”قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی الله کا تحقیقی جواب“
از: محمد ارشد القادری امبیڈ کرنگر
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے بر بنائے امر فرمایا تھا: ” میرا یہ قدم خدا کے ہر ولی کی گردن پر ہے۔“ بعض حضرات نے کہا اس عموم میں اگلے پچھلے تمام اولیائے کرام شامل نہیں ۔ اس لیے کہ اگلے اولیا میں صحابہ کرام بھی ہیں جن کی افضلیت سب پر مسلم ہے، اور متأخرین میں سیدنا امام مہدی ہیں جن کے متعلق حضور کی بشارت ہے۔ لہذا ارشاد مذکور کا مطلب یہ ہے کہ صرف زمانہ غوثیت کے ہر ولی کی گردن پر قدم غوث اعظم ہے۔اس شبہہ کا جواب اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے حاشیہ شامی ( جد الممتار علی رد المحتار) میں فارسی زبان میں دیا جس کا ترجمہ خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی نے کیا ہے ۔
:فارسی ترجمہ : اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان لکھتے ہیں
حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد " قدمى هذه على رقبة كل ولي الله "( میرا یہ قدم خدا کے ہر ولی کی گردن پر ہے ) کے متعلق فائلیںن کا کہنا کہ اس ارشاد ہدایت بنیاد کو صرف اسی زمانہ مبارک کے اولیا کے ساتھ خاص کرنا ضروری ہے۔ اور ارشاد عالی کے معنی یہ ہیں کہ ” میرے زمانہ کے ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ اس ارشاد کو تمام اولیائے متقدمین و متاخرین کے لیے عام کرنا جائز نہیں اور یہ معنی لینا درست نہیں کہ ” اولیاے متقدمین و متأخرین میں سے ہر ایک کی گردن پر میرا قدم ہے۔ اس لیے کہ متقدمین میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ہیں۔ اور تمام اولیائے امت پر ان کی تفضیل (انھیں سب سے افضل قرار دیا جانا قطعی طور پر ثابت ہے۔ اور متأخرین میں حضرت سیدنا امام مہدی ہیں جن کی تشریف آوری کی خبر مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دی، اور انھیں خلیفۃ اللہ کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ یہ ان ساری باتوں کا خلاصہ ہے جو اُس قائل نے کہیں۔
جواب: أقو و باللہ التوفیق.......
وہ تمام حضرات جن کے اتفاق سے اجماع قطعی منعقد ہوتا ہے اس مسئلہ پر اجماع رکھتے ہیں کہ کلام کو اس کے ظاہر پر محمول کر ناضروری ہے جب تک ظاہر سے پھیرنے والی کوئی دلیل نہ ہو۔“
اور تاویل بے دلیل قابل اعتبار نہیں، ورنہ تمام نصوص اور خصوصاً عموم رکھنے والے اقوال سے امان اٹھ جائے، کیوں کہ بے دلیل تاویل تو ہر نص میں ہو سکتی ہے ، اور اسی طرح ہر عام کو خاص کر دینا مکن ہے۔
وہ تخصیص جو ضرورتاً ثابت ہو بس قدر ضرورت تک محدود رہے گی ، اسے جاے ضرورت سے آگے بڑھانا ، حد سے تجاوز اور تعدی ہے۔
عقلی و عرفی تخصیصات اور ایسے ہی ہر وہ تخصیص جو اس حد تک ذہنوں میں جمی ہو کہ اس کے اظہار و بیان کی قطعا حاجت نہ ہو یہ سب شمار تخصیص سے خارج ہوں گی، یہاں تک کہ وہ عام جس سے کوئی فرد خاص نہ کیا گیا ہو قطعی ہوتا ہے ، اور جس عام سے تخصیص کر دی گئی ہو ظنی ہو جاتا ہے، مگر ایسی بے ضرورت تخصیص عام غیر مخصوص منہ البعض کو عام مخصوص منه البعض بناکر درجہ قطعیت سے نیچے (مرتبہ ظنیت میں) اتارنے کے قابل ہرگز نہ ہوگی ۔ ان تمام باتوں پر فن اصول میں برہان قائم ہو چکی ہے۔
اعلی حضرت فرماتے ہیں جب یہ ثابت ہو گیا تو ہم کہتے ہیں جس طرح امتیوں کے باہم ایک دوسرے سے افضل ہونے کا ذکر ہو تو انبیاے کرام علیہم السلام بے تخصیص مخصوص ہوں گے (اور کسی امتی کے سب سے افضل ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دوسرے امتیوں سے افضل ہے، نہ یہ کہ حضرات انبیا سے بھی افضل ہے۔ ) اسی طرح جب اولیا اللہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی درجات کے تفاوت کا بیان ہو تو حضرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم بے استثنا مستثنی رہیں گے ۔ اور کسی ولی کی افضلیت کا یہی مطلب ہوگا کہ وہ دوسرے تمام اولیا سے افضل ہے، نہ یہ کہ صحابہ کرام سے بھی افضل ہے ۔ اس لیے کہ مومنین کے عقیدے میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ صحابہ کرام تمام امت سے افضل ہیں، اور ان کے بعد کے کسی شخص کو ان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ان ہی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم کے رنگ میں خیار تابعین رحمتہ اللہ علیہم اجمعین بھی مستثنی رہیں گے اس لیے کہ حضور علیہ الصلاۃ والتسلیم کا یہ ارشاد مشہور ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر وہ لوگ جو میرے زمانے والوں سے متصل ہیں پھر وہ جو ان سے متصل ہیں۔
اور سارا جھگڑا اس سے ختم ہو جاتا ہے جو علمائے ہند کے شیخ الشیوخ، شیخ محقق مولانا عبد الحق دہلوی علیہ الرحمہ نے افادہ فرمایا۔ اللہ ہم پر ان کی برکتوں کا فیضان عام کرے ، اور ان کے علوم وافادات سے ہمیں دونوں جہان میں نفع بخشے ۔ (شیخ محقق کا افادہ یہ ہے کہ عرفا لفظ ” اولیاء اللہ “ اسی طرح عرفا، واصلین ، سالکین اور مشائخ کے الفاظ کا اطلاق صحابہ و تابعین کے علاوہ بزرگوں پر ہوتا ہے۔ بارہا سنا ہو گا کہ یہ ہے اور وہ ہے صحابہ اور تابعین اور اولیاے امت اور علمائے ملت کا مذہب۔ اگر چہ صحابہ و تابعین خود اولیا و علما بلکہ علما و اولیا کے سردار تھے۔“
حاصل بحث یہ کہ جب عرفا اولیا کا اطلاق صحابہ و تابعین پر نہیں ہوتا تو لفظ ”کل ولی اللہ “ سے ان حضرات کو خاص کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ لہذا حضرات صحابہ کا ذکر کر کے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد کی تعمیم ختم کرنے کا عزم اور اس کے عموم کی قطعیت زائل کرنے کا قصد ایک ”ہوس خام“ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
تخصیص سیدنا امام مہدی کا جواب: رہی سیدنا امام مہدی کی بات ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو انھیں دوست رکھنے والوں میں سے بنائے ۔ آمین۔
اعلی حضرت فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں اور میرا رب مجھے بخشے
(1) کسی کو کسی سے افضل قرار دینے کا معاملہ سمعی ، اور کسی نص معتبر کے سننے پر موقوف ہے، عقل محض کو اس میں دخل نہیں ، کیوں کہ افضلیت کا دار و مدار قرب خداوندی کی خصوصیت پر ہے، اور عقل اس کے ادراک سے قاصر ہے، جب تک کسی دلیل سمعی کا سہارا نہ ہو۔ اور سیدنا امام مہدی کے سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سےافضل ہونے پر کوئی دلیل قائم نہیں۔ جو ثبوتِ دلیل کا مدعی ہو دلیل پیش کرے۔ اور جب دلیل نہیں تو افضلیت کا ثبوت بھی نہیں ۔
(۲) اور یہ بات کہ مصطفے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آمد سیدنا امام مہدی کی بشارت دی تو میں کہتا ہوں ، آمد حضرت غوث رضی اللہ تعالی عنہ کی بھی بشارت دی ہے ۔ حدیث صحیح میں ہے: سید نا علی مرتضی اور سیدتنا بتول زہرا کرم اللہ تعالیٰ وجہہما سے فرمایا: تم دونوں سے بہت سی طیب و پاکیزہ اولاد پیدا فرمائے گا۔ حضور غوث اعظم بھی ان کی اولاد طیبہ میں ہیں، لہذا یہ بشارت انھیں بھی شامل ہوگی۔
(۳) شاید قائل کی مراد یہ ہے کہ سیدنا امام مہدی کے نام کی تخصیص اور حالات کی تفصیل کے ساتھ سرکار نے بشارت دی ہے۔ اور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تفصیلی بشارت نہیں ، تو میں کہتا ہوں:
بشارت تفصیلی بھی بشر بہ (جس کے بارے میں بشارت دی گئی ہے اس کو دوسروں سے افضل قرار دینے کی موجب نہیں۔ پہلے کی آسمانی کتابوں میں حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خلافت سے متعلق اُن کے دوسرے فضائل و مناقب کے ذکر کے ساتھ بشارت آئی ہے جیسا کہ کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ مگر یہ تفصیلی بشارت ہر گز سید نا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی علیہ کو ہزاروں ان مہاجرین و انصار صحابہ کرام سے افضل قرار دینے کا باعث نہیں جن کا تذکرہ کتب سابقہ میں کسی جگہ بھی اُن کے نام و نشان کی خصوصیت کے ساتھ سننے میں نہیں آیا۔
(مقالات مصباحی)
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

