افضلیت یار غار، ہمسر مزار صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ


افضلیت یار غار، ہمسر مزار صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ


افضلیت یار غار، ہمسر مزار صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆


تمام انسان آدم علیہ السَّلام کی اولاد ہیں لیکن یہ سب برابر نہیں ہیں کیونکہ اللہ پاک نے کسی کو ایمان کی دولت عطا فرما کر دوسروں سے ممتاز فرمایا اور پھر اہلِ ایمان میں کسی کو علم تو کسی کو تقویٰ و پرہیز گاری دے کر دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی۔ فضیلت کا یہ سلسلہ بڑھ کر افضلیت کو جا پہنچتا ہے اسی لئے اللہ پاک نے مختلف مقبول بندوں کو مختلف اعتبار سے افضلیت سے نوازا ہے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اللہ پاک نے دیگر انبیا کے اصحاب سے افضل بنایا۔ صحابۂ کرام میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس بات پر اُمّت کا اجماع ہے کہ خلفائے راشدین تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ انبیاء و مرسلین کے بعد تمام انسانوں میں سب سے افضل ہستی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت ، فضیلتِ مطلقہ ہے اور اس اعتبار سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد انسانوں میں سے جو قرب و وجاہت ، عزت و کرامت ، علوِ شان و رفعتِ مکان حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے ، کسی اور کو حاصل نہیں ، حسب نسب یا خلافت کے اعتبار سے یہ فضیلت نہیں ہے۔


:آپ کی افضلیت قرآن واحادیث سے ثابت ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰى“ ترجمہ:اور بہت جلد اس سے دُور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار ۔ جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو۔ (اَلَّيْل، آیت:17، 18)
امام علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’تما م مفسرین کے نزدیک اس آیت میں سب سے بڑے پرہیزگار سے مراد حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔ (خازن، واللّیل، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴ / ۳۸۴)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’رآني النبي (صلى اللہ عليه وسلم) وأنا أمشي أمام أبي بكر الصديق فقال يا أبا الدرداء أتمشي أمام من هو خير منك في الدنيا والآخرة ما طلعت الشمس ولا غربت على أحد بعد النبيين والمرسلين أفضل من أبي بكر ‘‘ ترجمہ : نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ، تو ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! کیا تم ایسے شخص کے آگے چل رہے تھے ، جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے ۔ انبیاء و مرسلین کے علاوہ کسی بھی ایسے شخص پر سورج طلوع و غروب نہیں ہوا ، جو ابوبکر سے افضل ہو ۔( تاریخ دمشق لابن عساکر ، جلد 30 ، صفحہ 209 ، مطبوعہ دار الفکر ، بیروت )

امام دیلمی رحمۃ اللہ علیہ ( سالِ وفات 509 ھ ) حدیثِ پاک نقل کرتے ہیں کہ سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا : ’’أتاني جبريل قلت يا جبريل من يهاجر معي قال أبو بكر وهو يلي أمر أمتك من بعدك وهو أفضل أمتك‘‘ ترجمہ : میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے ، تو میں نے کہا : اے جبریل ! میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا ؟ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا : ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، جو آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے بعد آپ کی امت کے والی ہوں گے اور آپ کی امت میں سے سب سے افضل ہیں ۔( الفردوس بماثور الخطاب ، جلد 1 ، صفحہ 404 ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت )

صحابی ابن صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں:” کنانقول ورسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حی افضل ھذہ الامة بعدنبیھاصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابوبکروعمروعثمان ویسمع ذلک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فلاینکرہ“ترجمہ:ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں کہاکرتے تھے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعداس امت میں حضرت ابوبکر ، پھرحضرت عمر ، پھرحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین افضل ہیں، پس یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سنتے اورآپ انکار نہ فرماتے۔(المعجم الکبیر، جلد12،صفحہ285،مکتبۃ العلوم و الحکم ، الموصل)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمدبن حنفیہ تابعی ہیں ، آپ فرماتے ہیں : ’’ قلت لابی ای الناس خیربعدالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ؟ قال ابوبکر قلت ثم من ؟ قال عمر“ترجمہ:میں نے اپنے والدحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھاکہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعدتمام لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں۔میں نے کہاپھرکون افضل ہیں؟ توآپ نے جواب دیاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ افضل ہیں۔(صحیح البخاری،باب فضل ابی بکر،جلد1، صفحہ518، مطبوعہ کراچی)

امام اعظم امام ابو حنیفہ ( تابعی ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”افضل النا س بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ثم علی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعدتمام لوگوں میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، پھرعمربن خطاب ، پھرعثمان بن عفان ، پھرعلی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین افضل ہیں۔( فقہ اکبر مع شرح،صفحہ61،مطبوعہ کراچی)

حضرت میمون بن مہران رضی اللہ عنہ تابعی ہیں ، آپ سے پوچھا گیا کہ حضرت علی افضل ہیں یا حضرت ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہم ) ؟ تو یہ سنتے ہی آپ کا جسم لرز اٹھا اور آپ کے ہاتھ سے عصا گِر گیا اور فرمایا : ’’ما كنت أظن أن أبقى إلى زمان يعدل بهما‘‘ ترجمہ : مجھے گمان نہ تھا کہ میں ایسے زمانے تک زندہ رہوں گا ، جس میں لوگ حضرت ابوبکر و عمر کے برابر کسی دوسرے کو ٹھہرائیں گے ۔( تاریخ الخلفاء ، الخلیفۃ الاول ابوبکر الصدیق ، صفحہ 31 ، مطبوعہ عرب شریف )

صحابہ و تابعین کا افضلیتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اجماع تھا ، جیسا کہ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ ( سالِ وفات 923 ھ ) فرماتے ہیں:”الافضل بعدالانبیاء علیھم الصلوة والسلام ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ وقد اطبق السلف علی انہ افضل الامة ۔حکی الشافعی وغیرہ اجماع الصحابة والتابعین علی ذلک“ ترجمہ:انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام کے بعدابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ افضل ہیں اور سلف نے ان کے افضل الامت ہونے پراتفاق کیا۔امام شافعی وغیرہ نے اس مسئلہ پرصحابہ اورتابعین کااجماع نقل کیا۔(ارشادالساری ،باب فضل ابی بکر بعدالنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ،جلد8،صفحہ147،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ( سالِ وفات 676 ھ ) فرماتے ہیں:’’وأجمع أهل السُنة على أن أفضلهم على الإطلاق أبو بكر، ثم عمر‘‘ ترجمہ : اہلسنت و جماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ میں علی الاطلاق سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں ۔( تھذیب الاسماء و اللغات ، جلد 1 ، صفحہ 15، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت )

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن’’ فتاوی رضویہ ‘‘شریف میں فرماتے ہیں :’’اہل سنت وجماعت نصرہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکۃ ورسل وانبیائے بشر صلوات اللہ تعالی وتسلیماتہ علیہم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم تمام مخلوق ِالہٰی سے افضل ہیں ، تمام امم اولین وآخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت ووجاہت وقبول وکرامت وقرب وولایت کو نہیں پہنچتا۔ { وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ }یعنی فضل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم پھر عثمان غنی ، پھر مولی علی صلی اللہ تعالی علی سیدہم، ومولا ہم وآلہ وعلیہم وبارک وسلم۔ اس مذہبِ مہذب پر آیاتِ قرآنِ عظیم واحادیث ِکثیرہ ٔ حضورپرنور نبی کریم علیہ وعلی آلہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم وارشادات جلیلۂ واضحۂ امیر المؤمنین مولی علی مرتضی ودیگر ائمئہ اہلبیت طہارت وار تضاواجماعِ صحابۂ کرام وتابعین عظام وتصریحاتِ اولیائے امت وعلمائے امت رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے وہ دلائل باہر ہ وحجج قاہر ہ ہیں جن کا استیعاب نہیں ہوسکتا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:28، صفحہ:478)

اللہ تعالیٰ ہمیں خلفائے راشدین کی سچی پکی محبت عطا فرمائے اور کسی صحابی کی ادنی سی توہین سے محفوظ فرمائے اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرمائے آمین


----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

امام سخاوی اور مسئلہ افضلیت کی اہمیت دلائل و شواہد کی روشنی میں اس کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.