کسی سے کرنی جس سے اس کو تکلیف پہنچے مثلاً کسی کو بے وقوف بنانا، اس کی چَیت لگانا وغیرہ حرام ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرحِ مشکوۃ المصابیح، جلد:5، صفحہ:270)

ایک اور روایت میں ہے:”حدثني عمرو بن يحي عن أبيه عن جده أبي حسن وكان بدريا عقبيا قال:كنت جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام رجل ونسي نعليه، فأخذهما رجل فوضعهما تحته، فرجع الرجل فقال:نعلي، فقال القوم:ما رأيناهما، فقال رجل هوذه، فقال:«كيف برعوة المؤمن؟ » فقال:يا رسول الله إنما صنعته لاعباً، فقال:«كيف برعوة المؤمن؟ »مرتين أو ثلاثاً.“ یعنی حضرت سیّدُنا ابو الحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ فرماتے ہیں:”(ہم بارگاہِ مصطفیٰ میں حاضر تھے کہ محفل سے) ایک شخص اُٹھ کھڑا ہوا مگر اپنے جوتے وہیں بھول گیا، ایک شخص نے لے کر اپنے نیچے رکھ لئے، وہ شخص واپس آیا اور پوچھنے لگا: ’’میرے جوتے تو نہیں دیکھے؟ ‘‘ لوگوں نے کہا:’’ہم نے نہیں دیکھے۔‘‘ تو چھپانے والا کہنے لگا: ’’یہ پڑے ہیں۔‘‘ اس پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کو ڈرانا کیسا؟ ‘‘ اس نے عرض کی: ’’یارسول اللہ ﷺ! میں نے از راہِ مزاح ایسا کیا تھا۔‘‘ تو آپ ﷺ نے دو یا تین بار ارشاد فرمایا: ’’مومن کو ڈرانا کیسا؟۔ (المعجم الکبیر، جلد:22، صفحہ:395، الحدیث:980)

اپریل فول میں بلا وجہ دوسرے مسلمان کو ایذا دی جاتی ہے اور مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”﴿وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا.﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔ (القرآن الکریم، سورۃ الْأَحْزَاب، آیت:58)

سیّدِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: ’’مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَ مَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ.‘‘ یعنی جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔(یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔)“ (معجم الاوسط، باب السین، من اسمه: سعید، 2/386، الحدیث:3607)

والله تعالیٰ اعلم باالصواب 
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.